<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں معمولی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274294/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں جمعے کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستان روپیہ تنزلی کا شکار رہا اور اس کی قدر میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری دن کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 283.97 روپے پر بند ہوا یعنی اس کی قدر میں 11 پیسے کی کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو مقامی کرنسی 283.86 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پرامریکی ڈالر نے جمعہ کو اپنی قدر میں اضافہ برقرار رکھا  جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیکس کٹ بل آخری مرحلے سے منظور ہوگیا اور دنیا بھر کے ممالک پر امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے آغاز میں یورو اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں کئی سال کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد، امریکی ڈالر کی قدر میں تیزی آئی، جب مضبوط امریکی روزگار کے اعداد و شمار نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کو مؤخر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کا کیوی ڈالر جو عموماً سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی رغبت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، 0.2 فیصد بڑھ کر 0.608 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکنز کے زیرِ کنٹرول ایوانِ نمائندگان نے ٹرمپ کے اخراجات اور ٹیکس کٹوتیوں کے منصوبے، جسے انہوں نے ایک، بڑا، خوبصورت بل قرار دیا، معمولی اکثریت سے منظور کر لیا۔ اس بل سے ملک کے 36.2 کھرب ڈالر کے قرضے میں مزید 3.4 کھرب ڈالر اضافے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں یومِ آزادی کی تعطیل کے باعث توجہ اب 9 جولائی کی اُس ڈیڈ لائن کی جانب مبذول ہو گئی ہے،  جب صدر ٹرمپ کے نافذ کردہ وسیع تجارتی محصولات اُن ممالک پر لاگو ہوں گے، جیسے جاپان، جنہوں نے تاحال امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر انڈیکس نے 1973 کے بعد سال کی پہلی ششماہی میں بدترین کارکردگی دکھائی، کیونکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے وسیع تجارتی محصولات کے غیر منظم نفاذ نے امریکی معیشت اور ٹریژری بانڈز کی سلامتی کے بارے میں خدشات کو ہوا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، جمعہ کے روز زیادہ تبدیل نہیں ہوئیں کیونکہ مضبوط روزگار کی مارکیٹ نے امریکی فیڈرل ریزرو کے سود کی شرحوں کو برقرار رکھنے کے امکان کو تقویت دی۔ سرمایہ کار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف ممالک پر مجوزہ محصولات (ٹیرِف) کے منصوبوں کی وضاحت کے بھی منتظر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 1 سینٹ یا 0.01 فیصد بڑھ کر 68.81 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت 3 سینٹ یا 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 67.03 ڈالر پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی یومِ آزادی کی تعطیل کے باعث تجارت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹر بینک مارکیٹ میں جمعے کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستان روپیہ تنزلی کا شکار رہا اور اس کی قدر میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>کاروباری دن کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 283.97 روپے پر بند ہوا یعنی اس کی قدر میں 11 پیسے کی کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو مقامی کرنسی 283.86 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>عالمی سطح پرامریکی ڈالر نے جمعہ کو اپنی قدر میں اضافہ برقرار رکھا  جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیکس کٹ بل آخری مرحلے سے منظور ہوگیا اور دنیا بھر کے ممالک پر امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔</p>
<p>ہفتے کے آغاز میں یورو اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں کئی سال کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد، امریکی ڈالر کی قدر میں تیزی آئی، جب مضبوط امریکی روزگار کے اعداد و شمار نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کو مؤخر کردیا۔</p>
<p>نیوزی لینڈ کا کیوی ڈالر جو عموماً سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی رغبت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، 0.2 فیصد بڑھ کر 0.608 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔</p>
<p>ریپبلکنز کے زیرِ کنٹرول ایوانِ نمائندگان نے ٹرمپ کے اخراجات اور ٹیکس کٹوتیوں کے منصوبے، جسے انہوں نے ایک، بڑا، خوبصورت بل قرار دیا، معمولی اکثریت سے منظور کر لیا۔ اس بل سے ملک کے 36.2 کھرب ڈالر کے قرضے میں مزید 3.4 کھرب ڈالر اضافے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔</p>
<p>امریکہ میں یومِ آزادی کی تعطیل کے باعث توجہ اب 9 جولائی کی اُس ڈیڈ لائن کی جانب مبذول ہو گئی ہے،  جب صدر ٹرمپ کے نافذ کردہ وسیع تجارتی محصولات اُن ممالک پر لاگو ہوں گے، جیسے جاپان، جنہوں نے تاحال امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے نہیں کیے۔</p>
<p>امریکی ڈالر انڈیکس نے 1973 کے بعد سال کی پہلی ششماہی میں بدترین کارکردگی دکھائی، کیونکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے وسیع تجارتی محصولات کے غیر منظم نفاذ نے امریکی معیشت اور ٹریژری بانڈز کی سلامتی کے بارے میں خدشات کو ہوا دی۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، جمعہ کے روز زیادہ تبدیل نہیں ہوئیں کیونکہ مضبوط روزگار کی مارکیٹ نے امریکی فیڈرل ریزرو کے سود کی شرحوں کو برقرار رکھنے کے امکان کو تقویت دی۔ سرمایہ کار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف ممالک پر مجوزہ محصولات (ٹیرِف) کے منصوبوں کی وضاحت کے بھی منتظر تھے۔</p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 1 سینٹ یا 0.01 فیصد بڑھ کر 68.81 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت 3 سینٹ یا 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 67.03 ڈالر پر پہنچ گئی۔</p>
<p>امریکی یومِ آزادی کی تعطیل کے باعث تجارت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274294</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Jul 2025 17:16:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/04120415cf3c3d3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/04120415cf3c3d3.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
