<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:02:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:02:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرِاعظم کا محصولات میں اضافے پر اظہارِ اطمینان، ٹیکس چوری کیخلاف اقدامات کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274242/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعلیٰ ریونیو افسران سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی ٹیکس آمدن میں 42 فیصد اضافے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ آئندہ مالی سال میں کارکردگی میں کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن مہم پر اعلیٰ سطح کے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ٹیکس وصولیوں میں سالانہ 865 ارب روپے کے اضافے کو دہائی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔ اُن کے مطابق یہ نمایاں اضافہ جامع اصلاحات اور سخت نفاذ کے نتیجے میں ممکن ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں یہ اضافہ 8 گنا اضافہ ہے جس کے نتیجے میں وفاقی محصولات کا جی ڈی پی سے تناسب بڑھ کر 11.3 فیصد ہوگیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.5 فیصد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلیٰ بیوروکریٹس اور محصولات کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب بہانوں کا وقت ختم ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی محکمے کو سستی یا کوتاہی کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہم ایک مشن پر ہیں اور ناکامی کوئی آپشن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم جو حکومتی اقتصادی منصوبہ بندی پر عملدرآمد کی ذاتی طور پر نگرانی کررہے ہیں نے زور دیا کہ کہ تمام سرکاری ادارے ایف بی آر کا بھرپور ساتھ دیں اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آئیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کے احترام کے ساتھ  ٹیکس چوروں کے خلاف بلا توقف کارروائی بھی یقینی بنائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہبازشریف نے ایف بی آر کے ڈیجیٹل نیٹ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ صنعتیں جو قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کررہیں، ان کی پیداواری لائنوں کی لازمی ڈیجیٹلائزیشن کی جائے۔ ساتھ ہی ”ٹریک اینڈ ٹریس ڈیجیٹل پروڈکشن سسٹم“ کو ملک بھر میں نافذ کرنے کا حکم دیا تاکہ غیر رجسٹرڈ اور ٹیکس نہ دینے والے شعبوں کو مؤثر نگرانی میں لایا جاسکے۔ یہ نظام اس وقت چینی، تمباکو اور کھاد کے شعبوں میں فعال ہے جسے جلد سیمنٹ اور دیگر اہم صنعتوں تک توسیع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم نے ریٹیل سیکٹر میں پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی ہدایت بھی کی تاکہ غیر رجسٹرڈ لین دین کا خاتمہ کیا جا سکے اور ٹیکس چوری کے خلاف شکنجہ مزید سخت کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کوئی آپشن نہیں بلکہ قومی معیشت کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ غیر رسمی معیشت کا خاتمہ کریں، ہم پرانے نظام یا ذاتی مفادات کے باعث معیشت سے اربوں روپے کے ضیاع کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم شہباز شریف نے اعلیٰ ریونیو افسران سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی ٹیکس آمدن میں 42 فیصد اضافے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ آئندہ مالی سال میں کارکردگی میں کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔</strong></p>
<p>وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن مہم پر اعلیٰ سطح کے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ٹیکس وصولیوں میں سالانہ 865 ارب روپے کے اضافے کو دہائی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔ اُن کے مطابق یہ نمایاں اضافہ جامع اصلاحات اور سخت نفاذ کے نتیجے میں ممکن ہوا۔</p>
<p>حکام کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں یہ اضافہ 8 گنا اضافہ ہے جس کے نتیجے میں وفاقی محصولات کا جی ڈی پی سے تناسب بڑھ کر 11.3 فیصد ہوگیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.5 فیصد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلیٰ بیوروکریٹس اور محصولات کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب بہانوں کا وقت ختم ہوچکا ہے۔</p>
<p>کسی بھی محکمے کو سستی یا کوتاہی کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہم ایک مشن پر ہیں اور ناکامی کوئی آپشن نہیں۔</p>
<p>وزیرِاعظم جو حکومتی اقتصادی منصوبہ بندی پر عملدرآمد کی ذاتی طور پر نگرانی کررہے ہیں نے زور دیا کہ کہ تمام سرکاری ادارے ایف بی آر کا بھرپور ساتھ دیں اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آئیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کے احترام کے ساتھ  ٹیکس چوروں کے خلاف بلا توقف کارروائی بھی یقینی بنائی جائے گی۔</p>
<p>شہبازشریف نے ایف بی آر کے ڈیجیٹل نیٹ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ صنعتیں جو قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کررہیں، ان کی پیداواری لائنوں کی لازمی ڈیجیٹلائزیشن کی جائے۔ ساتھ ہی ”ٹریک اینڈ ٹریس ڈیجیٹل پروڈکشن سسٹم“ کو ملک بھر میں نافذ کرنے کا حکم دیا تاکہ غیر رجسٹرڈ اور ٹیکس نہ دینے والے شعبوں کو مؤثر نگرانی میں لایا جاسکے۔ یہ نظام اس وقت چینی، تمباکو اور کھاد کے شعبوں میں فعال ہے جسے جلد سیمنٹ اور دیگر اہم صنعتوں تک توسیع دی جائے گی۔</p>
<p>وزیرِ اعظم نے ریٹیل سیکٹر میں پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی ہدایت بھی کی تاکہ غیر رجسٹرڈ لین دین کا خاتمہ کیا جا سکے اور ٹیکس چوری کے خلاف شکنجہ مزید سخت کیا جاسکے۔</p>
<p>وزیرِاعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کوئی آپشن نہیں بلکہ قومی معیشت کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ غیر رسمی معیشت کا خاتمہ کریں، ہم پرانے نظام یا ذاتی مفادات کے باعث معیشت سے اربوں روپے کے ضیاع کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274242</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Jul 2025 10:11:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/030900317cb2aa1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/030900317cb2aa1.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
