<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرنس آئل پر پیٹرولیم لیوی، او سی اے سی کی ایس آئی ایف سی سے مداخلت کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274238/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے فرنس آئل پر حکومت کی جانب سے 82,077 روپے فی میٹرک ٹن پیٹرولیم لیوی عائد کیے جانے کے فیصلے پر اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس اآئی ایف سی) سے مداخلت کی درخواست کی ہے ۔ یہ بات بزنس ریکارڈر کو بدھ کے روز معلوم ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم جولائی 2025 کو ایس آئی ایف سی کو ارسال کردہ خط میں او سی اے سی نے لکھا ہے کہ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل اور اس کی رکن کمپنیوں کی جانب سے ہم فرنس آئل پر 82,077 روپے فی میٹرک ٹن پیٹرولیم لیوی کے نفاذ پر گہری تشویش اور شدید احتجاج کا اظہار کرتے ہیں، جو یکم جولائی 2025 سے فنانس ایکٹ 2025 کے تحت نافذ العمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ لیوی پہلے سے نافذ 2,665 روپے فی میٹرک ٹن کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) کے علاوہ ہے، اور ملک میں مجموعی کاروباری ماحول کو شدید خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک علیحدہ بیان میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کے چیئرمین عادل خٹک نے کہا کہ فرنس آئل (ایف او) پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور پیٹرولیم لیوی کا نفاذ اس کی قیمت میں 80 فیصد سے زائد اضافہ کر دے گا، جس سے متعدد صنعتیں، بحری جہاز رانی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے (آئی پی پیز) مالی طور پر غیر موثر ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہر معاملے میں آئی ایم ایف کو موردِ الزام ٹھہرانا ایک عام روایت بن چکی ہے، لیکن اس فیصلے کے لیے دیے گئے دو ممکنہ جواز، یعنی کاربن اخراج میں کمی یا محصولات کی کمی کو پورا کرنا، اس غیر دانشمندانہ فیصلے کو جائز قرار نہیں دیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عادل خٹک نے مزید کہا کہ اگر ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے صنعت و بجلی کی پیداوار قربان کرنا مقصود ہے، تو کیا اگلا نشانہ تھر کا کوئلہ ہوگا؟ کیونکہ بریٹن ووڈ ادارے، یعنی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک — تو کوئلے کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی (پی ایل/ پی ڈی ایل) سے جو آمدن متوقع ہے، وہ بھی ”دیوانے کا خواب“ بن جائے گی کیونکہ قیمتوں میں شدید اضافے کے باعث مقامی فروخت تقریباً ختم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ ریفائنریز، جو اپنی تمام  فرنس آئل پیداوار برآمد کرنے پر مجبور ہوں گی، انہیں بھاری نقصان کا سامنا ہوگا، کیونکہ نہ صرف لاجسٹکس کی لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ برآمدی نرخ بھی کم ہوں گے۔ یہ سب کچھ ان کی اپ گریڈیشن منصوبوں کو مزید پیچھے دھکیل دے گا، جو پہلے ہی سیلز ٹیکس کے مستقل حل نہ ہونے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں، باوجود اس کے کہ اس حوالے سے متعدد اجلاس اور یقین دہانیاں ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہم وزیر پیٹرولیم سے تعاون کی توقع رکھتے ہیں، جنہوں نے قلیل مدت میں نہ صرف چیلنجز کو سمجھا بلکہ ان کا بھرپور سامنا بھی کیا۔ ہمیں یہ بھی امید ہے کہ ایس آئی ایف سی اس مسئلے میں موثر کردار ادا کرے گا، تاکہ فرنس آئل پر عائد پیٹرولیم لیوی کو واپس لیا جا سکے اور سیلز ٹیکس کے مسئلے کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکے، جو 6 ارب ڈالر کی ریفائنری اپ گریڈیشن سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ فرنس آئل ایک غیر ضابطہ شدہ (ڈی ریگولیٹڈ) پراڈکٹ ہے، جس کی قیمت مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق طے پاتی ہے اور اسے بنیادی طور پر ملکی صنعت کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی اے سی نے اپنے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ اتنی بھاری مالی ذمہ داری کا نفاذ مختلف کاروباری شعبوں پر منفی اور دور رس اثرات ڈالے گا، ان کے وجود اور دیرپا استحکام کو خطرے میں ڈال دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام حکومتِ پاکستان کے اس دعوے کے بھی منافی ہے کہ وہ مقامی صنعت کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اس اقدام سے محصولات میں اضافہ تو دور کی بات، امکان ہے کہ فرنس آئل کی ملکی فروخت ہی ختم ہو جائے گی، جس سے نہ صرف سیلز ٹیکس کی آمدن کم ہوگی بلکہ ہماری صنعتی مسابقت بھی متاثر ہوگی۔ علاوہ ازیں، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے ذریعے جن محصولات کی توقع کی جا رہی ہے، وہ بھی پوری نہیں ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں مزید کہا گیا کہ پیٹرولیم لیوی (پی ایل) اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) کا نفاذ ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ کرے گا، اور اس کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) سے ہونے والی ازسرِ نو مذاکرات سے حاصل ہونے والے مالی فوائد بھی ضائع ہو جائیں گے جبکہ حکومت پر گنجائش کی ادائیگیوں (کیپسٹی پیمنٹ) کی ذمہ داری برقرار رہے گی، یوں قومی مالیات پر بوجھ تو بڑھے گا، مگر کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی اے سی نے کہا ہے کہ مندرجہ بالا صورتِ حال کے پیشِ نظر، ہم ایس آئی ایف سی سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری مداخلت کرے اور فرنس آئل پر عائد پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے فیصلے کو واپس لینے کی سفارش کرے۔ یہ اقدام پالیسی میں تسلسل کی بحالی، معیشت کے اہم شعبوں کی معاونت اور منصفانہ و پائیدار اقتصادی ترقی کے اصولوں کی پاسداری کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے فرنس آئل پر حکومت کی جانب سے 82,077 روپے فی میٹرک ٹن پیٹرولیم لیوی عائد کیے جانے کے فیصلے پر اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس اآئی ایف سی) سے مداخلت کی درخواست کی ہے ۔ یہ بات بزنس ریکارڈر کو بدھ کے روز معلوم ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>یکم جولائی 2025 کو ایس آئی ایف سی کو ارسال کردہ خط میں او سی اے سی نے لکھا ہے کہ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل اور اس کی رکن کمپنیوں کی جانب سے ہم فرنس آئل پر 82,077 روپے فی میٹرک ٹن پیٹرولیم لیوی کے نفاذ پر گہری تشویش اور شدید احتجاج کا اظہار کرتے ہیں، جو یکم جولائی 2025 سے فنانس ایکٹ 2025 کے تحت نافذ العمل ہے۔</p>
<p>خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ لیوی پہلے سے نافذ 2,665 روپے فی میٹرک ٹن کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) کے علاوہ ہے، اور ملک میں مجموعی کاروباری ماحول کو شدید خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔</p>
<p>ایک علیحدہ بیان میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کے چیئرمین عادل خٹک نے کہا کہ فرنس آئل (ایف او) پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور پیٹرولیم لیوی کا نفاذ اس کی قیمت میں 80 فیصد سے زائد اضافہ کر دے گا، جس سے متعدد صنعتیں، بحری جہاز رانی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے (آئی پی پیز) مالی طور پر غیر موثر ہو جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہر معاملے میں آئی ایم ایف کو موردِ الزام ٹھہرانا ایک عام روایت بن چکی ہے، لیکن اس فیصلے کے لیے دیے گئے دو ممکنہ جواز، یعنی کاربن اخراج میں کمی یا محصولات کی کمی کو پورا کرنا، اس غیر دانشمندانہ فیصلے کو جائز قرار نہیں دیتے۔</p>
<p>عادل خٹک نے مزید کہا کہ اگر ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے صنعت و بجلی کی پیداوار قربان کرنا مقصود ہے، تو کیا اگلا نشانہ تھر کا کوئلہ ہوگا؟ کیونکہ بریٹن ووڈ ادارے، یعنی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک — تو کوئلے کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی (پی ایل/ پی ڈی ایل) سے جو آمدن متوقع ہے، وہ بھی ”دیوانے کا خواب“ بن جائے گی کیونکہ قیمتوں میں شدید اضافے کے باعث مقامی فروخت تقریباً ختم ہو جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ ریفائنریز، جو اپنی تمام  فرنس آئل پیداوار برآمد کرنے پر مجبور ہوں گی، انہیں بھاری نقصان کا سامنا ہوگا، کیونکہ نہ صرف لاجسٹکس کی لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ برآمدی نرخ بھی کم ہوں گے۔ یہ سب کچھ ان کی اپ گریڈیشن منصوبوں کو مزید پیچھے دھکیل دے گا، جو پہلے ہی سیلز ٹیکس کے مستقل حل نہ ہونے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں، باوجود اس کے کہ اس حوالے سے متعدد اجلاس اور یقین دہانیاں ہو چکی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہم وزیر پیٹرولیم سے تعاون کی توقع رکھتے ہیں، جنہوں نے قلیل مدت میں نہ صرف چیلنجز کو سمجھا بلکہ ان کا بھرپور سامنا بھی کیا۔ ہمیں یہ بھی امید ہے کہ ایس آئی ایف سی اس مسئلے میں موثر کردار ادا کرے گا، تاکہ فرنس آئل پر عائد پیٹرولیم لیوی کو واپس لیا جا سکے اور سیلز ٹیکس کے مسئلے کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکے، جو 6 ارب ڈالر کی ریفائنری اپ گریڈیشن سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ فرنس آئل ایک غیر ضابطہ شدہ (ڈی ریگولیٹڈ) پراڈکٹ ہے، جس کی قیمت مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق طے پاتی ہے اور اسے بنیادی طور پر ملکی صنعت کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>او سی اے سی نے اپنے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ اتنی بھاری مالی ذمہ داری کا نفاذ مختلف کاروباری شعبوں پر منفی اور دور رس اثرات ڈالے گا، ان کے وجود اور دیرپا استحکام کو خطرے میں ڈال دے گا۔</p>
<p>خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام حکومتِ پاکستان کے اس دعوے کے بھی منافی ہے کہ وہ مقامی صنعت کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اس اقدام سے محصولات میں اضافہ تو دور کی بات، امکان ہے کہ فرنس آئل کی ملکی فروخت ہی ختم ہو جائے گی، جس سے نہ صرف سیلز ٹیکس کی آمدن کم ہوگی بلکہ ہماری صنعتی مسابقت بھی متاثر ہوگی۔ علاوہ ازیں، پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے ذریعے جن محصولات کی توقع کی جا رہی ہے، وہ بھی پوری نہیں ہو سکے گی۔</p>
<p>خط میں مزید کہا گیا کہ پیٹرولیم لیوی (پی ایل) اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) کا نفاذ ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ کرے گا، اور اس کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) سے ہونے والی ازسرِ نو مذاکرات سے حاصل ہونے والے مالی فوائد بھی ضائع ہو جائیں گے جبکہ حکومت پر گنجائش کی ادائیگیوں (کیپسٹی پیمنٹ) کی ذمہ داری برقرار رہے گی، یوں قومی مالیات پر بوجھ تو بڑھے گا، مگر کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔</p>
<p>او سی اے سی نے کہا ہے کہ مندرجہ بالا صورتِ حال کے پیشِ نظر، ہم ایس آئی ایف سی سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری مداخلت کرے اور فرنس آئل پر عائد پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے فیصلے کو واپس لینے کی سفارش کرے۔ یہ اقدام پالیسی میں تسلسل کی بحالی، معیشت کے اہم شعبوں کی معاونت اور منصفانہ و پائیدار اقتصادی ترقی کے اصولوں کی پاسداری کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274238</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Jul 2025 22:15:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/0221554747a5452.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/0221554747a5452.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
