<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:13:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:13:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دواسازی شعبے میں 1.13 ارب روپے کے غیر مسابقتی معاہدے پر 2 کمپنیاں قصوروار قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274237/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ دو کمپنیوں، یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز پاکستان لمیٹڈ (یو ڈی پی ایل) اور انٹرنیشنل برانڈز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (آئی بی ایل)، کو 1.13 ارب روپے کے انسداد مسابقت معاہدے میں ملوث پاتے ہوئے قصوروار قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے یو پی ڈی ایل اور آئی بی ایل پر کل 42 ملین روپے جرمانہ عائد کیا ہے کیونکہ انہوں نے ایک غیر مسابقتی معاہدہ کیا اور اس پر عمل درآمد کیا، جو کہ 2010 کے کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے تفصیلی حکم میں کہا گیا ہے کہ دونوں کمپنیوں نے ایسا پابند معاہدہ کیا جس کے تحت یو پی ڈی ایل کو تین سال تک پاکستان میں انسانی دوا سازی مصنوعات کی تقسیم کے بازار میں داخل ہونے سے روکا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی کے بیان کے مطابق  آئی بی ایل نے بدلے میں یو پی ڈی ایل  کو 1.131 ارب روپے بطور معاوضہ ادا کیے، یہ معاہدہ یو پی ڈی ایل  نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بغیر کسی پیشگی ریگولیٹری منظوری کے ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ غیر قانونی مارکیٹ شیئرنگ کا عمل تھا جس نے مقابلے کو روک دیا اور قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد آئی بی ایل کی کاروباری سرگرمیوں کے گرد حفاظتی دیوار قائم کرنا تھا، جس کے لیے یو پی ڈی ایل کو مارکیٹ میں حصہ لینے سے روکنے کے عوض 1.131 ارب روپے کا معاوضہ دیا گیا۔ اس طرح کا رویہ مقابلے کے نظام کو نقصان پہنچاتا ہے اور صارفین کو متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ معاہدے میں یہ شرط شامل تھی کہ سی سی پی سے ریگولیٹری چھوٹ لی جائے گی مگر فریقین نے جون 2024 میں شوکاز نوٹسز جاری ہونے کے بعد تک یہ درخواست نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے اس تاخیری اقدام کو خلاف ورزی کے ازالے کے لیے ناکافی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، سی سی پی نے یو پی ڈی ایل اور آئی بی ایل دونوں پر 20-20 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا کیونکہ انہوں نے قانون کے سیکشن 4(1) اور 4(2)(ب) کی خلاف ورزی کی۔ علاوہ ازیں یو پی ڈی ایل کو 1 ملین روپے کا اضافی جرمانہ بھی دیا گیا کیونکہ اس نے پی ایس ایکس کو بغیر ریگولیٹری منظوری کے معلومات فراہم کیں، جو سیکشن 38 کے تحت جرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم میں کمپنیوں کو 30 دن کے اندر تعمیل کی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس بات کی وارننگ بھی دی گئی ہے کہ اگر تعمیل نہ کی گئی تو روزانہ اضافی جرمانے عائد کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں سی سی پی نے اس معاملے کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے پاس بھیجا ہے تاکہ وہ اپنے متعلقہ قانونی دائرہ اختیار کے تحت ضروری کارروائی کر سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ دو کمپنیوں، یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز پاکستان لمیٹڈ (یو ڈی پی ایل) اور انٹرنیشنل برانڈز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (آئی بی ایل)، کو 1.13 ارب روپے کے انسداد مسابقت معاہدے میں ملوث پاتے ہوئے قصوروار قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>کمیشن نے یو پی ڈی ایل اور آئی بی ایل پر کل 42 ملین روپے جرمانہ عائد کیا ہے کیونکہ انہوں نے ایک غیر مسابقتی معاہدہ کیا اور اس پر عمل درآمد کیا، جو کہ 2010 کے کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>کمیشن کے تفصیلی حکم میں کہا گیا ہے کہ دونوں کمپنیوں نے ایسا پابند معاہدہ کیا جس کے تحت یو پی ڈی ایل کو تین سال تک پاکستان میں انسانی دوا سازی مصنوعات کی تقسیم کے بازار میں داخل ہونے سے روکا گیا۔</p>
<p>سی سی پی کے بیان کے مطابق  آئی بی ایل نے بدلے میں یو پی ڈی ایل  کو 1.131 ارب روپے بطور معاوضہ ادا کیے، یہ معاہدہ یو پی ڈی ایل  نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بغیر کسی پیشگی ریگولیٹری منظوری کے ظاہر کیا۔</p>
<p>کمیشن نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ غیر قانونی مارکیٹ شیئرنگ کا عمل تھا جس نے مقابلے کو روک دیا اور قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی۔</p>
<p>حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد آئی بی ایل کی کاروباری سرگرمیوں کے گرد حفاظتی دیوار قائم کرنا تھا، جس کے لیے یو پی ڈی ایل کو مارکیٹ میں حصہ لینے سے روکنے کے عوض 1.131 ارب روپے کا معاوضہ دیا گیا۔ اس طرح کا رویہ مقابلے کے نظام کو نقصان پہنچاتا ہے اور صارفین کو متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ معاہدے میں یہ شرط شامل تھی کہ سی سی پی سے ریگولیٹری چھوٹ لی جائے گی مگر فریقین نے جون 2024 میں شوکاز نوٹسز جاری ہونے کے بعد تک یہ درخواست نہیں دی۔</p>
<p>کمیشن نے اس تاخیری اقدام کو خلاف ورزی کے ازالے کے لیے ناکافی قرار دیا ہے۔</p>
<p>نتیجتاً، سی سی پی نے یو پی ڈی ایل اور آئی بی ایل دونوں پر 20-20 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا کیونکہ انہوں نے قانون کے سیکشن 4(1) اور 4(2)(ب) کی خلاف ورزی کی۔ علاوہ ازیں یو پی ڈی ایل کو 1 ملین روپے کا اضافی جرمانہ بھی دیا گیا کیونکہ اس نے پی ایس ایکس کو بغیر ریگولیٹری منظوری کے معلومات فراہم کیں، جو سیکشن 38 کے تحت جرم ہے۔</p>
<p>حکم میں کمپنیوں کو 30 دن کے اندر تعمیل کی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس بات کی وارننگ بھی دی گئی ہے کہ اگر تعمیل نہ کی گئی تو روزانہ اضافی جرمانے عائد کیے جائیں گے۔</p>
<p>مزید برآں سی سی پی نے اس معاملے کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے پاس بھیجا ہے تاکہ وہ اپنے متعلقہ قانونی دائرہ اختیار کے تحت ضروری کارروائی کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274237</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Jul 2025 21:11:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/022059444a48726.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/022059444a48726.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
