<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:47:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:47:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری، حکمراں اتحاد کو دو تہائی اکثریت مل گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274236/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بدھ کے روز ایک اہم آئینی پیش رفت کے تحت حکومتی اتحاد، جو بنیادی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل ہے، کو اس وقت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی جب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد مخصوص نشستوں کی ازسرِنو تقسیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جولائی 2024 کے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں الاٹ کی گئی تھیں۔ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی ان نشستوں کے لیے نااہل قرار پائی اور اس کی حیثیت بطور پارلیمانی جماعت ختم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے کے جواب میں، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جولائی 2024 میں جاری کردہ وہ نوٹیفکیشن واپس لے لیے جن کے تحت پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو قومی اسمبلی اور مختلف صوبائی اسمبلیوں میں کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں، ای سی پی نے مخصوص نشستیں ازسرِ نو مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان تقسیم کرتے ہوئے نئے نوٹیفکیشن جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کی تشکیلِ نو&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم کے تحت مسلم لیگ (ن) کو 13 اور پیپلز پارٹی کو 4 اضافی نشستیں ملنے کے بعد حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 336 رکنی ایوان میں بڑھ کر 235 ہو گئی ہے، جو دو تہائی اکثریت (224 نشستیں) سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن کے پاس اب 98 نشستیں ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 2 نشستیں ملی ہیں۔ ایک نشست معطل ہے اور دو مخصوص نشستیں تاحال خالی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صوبائی اسمبلیوں میں رد و بدل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں بھی رد و بدل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 10، مسلم لیگ (ن) کو 7، پیپلز پارٹی کو 6، جبکہ پی ٹی آئی-پارلیمنٹرینز اور عوامی نیشنل پارٹی کو ایک، ایک مخصوص نشست دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو 23، پیپلز پارٹی کو 2 جبکہ مسلم لیگ (ق) اور استحکامِ پاکستان پارٹی کو ایک، ایک نشست ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو 2 اور ایم کیو ایم (پاکستان) کو ایک مخصوص نشست الاٹ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قانونی پس منظر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ مارچ 2024 میں پشاور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے سے شروع ہوا جس میں سنّی اتحاد کونسل، جس میں 8 فروری کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شامل ہوئے تھے، کو مخصوص نشستوں کا دعویٰ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ابتدائی طور پر جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل احمد عباسی نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر نظرثانی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، مگر بعد ازاں ان دونوں جج صاحبان کو آئینی بینچ سے ہٹا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں پی ٹی آئی کا 39 مخصوص نشستوں پر حق تسلیم کیا اور نشستوں کی ازسرِ نو تقسیم میں پارٹی کو شامل کرنے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں ایک اکثریتی فیصلے میں آزاد امیدواروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ حلف نامے کے ذریعے اپنی سیاسی وابستگی واضح کریں، جس کی بنیاد پر کچھ امیدواروں کو عارضی طور پر پی ٹی آئی کا رکن تسلیم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حتمی نظرثانی میں جسٹس محمد علی مظهر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے اپنے سابقہ موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے نظرثانی درخواستوں کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ تمام 80 کامیاب امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی اور وابستگی کے اعلانات کا دوبارہ جائزہ لے اور 15 روز کے اندر مخصوص نشستوں کی اہلیت کے حوالے سے فیصلہ جاری کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان نشستوں کی ازسرِ نو تقسیم نے قومی اور صوبائی سطح پر قانون ساز اداروں کی ساخت کو یکسر بدل دیا ہے اور عام انتخابات کے صرف چند ماہ بعد پارلیمانی نمائندگی میں ایک نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بدھ کے روز ایک اہم آئینی پیش رفت کے تحت حکومتی اتحاد، جو بنیادی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل ہے، کو اس وقت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی جب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد مخصوص نشستوں کی ازسرِنو تقسیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔</strong></p>
<p>سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جولائی 2024 کے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں الاٹ کی گئی تھیں۔ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی ان نشستوں کے لیے نااہل قرار پائی اور اس کی حیثیت بطور پارلیمانی جماعت ختم ہو گئی۔</p>
<p>سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے کے جواب میں، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جولائی 2024 میں جاری کردہ وہ نوٹیفکیشن واپس لے لیے جن کے تحت پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو قومی اسمبلی اور مختلف صوبائی اسمبلیوں میں کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں، ای سی پی نے مخصوص نشستیں ازسرِ نو مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان تقسیم کرتے ہوئے نئے نوٹیفکیشن جاری کیے۔</p>
<p><strong>قومی اسمبلی کی تشکیلِ نو</strong></p>
<p>مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم کے تحت مسلم لیگ (ن) کو 13 اور پیپلز پارٹی کو 4 اضافی نشستیں ملنے کے بعد حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 336 رکنی ایوان میں بڑھ کر 235 ہو گئی ہے، جو دو تہائی اکثریت (224 نشستیں) سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>اپوزیشن کے پاس اب 98 نشستیں ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 2 نشستیں ملی ہیں۔ ایک نشست معطل ہے اور دو مخصوص نشستیں تاحال خالی ہیں۔</p>
<p><strong>صوبائی اسمبلیوں میں رد و بدل</strong></p>
<p>الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں بھی رد و بدل کیا ہے۔</p>
<ul>
<li>
<p>خیبر پختونخوا اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 10، مسلم لیگ (ن) کو 7، پیپلز پارٹی کو 6، جبکہ پی ٹی آئی-پارلیمنٹرینز اور عوامی نیشنل پارٹی کو ایک، ایک مخصوص نشست دی گئی۔</p>
</li>
<li>
<p>پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو 23، پیپلز پارٹی کو 2 جبکہ مسلم لیگ (ق) اور استحکامِ پاکستان پارٹی کو ایک، ایک نشست ملی۔</p>
</li>
<li>
<p>سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو 2 اور ایم کیو ایم (پاکستان) کو ایک مخصوص نشست الاٹ کی گئی۔</p>
</li>
</ul>
<p><strong>قانونی پس منظر</strong></p>
<p>یہ معاملہ مارچ 2024 میں پشاور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے سے شروع ہوا جس میں سنّی اتحاد کونسل، جس میں 8 فروری کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شامل ہوئے تھے، کو مخصوص نشستوں کا دعویٰ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔</p>
<p>اگرچہ ابتدائی طور پر جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل احمد عباسی نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر نظرثانی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، مگر بعد ازاں ان دونوں جج صاحبان کو آئینی بینچ سے ہٹا دیا گیا۔</p>
<p>ادھر جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں پی ٹی آئی کا 39 مخصوص نشستوں پر حق تسلیم کیا اور نشستوں کی ازسرِ نو تقسیم میں پارٹی کو شامل کرنے پر زور دیا۔</p>
<p>قبل ازیں ایک اکثریتی فیصلے میں آزاد امیدواروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ حلف نامے کے ذریعے اپنی سیاسی وابستگی واضح کریں، جس کی بنیاد پر کچھ امیدواروں کو عارضی طور پر پی ٹی آئی کا رکن تسلیم کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم حتمی نظرثانی میں جسٹس محمد علی مظهر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے اپنے سابقہ موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے نظرثانی درخواستوں کی حمایت کی۔</p>
<p>انہوں نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ تمام 80 کامیاب امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی اور وابستگی کے اعلانات کا دوبارہ جائزہ لے اور 15 روز کے اندر مخصوص نشستوں کی اہلیت کے حوالے سے فیصلہ جاری کرے۔</p>
<p>ان نشستوں کی ازسرِ نو تقسیم نے قومی اور صوبائی سطح پر قانون ساز اداروں کی ساخت کو یکسر بدل دیا ہے اور عام انتخابات کے صرف چند ماہ بعد پارلیمانی نمائندگی میں ایک نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274236</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Jul 2025 20:52:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/022023523774eec.png" type="image/png" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/022023523774eec.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
