<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کواڈ وزرائے خارجہ کی پہلگام حملے کی مذمت، پاکستان کا نام نہیں لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274222/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل چار ملکی اتحاد ”کواڈ“ نے منگل کے روز مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی  زیر قبضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام  میں ہونے والے حملے کے ذمہ داروں کو بلا تاخیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملہ 22 اپریل کو ہوا تھا اور اس کے بعد بھارت اور پاکستان، جو دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں، جو واشنگٹن میں منعقدہ وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا، پاکستان کا نام نہیں لیا گیا اور نہ ہی اس پر براہ راست الزام عائد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ
کواڈ دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی تمام اقسام اور صورتوں، بشمول سرحد پار دہشت گردی، کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ”قابلِ نفرت حملے“ کے ”مرتکبین، منتظمین اور مالی معاونین“ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے مکمل تعاون کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 مئی کو بھارتی طیاروں نے سرحد پار ان مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں نئی دہلی نے ”دہشت گردی کا ڈھانچہ“ قرار دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لڑاکا طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کے ذریعے شدید حملے ہوئے، جن میں درجنوں افراد مارے گئے، یہاں تک کہ 10 مئی کو جنگ بندی ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ بندی سب سے پہلے اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کیا، جس کے مطابق امریکہ نے دونوں ممالک کے ساتھ بات چیت کے بعد اس کا بندوبست کیا، تاہم بھارت نے ٹرمپ کے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی کسی بیرونی دباؤ یا مداخلت کا نتیجہ نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا مؤقف ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد کو اپنے مسائل براہ راست اور بیرونی مداخلت کے بغیر حل کرنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے فیصلے میں تجارتی تعلقات کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکہ سے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ
تعلقات میں مسائل کا ہونا فطری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انہیں سنبھالنے کی صلاحیت ہو اور مثبت سمت میں پیشرفت جاری رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل چار ملکی اتحاد ”کواڈ“ نے منگل کے روز مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی  زیر قبضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام  میں ہونے والے حملے کے ذمہ داروں کو بلا تاخیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</strong></p>
<p>یہ حملہ 22 اپریل کو ہوا تھا اور اس کے بعد بھارت اور پاکستان، جو دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں، جو واشنگٹن میں منعقدہ وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا، پاکستان کا نام نہیں لیا گیا اور نہ ہی اس پر براہ راست الزام عائد کیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ
کواڈ دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی تمام اقسام اور صورتوں، بشمول سرحد پار دہشت گردی، کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ”قابلِ نفرت حملے“ کے ”مرتکبین، منتظمین اور مالی معاونین“ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے مکمل تعاون کریں۔</p>
<p>7 مئی کو بھارتی طیاروں نے سرحد پار ان مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں نئی دہلی نے ”دہشت گردی کا ڈھانچہ“ قرار دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لڑاکا طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کے ذریعے شدید حملے ہوئے، جن میں درجنوں افراد مارے گئے، یہاں تک کہ 10 مئی کو جنگ بندی ہوگئی۔</p>
<p>اس جنگ بندی سب سے پہلے اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کیا، جس کے مطابق امریکہ نے دونوں ممالک کے ساتھ بات چیت کے بعد اس کا بندوبست کیا، تاہم بھارت نے ٹرمپ کے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی کسی بیرونی دباؤ یا مداخلت کا نتیجہ نہیں تھی۔</p>
<p>بھارت کا مؤقف ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد کو اپنے مسائل براہ راست اور بیرونی مداخلت کے بغیر حل کرنے چاہئیں۔</p>
<p>پیر کے روز بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے فیصلے میں تجارتی تعلقات کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔</p>
<p>انہوں نے امریکہ سے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ
تعلقات میں مسائل کا ہونا فطری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انہیں سنبھالنے کی صلاحیت ہو اور مثبت سمت میں پیشرفت جاری رکھی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274222</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Jul 2025 13:07:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/02130421d0bdc34.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/02130421d0bdc34.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
