<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکسچینج کمپنیاں پی آر آئی میں شمولیت پر خوش، گیم چینجر قرار دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274212/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت میں، پاکستان ریمٹینس انیشی ایٹو (پی آر آئی) کی ٹی ٹی چارجز ری ایمبرسمنٹ اسکیم میں ایکسچینج کمپنیوں کو شامل کر لیا گیا ہے، جس کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے اسے ”گیم چینجر“ اقدام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے رواں مالی سال ترسیلات زر 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بوستان نے حکومت کے اس فیصلے کو بروقت اور درست سمت میں قدم قرار دیا اور یقین دہانی کروائی کہ ایکسچینج کمپنیاں اس اعتماد پر پورا اتریں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال (2024-25) کے دوران ایکسچینج کمپنیوں نے 4 ارب ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں جمع کروائے، جبکہ موجودہ مالی سال (2025-26) میں یہ رقم بڑھا کر 8 سے 10 ارب ڈالر کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب ایکسچینج کمپنیوں کو بینکوں کے برابر مواقع حاصل ہو گئے ہیں، جس کے باعث وہ بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی اے پی چیئرمین نے بتایا کہ گزشتہ سال ایکسچینج کمپنیوں نے اپنی 1,500 شاخوں کے ذریعے تقریباً 4 ارب ڈالر جمع کروائے، جبکہ 15,000 شاخوں والے بینکوں نے تقریباً 33 ارب ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں دیے۔ اس اعتبار سے فی بینک برانچ اوسط 1 ملین ڈالر جبکہ ایکسچینج کمپنی برانچ کی اوسط 2.5 ملین ڈالر بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوستان نے شکایت کی کہ بینکوں کو ہر 100 ڈالر پر 33 سعودی ریال (یعنی تقریباً 20-22 روپے فی ڈالر) کا ریبیٹ دیا جاتا ہے، جبکہ ایکسچینج کمپنیوں کو صرف 2 روپے فی ڈالر ملتے ہیں، جو کہ غیر مساوی رویہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی نئی ہدایات کے مطابق اب 200 ڈالر یا اس سے زیادہ کی ترسیلات پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی (پہلے یہ سہولت صرف 100 ڈالر یا اس سے زائد پر تھی)، جسے بہت مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے پی آر آئی کا مارکیٹنگ بجٹ بھی 50 فیصد کم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بوستان نے کہا کہ اس وقت تقریباً 1.5 کروڑ بیرون ملک پاکستانی ملازمین ہر ماہ تقریباً 8 ارب ڈالر تنخواہ کی صورت میں حاصل کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنی مکمل آمدن پاکستان بھیجیں تو معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد بحال کرنا چاہیے، کیونکہ ان کی ترسیلات سے ملک کے قرضے بھی واپس کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بوستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں ملک کا ساتھ دینے پر بیرون ملک پاکستانیوں کی تعریف کی، خواہ وہ 1998 کے ایٹمی دھماکے ہوں یا حالیہ تنازعات۔ انہوں نے چیئرمین اوورسیز فاؤنڈیشن سید قمر رضا کے کردار کو بھی سراہا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں کو عزت دے اور ان کے مسائل حل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیاں اپنی کارکردگی سے حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک کا سر فخر سے بلند کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت میں، پاکستان ریمٹینس انیشی ایٹو (پی آر آئی) کی ٹی ٹی چارجز ری ایمبرسمنٹ اسکیم میں ایکسچینج کمپنیوں کو شامل کر لیا گیا ہے، جس کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے اسے ”گیم چینجر“ اقدام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے رواں مالی سال ترسیلات زر 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>ملک بوستان نے حکومت کے اس فیصلے کو بروقت اور درست سمت میں قدم قرار دیا اور یقین دہانی کروائی کہ ایکسچینج کمپنیاں اس اعتماد پر پورا اتریں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال (2024-25) کے دوران ایکسچینج کمپنیوں نے 4 ارب ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں جمع کروائے، جبکہ موجودہ مالی سال (2025-26) میں یہ رقم بڑھا کر 8 سے 10 ارب ڈالر کر دی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اب ایکسچینج کمپنیوں کو بینکوں کے برابر مواقع حاصل ہو گئے ہیں، جس کے باعث وہ بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہوں گی۔</p>
<p>ای سی اے پی چیئرمین نے بتایا کہ گزشتہ سال ایکسچینج کمپنیوں نے اپنی 1,500 شاخوں کے ذریعے تقریباً 4 ارب ڈالر جمع کروائے، جبکہ 15,000 شاخوں والے بینکوں نے تقریباً 33 ارب ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں دیے۔ اس اعتبار سے فی بینک برانچ اوسط 1 ملین ڈالر جبکہ ایکسچینج کمپنی برانچ کی اوسط 2.5 ملین ڈالر بنتی ہے۔</p>
<p>بوستان نے شکایت کی کہ بینکوں کو ہر 100 ڈالر پر 33 سعودی ریال (یعنی تقریباً 20-22 روپے فی ڈالر) کا ریبیٹ دیا جاتا ہے، جبکہ ایکسچینج کمپنیوں کو صرف 2 روپے فی ڈالر ملتے ہیں، جو کہ غیر مساوی رویہ تھا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی نئی ہدایات کے مطابق اب 200 ڈالر یا اس سے زیادہ کی ترسیلات پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی (پہلے یہ سہولت صرف 100 ڈالر یا اس سے زائد پر تھی)، جسے بہت مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے پی آر آئی کا مارکیٹنگ بجٹ بھی 50 فیصد کم ہو جائے گا۔</p>
<p>ملک بوستان نے کہا کہ اس وقت تقریباً 1.5 کروڑ بیرون ملک پاکستانی ملازمین ہر ماہ تقریباً 8 ارب ڈالر تنخواہ کی صورت میں حاصل کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنی مکمل آمدن پاکستان بھیجیں تو معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد بحال کرنا چاہیے، کیونکہ ان کی ترسیلات سے ملک کے قرضے بھی واپس کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>ملک بوستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں ملک کا ساتھ دینے پر بیرون ملک پاکستانیوں کی تعریف کی، خواہ وہ 1998 کے ایٹمی دھماکے ہوں یا حالیہ تنازعات۔ انہوں نے چیئرمین اوورسیز فاؤنڈیشن سید قمر رضا کے کردار کو بھی سراہا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں کو عزت دے اور ان کے مسائل حل کرے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیاں اپنی کارکردگی سے حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک کا سر فخر سے بلند کریں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274212</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Jul 2025 11:37:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/021136345c4279c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/021136345c4279c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
