<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:29:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:29:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوپن مارکیٹ: کرنسی ڈیلرز کا مالی سال 26ء میں ترسیلات زر میں دوگنا اضافے کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274202/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوپن مارکیٹ میں کام کرنے والے کرنسی ڈیلرز نے پیش گوئی کی ہے کہ وہ آئندہ ایک سال میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کو دوگنا کر سکتے ہیں۔ وہ مالی سال 2025-26 میں 8 سے 10 ارب ڈالر تک ترسیلات زر حاصل کرنے کا ہدف رکھے ہوئے ہیں، جو اسٹیٹ بینک کی جانب سے منگل سے فی ڈالر مارجن بڑھا کر 22 روپے مقرر کیے جانے کے بعد ممکن ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے مطابق مالی سال 2024-25 میں، جو 30 جون کو ختم ہوا، ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے مجموعی طور پر 4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جب کہ اس وقت ان کمپنیوں کو فی ڈالر صرف 2 روپے مارجن ادا کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی پیر کے روز جاری کردہ ایک سرکلر کے مطابق ایکسچینج کمپنیوں کو پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹو (پی آر آئی) میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کے تحت ان کا ریبیٹ (ترغیبی مارجن) 2 روپے فی ڈالر سے بڑھا کر 22 روپے فی ڈالر کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں پی آر آئی میں شامل کیے جانے سے کرنسی ڈیلرز کو برابری کا میدان ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بینکوں کے ذریعے 33 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جب کہ اوپن مارکیٹ میں کام کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں نے 4 ارب ڈالر اکٹھے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کمپنیوں نے مالی سال کے دوران موصول ہونے والی تقریباً تمام ترسیلات زر انٹربینک مارکیٹ میں فروخت کیں، جس سے اسٹیٹ بینک کو زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط کرنے اور تجارتی خسارے کی مالی معاونت میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں، جن میں سے 70 فیصد صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں۔ مالی سال 2024-25 کے ابتدائی گیارہ ماہ میں دنیا بھر سے پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 35 ارب ڈالر وطن بھجوائے، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی اے پی کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی محنت کش ہر ماہ مجموعی طور پر تقریباً 8 ارب ڈالر کی تنخواہیں کماتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر یہ تمام رقم پاکستان منتقل کی جائے، تو ہماری معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اس وقت صرف 3 سے 4 ارب ڈالر بھیجے جا رہے ہیں، جب کہ باقی رقم بیرونی بینک اکاؤنٹس میں محفوظ کی جا رہی ہے یا دبئی، یورپ اور مشرق وسطیٰ جیسے مقامات پر سرمایہ کاری میں استعمال ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوپن مارکیٹ میں کام کرنے والے کرنسی ڈیلرز نے پیش گوئی کی ہے کہ وہ آئندہ ایک سال میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کو دوگنا کر سکتے ہیں۔ وہ مالی سال 2025-26 میں 8 سے 10 ارب ڈالر تک ترسیلات زر حاصل کرنے کا ہدف رکھے ہوئے ہیں، جو اسٹیٹ بینک کی جانب سے منگل سے فی ڈالر مارجن بڑھا کر 22 روپے مقرر کیے جانے کے بعد ممکن ہوا ہے۔</strong></p>
<p>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے مطابق مالی سال 2024-25 میں، جو 30 جون کو ختم ہوا، ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے مجموعی طور پر 4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جب کہ اس وقت ان کمپنیوں کو فی ڈالر صرف 2 روپے مارجن ادا کیا جا رہا تھا۔</p>
<p>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی پیر کے روز جاری کردہ ایک سرکلر کے مطابق ایکسچینج کمپنیوں کو پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹو (پی آر آئی) میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کے تحت ان کا ریبیٹ (ترغیبی مارجن) 2 روپے فی ڈالر سے بڑھا کر 22 روپے فی ڈالر کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں پی آر آئی میں شامل کیے جانے سے کرنسی ڈیلرز کو برابری کا میدان ملا ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بینکوں کے ذریعے 33 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جب کہ اوپن مارکیٹ میں کام کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں نے 4 ارب ڈالر اکٹھے کیے۔</p>
<p>ان کمپنیوں نے مالی سال کے دوران موصول ہونے والی تقریباً تمام ترسیلات زر انٹربینک مارکیٹ میں فروخت کیں، جس سے اسٹیٹ بینک کو زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط کرنے اور تجارتی خسارے کی مالی معاونت میں مدد ملی۔</p>
<p>دنیا بھر میں تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں، جن میں سے 70 فیصد صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں۔ مالی سال 2024-25 کے ابتدائی گیارہ ماہ میں دنیا بھر سے پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 35 ارب ڈالر وطن بھجوائے، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>ای سی اے پی کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی محنت کش ہر ماہ مجموعی طور پر تقریباً 8 ارب ڈالر کی تنخواہیں کماتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر یہ تمام رقم پاکستان منتقل کی جائے، تو ہماری معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اس وقت صرف 3 سے 4 ارب ڈالر بھیجے جا رہے ہیں، جب کہ باقی رقم بیرونی بینک اکاؤنٹس میں محفوظ کی جا رہی ہے یا دبئی، یورپ اور مشرق وسطیٰ جیسے مقامات پر سرمایہ کاری میں استعمال ہو رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274202</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Jul 2025 22:59:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/01224953b36d353.gif" type="image/gif" medium="image" height="288" width="468">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/01224953b36d353.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
