<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے ٹی ٹی چارجز اسکیم میں ترمیم کر دی، حد 200 ڈالر مقرر، ایکسچینج کمپنیاں شامل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274179/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک اہم پالیسی تبدیلی کے تحت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے پیر کے روز بیرون ملک سے ترسیلات زر کے لیے مراعات کو سادہ بنانے کے مقصد سے ”ٹیلی گرافک ٹرانسفر (ٹی ٹی) چارجز کی ادائیگی اسکیم“ پر نظرثانی کر دی ہے۔ اس نظرثانی کے تحت اہل ترسیلات کی کم از کم حد 100 ڈالر سے بڑھا کر 200 ڈالر کر دی گئی ہے، جبکہ اس اسکیم کے دائرہ کار کو ایکسچینج کمپنیوں (ای سیز) تک بھی توسیع دے دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اسی کے ساتھ اسٹیٹ بینک نے دو اہم مراعاتی اسکیموں، یعنی ”ہوم ریمیٹنسز کی مارکیٹنگ کی ترغیبی اسکیم“ اور “ایکسچینج کمپنیز انسینٹو اسکیم “ کو یکم جولائی 2025 سے ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق، ٹی ٹی چارجز ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے تحت وہی ترسیلات اہل سمجھی جائیں گی جو 200 ڈالر یا اس کے مساوی غیر ملکی کرنسی میں ہوں گی۔ اس سے پہلے بینکوں کو 100 ڈالر کی ترسیلات پر بھی ٹی ٹی چارجز کی ادائیگی کی سہولت حاصل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکیم کے تحت مالیاتی ادارے  اور ان کے غیر ملکی نمائندہ ادارے (او سی ایز)   ترسیلات کے کسی بھی مرحلے پر بھیجنے یا وصول کرنے والے افراد سے کسی قسم کی فیس، کمیشن یا چارجز نہیں لیں گے۔ اس شرط کو یقینی بنانے کے لیے معاہدوں میں باقاعدہ شق شامل کرنا لازم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایک ہی بھیجنے والے کی جانب سے ایک ہی دن میں ایک ہی وصول کنندہ کو متعدد ترسیلات بھیجی جائیں تو انہیں ایک ہی لین دین تصور کیا جائے گا اور صرف ایک ٹرانزیکشن ہی ٹی ٹی چارجز کی ادائیگی کے لیے اہل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، کسی بھی بھیجنے والے کی طرف سے ایک ہی مہینے میں ایک ہی وصول کنندہ کو، ایک ہی او سی ای کے ذریعے، زیادہ سے زیادہ پانچ فری ٹرانزیکشنز کی اجازت ہوگی۔ ہر ٹرانزیکشن میں بھیجنے والے اور وصول کنندہ کی درست شناخت شامل ہونا ضروری ہوگی۔ ٹی ٹی چارجز کی واپسی کی شرح کو بھی سادہ بنا کر تمام اہل لین دین کے لیے 20 سعودی ریال مقرر کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں، اب ایکسچینج کمپنیاں بھی ٹی ٹی چارجز اسکیم میں شامل کر دی گئی ہیں، جو پہلے صرف بینکوں تک محدود تھی۔ اس اقدام سے باضابطہ ترسیلاتی نظام کے دائرہ کار میں وسعت متوقع ہے اور غیر بینکاری اداروں کے ذریعے ترسیلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی ہدایت کے مطابق، ایکسچینج کمپنیاں ہوم ریمیٹنسز کی مد میں موصول ہونے والی تمام غیر ملکی کرنسی کو اسی دن انٹربینک مارکیٹ میں 100 فیصد امریکی ڈالر میں تبدیل کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، وہ لین دین جو ہوم ریمیٹنسز کے علاوہ مقاصد کے لیے ہوں، جیسے کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیاں یا ایکسپورٹ پروسیڈز کی فروخت، وہ اس اسکیم کے تحت اہل نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نئی اصلاحات یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوں گی اور اسٹیٹ بینک نے تمام مجاز ڈیلرز، مائیکروفنانس بینکوں، اور ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ فریقین کو اس بارے میں آگاہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی او سی ای جو پاکستانی مالیاتی ادارے کے ساتھ شراکت داری رکھتا ہے، وہ کسی بھی صورت میں بیرون ملک سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات کو کسی دوسرے ادارے کے ذریعے روکنے یا تقسیم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی او سی ای ترسیلات کو تقسیم کر کے یا کسی دوسری کمپنی کے ساتھ ملی بھگت سے اسکیم سے غیر منصفانہ فائدہ حاصل کرتا ہوا پایا گیا، تو اسے پاکستانی مالیاتی اداروں سے معطل یا بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے اور اسے اضافی طور پر وصول کردہ رقم واپس کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شراکت دار او سی ایز کے ساتھ قواعد و ضوابط سے متعلق آگاہی فراہم کریں اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت نگرانی، ڈیٹا اینالٹکس، سسٹم آڈٹس، اور دیگر کنٹرولز کے ذریعے اسکیم کے غلط استعمال کو روکیں۔ اگر کوئی او سی ای خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو متعلقہ ادارے کو فوری طور پر اسٹیٹ بینک کو مطلع کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک اہم پالیسی تبدیلی کے تحت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے پیر کے روز بیرون ملک سے ترسیلات زر کے لیے مراعات کو سادہ بنانے کے مقصد سے ”ٹیلی گرافک ٹرانسفر (ٹی ٹی) چارجز کی ادائیگی اسکیم“ پر نظرثانی کر دی ہے۔ اس نظرثانی کے تحت اہل ترسیلات کی کم از کم حد 100 ڈالر سے بڑھا کر 200 ڈالر کر دی گئی ہے، جبکہ اس اسکیم کے دائرہ کار کو ایکسچینج کمپنیوں (ای سیز) تک بھی توسیع دے دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>تاہم، اسی کے ساتھ اسٹیٹ بینک نے دو اہم مراعاتی اسکیموں، یعنی ”ہوم ریمیٹنسز کی مارکیٹنگ کی ترغیبی اسکیم“ اور “ایکسچینج کمپنیز انسینٹو اسکیم “ کو یکم جولائی 2025 سے ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق، ٹی ٹی چارجز ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے تحت وہی ترسیلات اہل سمجھی جائیں گی جو 200 ڈالر یا اس کے مساوی غیر ملکی کرنسی میں ہوں گی۔ اس سے پہلے بینکوں کو 100 ڈالر کی ترسیلات پر بھی ٹی ٹی چارجز کی ادائیگی کی سہولت حاصل تھی۔</p>
<p>اسکیم کے تحت مالیاتی ادارے  اور ان کے غیر ملکی نمائندہ ادارے (او سی ایز)   ترسیلات کے کسی بھی مرحلے پر بھیجنے یا وصول کرنے والے افراد سے کسی قسم کی فیس، کمیشن یا چارجز نہیں لیں گے۔ اس شرط کو یقینی بنانے کے لیے معاہدوں میں باقاعدہ شق شامل کرنا لازم ہوگا۔</p>
<p>اگر ایک ہی بھیجنے والے کی جانب سے ایک ہی دن میں ایک ہی وصول کنندہ کو متعدد ترسیلات بھیجی جائیں تو انہیں ایک ہی لین دین تصور کیا جائے گا اور صرف ایک ٹرانزیکشن ہی ٹی ٹی چارجز کی ادائیگی کے لیے اہل ہوگی۔</p>
<p>علاوہ ازیں، کسی بھی بھیجنے والے کی طرف سے ایک ہی مہینے میں ایک ہی وصول کنندہ کو، ایک ہی او سی ای کے ذریعے، زیادہ سے زیادہ پانچ فری ٹرانزیکشنز کی اجازت ہوگی۔ ہر ٹرانزیکشن میں بھیجنے والے اور وصول کنندہ کی درست شناخت شامل ہونا ضروری ہوگی۔ ٹی ٹی چارجز کی واپسی کی شرح کو بھی سادہ بنا کر تمام اہل لین دین کے لیے 20 سعودی ریال مقرر کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں، اب ایکسچینج کمپنیاں بھی ٹی ٹی چارجز اسکیم میں شامل کر دی گئی ہیں، جو پہلے صرف بینکوں تک محدود تھی۔ اس اقدام سے باضابطہ ترسیلاتی نظام کے دائرہ کار میں وسعت متوقع ہے اور غیر بینکاری اداروں کے ذریعے ترسیلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی ہدایت کے مطابق، ایکسچینج کمپنیاں ہوم ریمیٹنسز کی مد میں موصول ہونے والی تمام غیر ملکی کرنسی کو اسی دن انٹربینک مارکیٹ میں 100 فیصد امریکی ڈالر میں تبدیل کریں گی۔</p>
<p>تاہم، وہ لین دین جو ہوم ریمیٹنسز کے علاوہ مقاصد کے لیے ہوں، جیسے کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیاں یا ایکسپورٹ پروسیڈز کی فروخت، وہ اس اسکیم کے تحت اہل نہیں ہوں گے۔</p>
<p>یہ نئی اصلاحات یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوں گی اور اسٹیٹ بینک نے تمام مجاز ڈیلرز، مائیکروفنانس بینکوں، اور ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ فریقین کو اس بارے میں آگاہ کریں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی او سی ای جو پاکستانی مالیاتی ادارے کے ساتھ شراکت داری رکھتا ہے، وہ کسی بھی صورت میں بیرون ملک سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات کو کسی دوسرے ادارے کے ذریعے روکنے یا تقسیم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔</p>
<p>اگر کوئی او سی ای ترسیلات کو تقسیم کر کے یا کسی دوسری کمپنی کے ساتھ ملی بھگت سے اسکیم سے غیر منصفانہ فائدہ حاصل کرتا ہوا پایا گیا، تو اسے پاکستانی مالیاتی اداروں سے معطل یا بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے اور اسے اضافی طور پر وصول کردہ رقم واپس کرنا ہوگی۔</p>
<p>مالیاتی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شراکت دار او سی ایز کے ساتھ قواعد و ضوابط سے متعلق آگاہی فراہم کریں اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت نگرانی، ڈیٹا اینالٹکس، سسٹم آڈٹس، اور دیگر کنٹرولز کے ذریعے اسکیم کے غلط استعمال کو روکیں۔ اگر کوئی او سی ای خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو متعلقہ ادارے کو فوری طور پر اسٹیٹ بینک کو مطلع کرنا ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274179</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Jul 2025 09:42:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/01094140fbfdf5d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/01094140fbfdf5d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
