<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:55:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:55:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274153/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں مالی سال 2024-25 کے آخری روز پیر کو کے ایس ای-100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری سیشن کے دوران مثبت ٹریڈنگ دیکھنے میں آئی ، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 125,748.58 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بھی جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,248.25 پوائنٹس یا ایک فیصد اضافے سے تاریخ میں پہلی بار 125,627.31 پوائنٹس کی بلند سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے بھرپور تیزی کے ساتھ مالی سال 2024-25 کا اختتام کیا، جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس پیر کے روز تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔ یہ رجحان گزشتہ ہفتے کی تیزی کے تسلسل کا مظہر تھا۔  یہ بات بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی مارکیٹ نے مالی سال کا اختتام مثبت انداز میں کیا، گزشتہ ہفتے کی تیزی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اور شاندار کارکردگی دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق یہ مثبت جذبہ مالی سال کے اختتامی سرمایہ کاری کے بہاؤ اور ایک بڑی بیرونی پیش رفت، چین کی جانب سے 3.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرضوں کی رول اوور، سے مزید تقویت حاصل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اقدام نے پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے درکار تقریباً 14 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد دی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ میں نمایاں کمپنیوں ایف ایف سی، ایچ بی ایل، بی اے ایچ ایل، یو بی ایل، پی او ایل، ایف اے بی ایل، پی کے جی پی نے انڈیکس کو مجموعی طور پر 724 پوائنٹس کا مثبت سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ بلومبرگ کی اس رپورٹ سے ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ڈیفالٹ رسک میں عالمی سطح پر سب سے نمایاں کمی کی ہے، 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد، جو دنیا بھر میں سب سے بڑی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دسمبر 2023 سے اب تک پاکستان میں ارب ڈالر مالیت کی فہرست میں شامل کمپنیوں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 11 ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں خریداری کا رجحان اہم شعبوں میں دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنری شامل ہیں۔ اے آر ایل، حبکو، ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، پی ایس او اور ایس ایس جی سی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج  نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں ہفتہ وار بنیادوں پر 4,355 پوائنٹس یا 3.6 فیصد اضافے سے  124,379 پوائنٹس کی تاریخی سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تیز رفتار تیزی کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ کی باآسانی منظوری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 کے آخری مہینے میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں ماہانہ بنیاد پر 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق یہ اضافہ وفاقی کابینہ کی جانب سے بجلی کے شعبے میں 1.275 کھرب روپے کے گردشی قرضے کو آئندہ چھ برسوں میں ختم کرنے کے لیے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اصلاحاتی منصوبے کی منظوری سے جڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر مالی سال 2024-25 میں روپے میں کے ایس ای-100 میں 60 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امریکی ڈالر کے لحاظ سے 57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن نے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں (مالی سال 2024 اور 2025) میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے روپے کی بنیاد پر مجموعی طور پر 203 فیصد اور ڈالر کی بنیاد پر 206 فیصد کا نمایاں اضافہ دکھایا ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کی مدد سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دیگرعوامل جو اس تیزی میں معاون رہے، ان میں مارچ 2025 میں آئی ایم ایف کے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، 20.5 فیصد سے گھٹ کر 11 فیصد ہونا، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری (CCC+ سے B-)، معاشی اشاریوں میں بہتری شامل ہیں اور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کا بہتر ہونا، جسے مقررہ آمدنی والے شعبے سے ایکویٹیز کی طرف سرمایہ کی منتقلی نے تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی حصص میں بہتری دیکھی گئی جس کی وجہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں پیش رفت کے آثار ہیں جنہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔ دوسری جانب امریکی روزگار کے اعداد و شمار میں ممکنہ کمزوری کے باعث بڑے شرح سود میں کٹوتیوں کی توقعات پر ڈالر کی قدر میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا نے اتوار کو ڈیجیٹل سروسز ٹیکس واپس لینے کا اعلان کیا تاکہ تجارتی مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکے، یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے تحت کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کا مقصد 21 جولائی تک معاہدہ طے پانا ہے جو کہ صدر ٹرمپ کی 9 جولائی کی باہمی جوابی ٹیرف کی ابتدائی ڈیڈلائن میں توسیع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ اب زیادہ تر معاہدے ممکنہ طور پر یکم ستمبر کو لیبر ڈے کی تعطیلات تک طے پا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار امریکی سینیٹ میں بتدریج آگے بڑھنے والے بڑے ٹیکس میں کمی اور اخراجات سے متعلق بل پر بھی محتاط نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اشارے مل رہے ہیں کہ یہ بل صدر ٹرمپ کی ترجیحی 4 جولائی کی ڈیڈلائن تک منظور نہیں ہوپائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کے تخمینے کے مطابق یہ بل قومی قرضے میں 3.3 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرے گا جو امریکی ٹریژری بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی دلچسپی کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر اور بڑی قدر کی حامل گروتھ اسٹاکس، جیسے کہ این ویڈیا، الفابیٹ اور ایمازون کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کسی قسم کا شک و شبہ نظر نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیسڈیک فیوچرز میں مزید 0.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای-مِنِیز نے 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو اسٹوکس 50 فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ڈیکس فیوچرز میں 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیزی کا رجحان جاپان کے نکی انڈیکس تک بھی پہنچا جو 1.6 فیصد بڑھ گیا، جبکہ جنوبی کوریا کے اسٹاکس میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب، جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا جامع انڈیکس 0.2 فیصد کم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹربینک مارکیٹ میں  پیر کے روز پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی دیکھی گئی، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.02 فیصد گھٹ کر 283.76 روپے پر بند ہوا۔ اس طرح روپے کی قدر میں 4 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم نمایاں اضافے کے ساتھ 773.80 ملین سے بڑھ کر 1,144.55 ملین شیئرز تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حصص کی مجموعی مالی قدر میں کمی آئی جو گزشتہ سیشن میں 37.57 ارب روپے تھی اور پیر کو گھٹ کر 35.24 ارب روپے رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کال ٹیلی کام 139.89 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرِفہرست رہی، کوہ نور اسپننگ 96.37 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ ٹی پی ایل پراپرٹیز 51.66 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں 297 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 152 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کمی جبکہ 32 کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/06/30192637f18e796.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں مالی سال 2024-25 کے آخری روز پیر کو کے ایس ای-100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔</strong></p>
<p>کاروباری سیشن کے دوران مثبت ٹریڈنگ دیکھنے میں آئی ، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 125,748.58 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بھی جاپہنچا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,248.25 پوائنٹس یا ایک فیصد اضافے سے تاریخ میں پہلی بار 125,627.31 پوائنٹس کی بلند سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے بھرپور تیزی کے ساتھ مالی سال 2024-25 کا اختتام کیا، جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس پیر کے روز تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔ یہ رجحان گزشتہ ہفتے کی تیزی کے تسلسل کا مظہر تھا۔  یہ بات بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی مارکیٹ نے مالی سال کا اختتام مثبت انداز میں کیا، گزشتہ ہفتے کی تیزی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اور شاندار کارکردگی دکھائی۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق یہ مثبت جذبہ مالی سال کے اختتامی سرمایہ کاری کے بہاؤ اور ایک بڑی بیرونی پیش رفت، چین کی جانب سے 3.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرضوں کی رول اوور، سے مزید تقویت حاصل کرتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اقدام نے پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے درکار تقریباً 14 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد دی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ میں نمایاں کمپنیوں ایف ایف سی، ایچ بی ایل، بی اے ایچ ایل، یو بی ایل، پی او ایل، ایف اے بی ایل، پی کے جی پی نے انڈیکس کو مجموعی طور پر 724 پوائنٹس کا مثبت سہارا دیا۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ بلومبرگ کی اس رپورٹ سے ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ڈیفالٹ رسک میں عالمی سطح پر سب سے نمایاں کمی کی ہے، 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد، جو دنیا بھر میں سب سے بڑی کمی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دسمبر 2023 سے اب تک پاکستان میں ارب ڈالر مالیت کی فہرست میں شامل کمپنیوں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 11 ہو چکی ہے۔</p>
<p>قبل ازیں خریداری کا رجحان اہم شعبوں میں دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنری شامل ہیں۔ اے آر ایل، حبکو، ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، پی ایس او اور ایس ایس جی سی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج  نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں ہفتہ وار بنیادوں پر 4,355 پوائنٹس یا 3.6 فیصد اضافے سے  124,379 پوائنٹس کی تاریخی سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>اس تیز رفتار تیزی کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ کی باآسانی منظوری تھی۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 کے آخری مہینے میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں ماہانہ بنیاد پر 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق یہ اضافہ وفاقی کابینہ کی جانب سے بجلی کے شعبے میں 1.275 کھرب روپے کے گردشی قرضے کو آئندہ چھ برسوں میں ختم کرنے کے لیے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اصلاحاتی منصوبے کی منظوری سے جڑا ہے۔</p>
<p>سالانہ بنیاد پر مالی سال 2024-25 میں روپے میں کے ایس ای-100 میں 60 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امریکی ڈالر کے لحاظ سے 57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن نے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں (مالی سال 2024 اور 2025) میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے روپے کی بنیاد پر مجموعی طور پر 203 فیصد اور ڈالر کی بنیاد پر 206 فیصد کا نمایاں اضافہ دکھایا ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کی مدد سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دیگرعوامل جو اس تیزی میں معاون رہے، ان میں مارچ 2025 میں آئی ایم ایف کے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، 20.5 فیصد سے گھٹ کر 11 فیصد ہونا، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری (CCC+ سے B-)، معاشی اشاریوں میں بہتری شامل ہیں اور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کا بہتر ہونا، جسے مقررہ آمدنی والے شعبے سے ایکویٹیز کی طرف سرمایہ کی منتقلی نے تقویت دی ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی حصص میں بہتری دیکھی گئی جس کی وجہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں پیش رفت کے آثار ہیں جنہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔ دوسری جانب امریکی روزگار کے اعداد و شمار میں ممکنہ کمزوری کے باعث بڑے شرح سود میں کٹوتیوں کی توقعات پر ڈالر کی قدر میں کمی آئی۔</p>
<p>کینیڈا نے اتوار کو ڈیجیٹل سروسز ٹیکس واپس لینے کا اعلان کیا تاکہ تجارتی مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکے، یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے تحت کیا گیا۔</p>
<p>مذاکرات کا مقصد 21 جولائی تک معاہدہ طے پانا ہے جو کہ صدر ٹرمپ کی 9 جولائی کی باہمی جوابی ٹیرف کی ابتدائی ڈیڈلائن میں توسیع ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ اب زیادہ تر معاہدے ممکنہ طور پر یکم ستمبر کو لیبر ڈے کی تعطیلات تک طے پا سکتے ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کار امریکی سینیٹ میں بتدریج آگے بڑھنے والے بڑے ٹیکس میں کمی اور اخراجات سے متعلق بل پر بھی محتاط نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اشارے مل رہے ہیں کہ یہ بل صدر ٹرمپ کی ترجیحی 4 جولائی کی ڈیڈلائن تک منظور نہیں ہوپائے گا۔</p>
<p>کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کے تخمینے کے مطابق یہ بل قومی قرضے میں 3.3 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرے گا جو امریکی ٹریژری بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی دلچسپی کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر اور بڑی قدر کی حامل گروتھ اسٹاکس، جیسے کہ این ویڈیا، الفابیٹ اور ایمازون کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کسی قسم کا شک و شبہ نظر نہیں آیا۔</p>
<p>نیسڈیک فیوچرز میں مزید 0.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای-مِنِیز نے 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔</p>
<p>یورو اسٹوکس 50 فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ڈیکس فیوچرز میں 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>تیزی کا رجحان جاپان کے نکی انڈیکس تک بھی پہنچا جو 1.6 فیصد بڑھ گیا، جبکہ جنوبی کوریا کے اسٹاکس میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب، جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا جامع انڈیکس 0.2 فیصد کم ہوا۔</p>
<p>دریں اثناء انٹربینک مارکیٹ میں  پیر کے روز پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی دیکھی گئی، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.02 فیصد گھٹ کر 283.76 روپے پر بند ہوا۔ اس طرح روپے کی قدر میں 4 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم نمایاں اضافے کے ساتھ 773.80 ملین سے بڑھ کر 1,144.55 ملین شیئرز تک جا پہنچا۔</p>
<p>تاہم حصص کی مجموعی مالی قدر میں کمی آئی جو گزشتہ سیشن میں 37.57 ارب روپے تھی اور پیر کو گھٹ کر 35.24 ارب روپے رہ گئی ہے۔</p>
<p>ورلڈ کال ٹیلی کام 139.89 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرِفہرست رہی، کوہ نور اسپننگ 96.37 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ ٹی پی ایل پراپرٹیز 51.66 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔</p>
<p>پیر کو مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں 297 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 152 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کمی جبکہ 32 کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/06/30192637f18e796.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274153</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Jun 2025 20:22:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/30202331aad6655.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1207" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/30202331aad6655.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
