<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:36:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:36:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حلال سی فوڈ انڈسٹری: پاکستان اور ویتنام کا تعاون بڑھانے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274149/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ویتنام نے حلال سی فوڈ انڈسٹری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ضمن میں ویتنام کے سفیر برائے پاکستان، فام انہ توان، پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندگان، پانگاشیئس مچھلی کے درآمدکنندگان اور میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کےڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور علی وسان کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر وسان نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان کی ویتنام کو سی فوڈ برآمدات نوے لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پہلے کی نسبت بیس فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی آبی کاشتکاری اور حلال سرٹیفائیڈ فِش پروسیسنگ کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکا کہنا تھا کہ اگر پالیسی میں ہم آہنگی، تجارتی سہولتیں اور خاص طور پر کولڈ چین نظام اور حلال سرٹیفکیشن کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی جائے تو پاکستان ویتنام کو برآمدات کے اعتبار سے نہ صرف برابری کر سکتا ہے بلکہ اسے پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر وسان نے مزید کہا کہ آئندہ پانچ سالوں میں سالانہ 2.5 سے 3 کروڑ ڈالر کی برآمدات کا ہدف قابلِ حصول ہےجو پاکستان کی میرین ایکسپورٹس کو متنوع بنانے کی جانب ایک مؤثر قدم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویتنامی سفیر فام انہ توان نے ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور تکنیکی تعاون کے فروغ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اسٹیک ہولڈرز کے روابط مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ ویتنام پاکستان کو برآمد کیے جانے والی سی فوڈ کی تیاری میں مکمل طور پر حلال معیار کو یقینی بناتا ہے اور ادارہ جاتی شراکت داری میں توسیع کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عاصم ابرار نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے خام سی فوڈ برآمد کر رہا ہےمگر اب جھینگا فارمنگ جیسے ویلیو ایڈڈ شعبوں میں بھی ترقی ہو رہی ہے جس میں ویتنام کا کامیاب ماڈل قابلِ تقلید ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ویتنام نے حلال سی فوڈ انڈسٹری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>اس ضمن میں ویتنام کے سفیر برائے پاکستان، فام انہ توان، پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندگان، پانگاشیئس مچھلی کے درآمدکنندگان اور میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کےڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور علی وسان کے درمیان ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔</p>
<p>ڈاکٹر وسان نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان کی ویتنام کو سی فوڈ برآمدات نوے لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پہلے کی نسبت بیس فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی آبی کاشتکاری اور حلال سرٹیفائیڈ فِش پروسیسنگ کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو بھی ذکر کیا۔</p>
<p>انکا کہنا تھا کہ اگر پالیسی میں ہم آہنگی، تجارتی سہولتیں اور خاص طور پر کولڈ چین نظام اور حلال سرٹیفکیشن کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی جائے تو پاکستان ویتنام کو برآمدات کے اعتبار سے نہ صرف برابری کر سکتا ہے بلکہ اسے پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر وسان نے مزید کہا کہ آئندہ پانچ سالوں میں سالانہ 2.5 سے 3 کروڑ ڈالر کی برآمدات کا ہدف قابلِ حصول ہےجو پاکستان کی میرین ایکسپورٹس کو متنوع بنانے کی جانب ایک مؤثر قدم ہوگا۔</p>
<p>ویتنامی سفیر فام انہ توان نے ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور تکنیکی تعاون کے فروغ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اسٹیک ہولڈرز کے روابط مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ ویتنام پاکستان کو برآمد کیے جانے والی سی فوڈ کی تیاری میں مکمل طور پر حلال معیار کو یقینی بناتا ہے اور ادارہ جاتی شراکت داری میں توسیع کا خواہاں ہے۔</p>
<p>پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عاصم ابرار نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے خام سی فوڈ برآمد کر رہا ہےمگر اب جھینگا فارمنگ جیسے ویلیو ایڈڈ شعبوں میں بھی ترقی ہو رہی ہے جس میں ویتنام کا کامیاب ماڈل قابلِ تقلید ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274149</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Jun 2025 10:25:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/3009321649f77cc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/3009321649f77cc.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
