<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی سیاست میں طاقت کی نئی حقیقتیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274109/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ جغرافیائی سیاسی تنازعات، بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ فوجی جھڑپ اور ایران و اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ، نے دو اہم حقیقتوں کو بے نقاب کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی حقیقت یہ ہے کہ کثیر قطبی دنیا کی تشکیل کے باوجود، ریاستہائے متحدہ امریکہ اب بھی عالمی طاقت کی سیاست میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا فریق ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ناقابل شکست اور غالب قوت ہونے کا دیرینہ تصور ناقابل واپسی طور پر چیلنج ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں بحرانوں میں امریکہ نہ صرف ثالث کے طور پر ابھرا بلکہ اس نے ان متحارب اقوام کے درمیان تنازع کے حل اور جنگ بندی کے فیصلے میں حتمی کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پُراعتماد اور فیصلہ کن ٹیلیفون کالز، چاہے وہ باضابطہ حکمتِ عملی کا حصہ تھیں یا ایک سوچا سمجھا مظاہرہ ، ان بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کو روکنے میں کامیاب رہیں جو آسانی سے علاقائی جنگوں کی صورت اختیار کر سکتی تھیں۔ یہ وہ کارنامہ ہے جو اقوامِ متحدہ جیسا عالمی ادارہ نہ تو اتنی تیزی سے اور نہ ہی اتنی قطعی انداز میں انجام دے سکتا تھا۔ واشنگٹن کی یہ صلاحیت کہ وہ بیک وقت دو حساس خطوں میں ابھرتے ہوئے تنازعات کو روک سکے، اس کی بے مثال سفارتی اثر پذیری اور عسکری دھاک کو اجاگر کرتی ہے، وہ بھی ایسے دور میں جب یک قطبی عالمی نظام زوال پذیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان تنازعات نے متعلقہ خطوں کی داخلی حرکیات کے بارے میں جو حقائق آشکار کیے، وہ بھی کم اہم نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کی عسکری جھڑپ نے نئی دہلی کی علاقائی بالا دستی کی حدود کو بے نقاب کیا۔
یہ تنازع نہ صرف پاکستان کی تزویراتی قوتِ برداشت کا مظہر تھا بلکہ اس حقیقت کا بھی کہ بھارت، برصغیر میں یکطرفہ غلبہ رکھنے والا ملک نہیں ہے۔ تاریخی لحاظ سے حجم اور معیشت میں عدم توازن کے باوجود، دونوں ممالک کو عالمی سطح پر سفارتی برابری کی حیثیت حاصل رہی، جو بھارت کی برتری کے پرانے بیانیے سے ایک نمایاں انحراف ہے، اور چھوٹے ممالک کی تزویراتی خود مختاری کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ نے بھی دیرینہ تصورات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اگرچہ اسرائیل کو طویل عرصے سے تکنیکی و عسکری برتری حاصل رہی ہے لیکن ایران کی جوابی صلاحیت، برداشت اور خطے میں اس کی اتحادی ساخت نے اسے ایک قابلِ اعتبار روک تھام کی طاقت میں تبدیل کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کی مطلق عسکری برتری کا تاثر متزلزل ہوا، صرف جنگی میدان کے اعداد و شمار میں نہیں بلکہ ان نفسیاتی اور سفارتی تاثرات میں جو جدید دور میں ہیبت طاری کرنے والی بھرپور دفاعی صلاحیت کے ذریعے قائم رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دو جھڑپوں کے بعد عالمی توجہ صرف بحران کے حل پر نہیں رہی بلکہ ایک اور نمایاں پہلو پر بھی گئی: چین اور روس جیسے بڑے طاقتور ممالک کی براہِ راست عدم مداخلت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ چین اور روس بالترتیب پاکستان اور ایران کے اسٹریٹجک اتحادی سمجھے جاتے ہیں لیکن دونوں نے دانستہ احتیاط برتی۔ اس خاموشی کو کمزوری سمجھنا غلط ہوگا، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا تزویراتی رویہ ہے، جو ایک کثیر قطبی دنیا کے ان کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ احتیاط اس امر کا غماز ہے کہ اکیسویں صدی میں عالمی اثر و رسوخ صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ استحکام، اقتصادی وابستگی اور نظریاتی کشش سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ چین اور روس فوری فوائد کی بجائے تزویراتی استحکام کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر اُن خطوں میں جہاں کھلی مداخلت ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک اس پالیسی کو ترجیح دیتے ہیں کہ وہ امریکہ کو عالمی نظم کے بوجھ تلے دبائے رکھیں، اور خود غیر فوجی ذرائع، جیسے سفارت کاری، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، ہتھیاروں کی فروخت اور سائبر موجودگی، کے ذریعے اثر و رسوخ قائم رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی پالیسی خاص طور پر جنگوں سے دور رہنے کی ہے، کیونکہ ایسی مداخلت اس کی عالمی معیشت اور سپلائی چینز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی حکمتِ عملی چین کے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے کی بنیاد بنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ چین نے پاکستان کو فضائیہ اور میزائل کی برتری فراہم کی اور ایران کو اسرائیل کے خلاف میزائل برتری، جو دونوں تنازعات میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر روس جو یوکرین میں پہلے ہی مصروفِ جنگ ہے اور مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، کسی دوسرے محاذ کو کھولنے یا سفارتی تنہائی کو بڑھانے سے گریزاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت جب کثیر قطبی دنیا کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، حالیہ تاریخ نے ایک کڑوی حقیقت کا مشاہدہ کروایا ہے: امریکہ اب بھی عالمی طاقت کے ہرم کے سب سے اوپر بیٹھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور بڑھتا ہوا برکس (بی آر آئی سی ایس) بلاک اگرچہ اقتصادی شراکت داریوں کو نئے سانچوں میں ڈھال رہے ہیں لیکن جب کہیں بحران جنم لیتا ہے تو دنیا اب بھی بیجنگ یا ماسکو کے بجائے واشنگٹن کی طرف دیکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سچ ہے کہ ناقدین ٹرمپ کی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائیں گے کہ آیا یہ پائیدار ہے یا نہیں، لیکن زمینی حقیقت بالکل واضح ہے: عالمی نظام چاہے جتنا بھی بدل رہا ہو، بحران کے لمحوں میں امریکہ کی بالادستی بدستور قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین ابھی تک اس پوزیشن میں نہیں آیا کہ وہ کھلے عام دوسرے ممالک کے داخلی معاملات یا تنازعات میں مداخلت کرے، اور کم و بیش یہی بات روس پر بھی لاگو ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹس بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حالیہ جغرافیائی سیاسی تنازعات، بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ فوجی جھڑپ اور ایران و اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ، نے دو اہم حقیقتوں کو بے نقاب کیا ہے۔</strong></p>
<p>پہلی حقیقت یہ ہے کہ کثیر قطبی دنیا کی تشکیل کے باوجود، ریاستہائے متحدہ امریکہ اب بھی عالمی طاقت کی سیاست میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا فریق ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ناقابل شکست اور غالب قوت ہونے کا دیرینہ تصور ناقابل واپسی طور پر چیلنج ہو چکا ہے۔</p>
<p>ان دونوں بحرانوں میں امریکہ نہ صرف ثالث کے طور پر ابھرا بلکہ اس نے ان متحارب اقوام کے درمیان تنازع کے حل اور جنگ بندی کے فیصلے میں حتمی کردار ادا کیا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پُراعتماد اور فیصلہ کن ٹیلیفون کالز، چاہے وہ باضابطہ حکمتِ عملی کا حصہ تھیں یا ایک سوچا سمجھا مظاہرہ ، ان بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کو روکنے میں کامیاب رہیں جو آسانی سے علاقائی جنگوں کی صورت اختیار کر سکتی تھیں۔ یہ وہ کارنامہ ہے جو اقوامِ متحدہ جیسا عالمی ادارہ نہ تو اتنی تیزی سے اور نہ ہی اتنی قطعی انداز میں انجام دے سکتا تھا۔ واشنگٹن کی یہ صلاحیت کہ وہ بیک وقت دو حساس خطوں میں ابھرتے ہوئے تنازعات کو روک سکے، اس کی بے مثال سفارتی اثر پذیری اور عسکری دھاک کو اجاگر کرتی ہے، وہ بھی ایسے دور میں جب یک قطبی عالمی نظام زوال پذیر ہے۔</p>
</blockquote>
<p>تاہم ان تنازعات نے متعلقہ خطوں کی داخلی حرکیات کے بارے میں جو حقائق آشکار کیے، وہ بھی کم اہم نہیں۔</p>
<p>جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کی عسکری جھڑپ نے نئی دہلی کی علاقائی بالا دستی کی حدود کو بے نقاب کیا۔
یہ تنازع نہ صرف پاکستان کی تزویراتی قوتِ برداشت کا مظہر تھا بلکہ اس حقیقت کا بھی کہ بھارت، برصغیر میں یکطرفہ غلبہ رکھنے والا ملک نہیں ہے۔ تاریخی لحاظ سے حجم اور معیشت میں عدم توازن کے باوجود، دونوں ممالک کو عالمی سطح پر سفارتی برابری کی حیثیت حاصل رہی، جو بھارت کی برتری کے پرانے بیانیے سے ایک نمایاں انحراف ہے، اور چھوٹے ممالک کی تزویراتی خود مختاری کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ نے بھی دیرینہ تصورات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اگرچہ اسرائیل کو طویل عرصے سے تکنیکی و عسکری برتری حاصل رہی ہے لیکن ایران کی جوابی صلاحیت، برداشت اور خطے میں اس کی اتحادی ساخت نے اسے ایک قابلِ اعتبار روک تھام کی طاقت میں تبدیل کر دیا ہے۔</p>
<p>اسرائیل کی مطلق عسکری برتری کا تاثر متزلزل ہوا، صرف جنگی میدان کے اعداد و شمار میں نہیں بلکہ ان نفسیاتی اور سفارتی تاثرات میں جو جدید دور میں ہیبت طاری کرنے والی بھرپور دفاعی صلاحیت کے ذریعے قائم رہتے ہیں۔</p>
<p>ان دو جھڑپوں کے بعد عالمی توجہ صرف بحران کے حل پر نہیں رہی بلکہ ایک اور نمایاں پہلو پر بھی گئی: چین اور روس جیسے بڑے طاقتور ممالک کی براہِ راست عدم مداخلت۔</p>
<p>اگرچہ چین اور روس بالترتیب پاکستان اور ایران کے اسٹریٹجک اتحادی سمجھے جاتے ہیں لیکن دونوں نے دانستہ احتیاط برتی۔ اس خاموشی کو کمزوری سمجھنا غلط ہوگا، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا تزویراتی رویہ ہے، جو ایک کثیر قطبی دنیا کے ان کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہے۔</p>
<p>یہ احتیاط اس امر کا غماز ہے کہ اکیسویں صدی میں عالمی اثر و رسوخ صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ استحکام، اقتصادی وابستگی اور نظریاتی کشش سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ چین اور روس فوری فوائد کی بجائے تزویراتی استحکام کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر اُن خطوں میں جہاں کھلی مداخلت ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک اس پالیسی کو ترجیح دیتے ہیں کہ وہ امریکہ کو عالمی نظم کے بوجھ تلے دبائے رکھیں، اور خود غیر فوجی ذرائع، جیسے سفارت کاری، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، ہتھیاروں کی فروخت اور سائبر موجودگی، کے ذریعے اثر و رسوخ قائم رکھیں۔</p>
<p>چین کی پالیسی خاص طور پر جنگوں سے دور رہنے کی ہے، کیونکہ ایسی مداخلت اس کی عالمی معیشت اور سپلائی چینز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی حکمتِ عملی چین کے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے کی بنیاد بنی ہے۔</p>
<p>یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ چین نے پاکستان کو فضائیہ اور میزائل کی برتری فراہم کی اور ایران کو اسرائیل کے خلاف میزائل برتری، جو دونوں تنازعات میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئی۔</p>
<p>ادھر روس جو یوکرین میں پہلے ہی مصروفِ جنگ ہے اور مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، کسی دوسرے محاذ کو کھولنے یا سفارتی تنہائی کو بڑھانے سے گریزاں ہے۔</p>
<p>اس وقت جب کثیر قطبی دنیا کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، حالیہ تاریخ نے ایک کڑوی حقیقت کا مشاہدہ کروایا ہے: امریکہ اب بھی عالمی طاقت کے ہرم کے سب سے اوپر بیٹھا ہے۔</p>
<p>چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور بڑھتا ہوا برکس (بی آر آئی سی ایس) بلاک اگرچہ اقتصادی شراکت داریوں کو نئے سانچوں میں ڈھال رہے ہیں لیکن جب کہیں بحران جنم لیتا ہے تو دنیا اب بھی بیجنگ یا ماسکو کے بجائے واشنگٹن کی طرف دیکھتی ہے۔</p>
<p>یہ سچ ہے کہ ناقدین ٹرمپ کی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائیں گے کہ آیا یہ پائیدار ہے یا نہیں، لیکن زمینی حقیقت بالکل واضح ہے: عالمی نظام چاہے جتنا بھی بدل رہا ہو، بحران کے لمحوں میں امریکہ کی بالادستی بدستور قائم ہے۔</p>
<p>چین ابھی تک اس پوزیشن میں نہیں آیا کہ وہ کھلے عام دوسرے ممالک کے داخلی معاملات یا تنازعات میں مداخلت کرے، اور کم و بیش یہی بات روس پر بھی لاگو ہوتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹس بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274109</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Jun 2025 16:04:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/28153331f784865.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/28153331f784865.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
