<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی حملوں میں شہید ایرانی عسکری قیادت وسائنسدانوں کا تاریخی جنازہ،عوام کی بڑی تعداد شریک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274104/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے ہفتہ کو اسرائیل کے ساتھ جنگ  کے دوران شہید ہونے والے تقریباً 60 افراد، جن میں اس کے فوجی کمانڈر اور سائنسدان  شامل ہیں کے تاریخی جنازے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر تہران کے اعلیٰ سفارتکار نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنازے کی سرکاری تقریب  تہران کے معروف انقلاب چوک میں صبح 8 بجے (مقامی وقت کے مطابق) منعقد کی گئی، جبکہ اس موقع پر سرکاری دفاتر اور متعدد کاروباری مراکز بند رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ٹی وی کے مطابق شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب باضابطہ طور پر شروع ہوچکی ہے، اس موقع پر ٹی وی پر سیاہ لباس پہنے افراد کی ویڈیوز دکھائیں جو ایرانی پرچم لہرارہے تھے اور شہید فوجی کمانڈروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیاں سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بھی جنازے میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصاویر میں دکھایا گیا کہ وسطی تہران کے انقلاب چوک کے قریب تابوتوں پر ایرانی پرچم لپٹے ہوئے تھے اور ان پر وردی میں شہید کمانڈروں کی تصاویر آویزاں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ایران کے تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، یوں 13 جون سے جاری 12 روزہ تنازع میں اس نے اپنے اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر کی جانے والی بمباری میں عملی طور پر شمولیت اختیار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے ساتھ اسرائیل اور ایران دونوں نے فتح کا دعویٰ کیا جبکہ ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی حملوں کو یہ کہہ کر کمتر قرار دیا کہ ان سے کوئی قابلِ ذکر نقصان نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک سخت بیان میں تہران کو جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ بالکل جانتے تھے کہ وہ (خامنہ ای) کہاں پناہ لیے ہوئے تھے لیکن انہوں نے اسرائیل یا امریکی مسلح افواج کو… ان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ میں نے اُسے ایک نہایت ذلت آمیز اور عبرتناک انجام سے بچایا — اور اُسے یہ تک کہنا گوارا نہ ہوا کہ ’شکریہ، صدر ٹرمپ!‘“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ حالیہ دنوں میں ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے کے امکان پر کام کر رہے ہیں جو تہران کے اہم ترین مطالبات میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا: “لیکن نہیں، اس کے بدلے مجھے غصے، نفرت اور حقارت پر مبنی بیانات ملے جس کے فوراً بعد میں نے نہ صرف پابندیاں نرم کرنے سے متعلق تمام کام روک دیا بلکہ دیگر اقدامات بھی معطل کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سپریم لیڈر خامنہ ای سے متعلق ریپبلکن صدر کے ریمارکس کی شدید مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ اگر صدر ٹرمپ واقعی کسی معاہدے کے خواہاں ہیں تو انہیں ایران کے سپریم لیڈر کے بارے میں اپنے توہین آمیز اور ناقابلِ قبول لہجے کو ترک کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/araghchi/status/1938716761450520678?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1938716761450520678%7Ctwgr%5Edea6e431ba3326ea62bf35f16ac5af49bf5e6ca5%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40370060"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی قوم جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ اسرائیلی حکومت کے پاس ہمارے میزائلوں سے بچنے کے لیے اپنے آقا کے پاس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، دھمکیوں اور توہین آمیز رویے کو ہرگز برداشت نہیں کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران کی وزارتِ صحت کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں ایران میں کم از کم 627 عام شہری شہید ہوئے جبکہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق، ایران کے جوابی حملوں میں 28 افراد جان کی بازی ہار گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے ہفتہ کو اسرائیل کے ساتھ جنگ  کے دوران شہید ہونے والے تقریباً 60 افراد، جن میں اس کے فوجی کمانڈر اور سائنسدان  شامل ہیں کے تاریخی جنازے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر تہران کے اعلیٰ سفارتکار نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔</strong></p>
<p>جنازے کی سرکاری تقریب  تہران کے معروف انقلاب چوک میں صبح 8 بجے (مقامی وقت کے مطابق) منعقد کی گئی، جبکہ اس موقع پر سرکاری دفاتر اور متعدد کاروباری مراکز بند رہے۔</p>
<p>سرکاری ٹی وی کے مطابق شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی تقریب باضابطہ طور پر شروع ہوچکی ہے، اس موقع پر ٹی وی پر سیاہ لباس پہنے افراد کی ویڈیوز دکھائیں جو ایرانی پرچم لہرارہے تھے اور شہید فوجی کمانڈروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پزشکیاں سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بھی جنازے میں شرکت کی۔</p>
<p>تصاویر میں دکھایا گیا کہ وسطی تہران کے انقلاب چوک کے قریب تابوتوں پر ایرانی پرچم لپٹے ہوئے تھے اور ان پر وردی میں شہید کمانڈروں کی تصاویر آویزاں تھیں۔</p>
<p>امریکہ نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ایران کے تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، یوں 13 جون سے جاری 12 روزہ تنازع میں اس نے اپنے اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر کی جانے والی بمباری میں عملی طور پر شمولیت اختیار کی۔</p>
<p>جنگ بندی کے ساتھ اسرائیل اور ایران دونوں نے فتح کا دعویٰ کیا جبکہ ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی حملوں کو یہ کہہ کر کمتر قرار دیا کہ ان سے کوئی قابلِ ذکر نقصان نہیں پہنچا۔</p>
<p>جمعے کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک سخت بیان میں تہران کو جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ بالکل جانتے تھے کہ وہ (خامنہ ای) کہاں پناہ لیے ہوئے تھے لیکن انہوں نے اسرائیل یا امریکی مسلح افواج کو… ان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ میں نے اُسے ایک نہایت ذلت آمیز اور عبرتناک انجام سے بچایا — اور اُسے یہ تک کہنا گوارا نہ ہوا کہ ’شکریہ، صدر ٹرمپ!‘“۔</p>
<p>ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ حالیہ دنوں میں ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے کے امکان پر کام کر رہے ہیں جو تہران کے اہم ترین مطالبات میں سے ایک ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا: “لیکن نہیں، اس کے بدلے مجھے غصے، نفرت اور حقارت پر مبنی بیانات ملے جس کے فوراً بعد میں نے نہ صرف پابندیاں نرم کرنے سے متعلق تمام کام روک دیا بلکہ دیگر اقدامات بھی معطل کر دیے۔</p>
<p>ہفتے کو ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سپریم لیڈر خامنہ ای سے متعلق ریپبلکن صدر کے ریمارکس کی شدید مذمت کی۔</p>
<p>عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ اگر صدر ٹرمپ واقعی کسی معاہدے کے خواہاں ہیں تو انہیں ایران کے سپریم لیڈر کے بارے میں اپنے توہین آمیز اور ناقابلِ قبول لہجے کو ترک کرنا ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/araghchi/status/1938716761450520678?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1938716761450520678%7Ctwgr%5Edea6e431ba3326ea62bf35f16ac5af49bf5e6ca5%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40370060"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایرانی قوم جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ اسرائیلی حکومت کے پاس ہمارے میزائلوں سے بچنے کے لیے اپنے آقا کے پاس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، دھمکیوں اور توہین آمیز رویے کو ہرگز برداشت نہیں کرتی ہے۔</p>
<p>تہران کی وزارتِ صحت کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں ایران میں کم از کم 627 عام شہری شہید ہوئے جبکہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق، ایران کے جوابی حملوں میں 28 افراد جان کی بازی ہار گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274104</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Jun 2025 13:20:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/2813104548f7620.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/2813104548f7620.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
