<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کو نوبیل نامزدگی کا فیصلہ درست، نتیجے کی پروا نہیں، اسحاق ڈار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274099/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوبیل امن انعام کے لیے امریکی صدر کی نامزدگی کا دفاع کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے مؤقف پر بدستور قائم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران حالیہ کثیرالملکی غیر ملکی دوروں پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ناروے کی نوبیل کمیٹی نے کرنا ہے، ہمیں نتیجے سے کوئی سروکار نہیں، ہم نے تو صرف اُس حقیقت کو تسلیم کیا ہے جس کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش حکومت اور اسٹیبلشمنٹ، دونوں کی جانب سے کی گئی، جس کے لیے 11 جون کو دستخط شدہ خط بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا علمبردار سمجھتے ہیں اور میں نے خود اس نامزدگی کے خط پر دستخط کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے کردار پر نامزد کیا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دور سے پس منظر میں چلا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر تنازع کے حل کے لیے ثالثی پر آمادگی اور پرامن حل کی یقین دہانی نے عالمی سطح پر سوچ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ ون ون بنیاد پر جلد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ چین نے اصولی طور پر پاکستان کی اس تجویز سے اتفاق کرلیا ہے کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو افغانستان تک توسیع دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان، افغانستان کے ساتھ مل کر جلد ایک سہ فریقی ریلوے فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں تاکہ علاقائی روابط و معاشی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ابوظہبی میں منعقدہ پاک-امارات مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے دوران ایک پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستانی سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی تعاون سے متعلق بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی قیادت نے پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں کیے گئے ڈپازٹس کی طرز پر ہوگی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 18 برس سے التوا کا شکار اتصالات سے متعلق تنازع کے حل کے لیے جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مسلسل اپنے شہریوں کے لیے ویزا کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی درخواست کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوالات کے جوابات دیتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان نے بھارت سے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی کوئی منت سماجت کی بلکہ باوقار طریقے سے اس پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہے — چاہے وہ دہشت گردی ہو، تجارت، مسئلہ کشمیر یا سندھ طاس معاہدہ — لیکن صرف ایک جامع فریم ورک کے تحت ہی یہ سب ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جب تک دو ریاستی حل کو عملی شکل نہیں دی جاتی، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان جولائی میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے گا اور اس دوران عالمی تنازعات کے پرامن حل کو مرکزی موضوع بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نوبیل امن انعام کے لیے امریکی صدر کی نامزدگی کا دفاع کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے مؤقف پر بدستور قائم ہے۔</strong></p>
<p>وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران حالیہ کثیرالملکی غیر ملکی دوروں پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ناروے کی نوبیل کمیٹی نے کرنا ہے، ہمیں نتیجے سے کوئی سروکار نہیں، ہم نے تو صرف اُس حقیقت کو تسلیم کیا ہے جس کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔</p>
<p>وزیر خارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش حکومت اور اسٹیبلشمنٹ، دونوں کی جانب سے کی گئی، جس کے لیے 11 جون کو دستخط شدہ خط بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا علمبردار سمجھتے ہیں اور میں نے خود اس نامزدگی کے خط پر دستخط کیے ہیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے کردار پر نامزد کیا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دور سے پس منظر میں چلا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر تنازع کے حل کے لیے ثالثی پر آمادگی اور پرامن حل کی یقین دہانی نے عالمی سطح پر سوچ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ ون ون بنیاد پر جلد متوقع ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ چین نے اصولی طور پر پاکستان کی اس تجویز سے اتفاق کرلیا ہے کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو افغانستان تک توسیع دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان، افغانستان کے ساتھ مل کر جلد ایک سہ فریقی ریلوے فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں تاکہ علاقائی روابط و معاشی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ابوظہبی میں منعقدہ پاک-امارات مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے دوران ایک پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستانی سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کردی گئی ہے۔</p>
<p>اقتصادی تعاون سے متعلق بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی قیادت نے پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں کیے گئے ڈپازٹس کی طرز پر ہوگی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 18 برس سے التوا کا شکار اتصالات سے متعلق تنازع کے حل کے لیے جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مسلسل اپنے شہریوں کے لیے ویزا کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی درخواست کرتا رہا ہے۔</p>
<p>سوالات کے جوابات دیتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان نے بھارت سے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی کوئی منت سماجت کی بلکہ باوقار طریقے سے اس پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہے — چاہے وہ دہشت گردی ہو، تجارت، مسئلہ کشمیر یا سندھ طاس معاہدہ — لیکن صرف ایک جامع فریم ورک کے تحت ہی یہ سب ممکن ہے۔</p>
<p>اسرائیل سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جب تک دو ریاستی حل کو عملی شکل نہیں دی جاتی، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان جولائی میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے گا اور اس دوران عالمی تنازعات کے پرامن حل کو مرکزی موضوع بنایا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274099</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Jun 2025 11:44:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/28113847d4c4b4f.png" type="image/png" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/28113847d4c4b4f.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
