<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 09:48:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 09:48:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوہر اعجاز نے 2018 اور 2022 کے ’عروج و زوال کے ادوار‘ کا ذمہ دار بیرونی ایندھن کے جھٹکوں کو قرار دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274091/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نگران وفاقی وزیر برائے تجارت و صنعت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی عروج و زوال کے ادوار کی اصل وجہ بین الاقوامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ تھا، نہ کہ کم شرح سود کے باعث صارفین کی درآمدات، جنہیں عام طور پر زوال کا محرک سمجھا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ 2018 اور 2022 دونوں مواقع پر تجارتی اور جاری کھاتوں کے خسارے میں اضافہ داخلی مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں نہیں، بلکہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکوں کے سبب ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر نے کہا کہ اُن افراد کے لیے یہ ایک نہایت قابلِ غور نکتہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ 2018 اور 2022 کے معاشی عروج و زوال کا سبب کم شرح سود تھی۔ ان دونوں مواقع پر دراصل بین الاقوامی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، نہ کہ کم شرح سود کے باعث صارفین کی درآمدات، جو عام طور پر زوال کی وجہ سمجھی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال تقریباً 3 کھرب روپے کا ضیاع صرف بلند شرح سود کی وجہ سے ہونے والے اخراجات میں کر رہی ہے۔  سابق وزیر نے مزید کہا کہ وفاقی بجٹ کا 50 فیصد سے زائد حصہ صرف اندرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیا جاتا ہے، اور یہ سب اُس غلط فہمی کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ یہ ادائیگیاں معاشی عروج و زوال کو روکنے میں مدد دیتی ہیں۔ حالانکہ 2018 اور 2022 دونوں میں معاشی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے بگاڑ کی اصل وجہ مقامی شرح سود نہیں، بلکہ بیرونی ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکے تھے.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نگران وفاقی وزیر برائے تجارت و صنعت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی عروج و زوال کے ادوار کی اصل وجہ بین الاقوامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ تھا، نہ کہ کم شرح سود کے باعث صارفین کی درآمدات، جنہیں عام طور پر زوال کا محرک سمجھا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ 2018 اور 2022 دونوں مواقع پر تجارتی اور جاری کھاتوں کے خسارے میں اضافہ داخلی مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں نہیں، بلکہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکوں کے سبب ہوا۔</p>
<p>سابق وزیر نے کہا کہ اُن افراد کے لیے یہ ایک نہایت قابلِ غور نکتہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ 2018 اور 2022 کے معاشی عروج و زوال کا سبب کم شرح سود تھی۔ ان دونوں مواقع پر دراصل بین الاقوامی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، نہ کہ کم شرح سود کے باعث صارفین کی درآمدات، جو عام طور پر زوال کی وجہ سمجھی جاتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال تقریباً 3 کھرب روپے کا ضیاع صرف بلند شرح سود کی وجہ سے ہونے والے اخراجات میں کر رہی ہے۔  سابق وزیر نے مزید کہا کہ وفاقی بجٹ کا 50 فیصد سے زائد حصہ صرف اندرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیا جاتا ہے، اور یہ سب اُس غلط فہمی کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ یہ ادائیگیاں معاشی عروج و زوال کو روکنے میں مدد دیتی ہیں۔ حالانکہ 2018 اور 2022 دونوں میں معاشی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے بگاڑ کی اصل وجہ مقامی شرح سود نہیں، بلکہ بیرونی ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکے تھے.</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274091</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Jun 2025 00:17:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/280009418c5744a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/280009418c5744a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
