<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا سندھ طاس ثالثی فیصلے کا خیرمقدم، بھارت سے مذاکرات پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274090/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے جمعے کے روز سندھ طاس معاملے پر ثالثی عدالت کی جانب سے جاری کردہ ضمنی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں عدالت نے اپنے دائرہ اختیار کو برقرار رکھا اور بھارت کے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ معاملہ غیر جانبدار ماہر کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) کے اس فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات نہ تو ثالثی عدالت اور نہ ہی غیر جانبدار ماہر کے دائرہ اختیار کو ختم کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”عدالت نے حالیہ پیش رفت کی روشنی میں اپنے دائرہ اختیار کی تصدیق کی ہے۔“ پاکستان کو اب کیس کے پہلے مرحلے، یعنی تنازع کے میرٹ سے متعلق فیصلے کا انتظار ہے، جس کی سماعت جولائی 2024 میں پیس پیلس، دی ہیگ میں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بھارت کے ساتھ دوبارہ رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام حل طلب مسائل، بشمول سندھ طاس معاہدے کے موثر نفاذ، پر بامعنی مذاکرات کی بحالی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 24 جون 2025 کو اپنے ایک وسیع پیمانے پر شائع ہونے والے بیان میں اسلام آباد کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پر بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، جن میں جموں و کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور استعمال کا تعین کرتا ہے اور یہ معاہدہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اہم آبی انتظامی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں جاری قانونی کارروائیاں بھارت کی جانب سے ان دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی تعمیر سے متعلق ہیں جو اس معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے جمعے کے روز سندھ طاس معاملے پر ثالثی عدالت کی جانب سے جاری کردہ ضمنی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں عدالت نے اپنے دائرہ اختیار کو برقرار رکھا اور بھارت کے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ معاملہ غیر جانبدار ماہر کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔</strong></p>
<p>دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) کے اس فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات نہ تو ثالثی عدالت اور نہ ہی غیر جانبدار ماہر کے دائرہ اختیار کو ختم کر سکتے ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”عدالت نے حالیہ پیش رفت کی روشنی میں اپنے دائرہ اختیار کی تصدیق کی ہے۔“ پاکستان کو اب کیس کے پہلے مرحلے، یعنی تنازع کے میرٹ سے متعلق فیصلے کا انتظار ہے، جس کی سماعت جولائی 2024 میں پیس پیلس، دی ہیگ میں ہوئی تھی۔</p>
<p>پاکستان نے بھارت کے ساتھ دوبارہ رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام حل طلب مسائل، بشمول سندھ طاس معاہدے کے موثر نفاذ، پر بامعنی مذاکرات کی بحالی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 24 جون 2025 کو اپنے ایک وسیع پیمانے پر شائع ہونے والے بیان میں اسلام آباد کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پر بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، جن میں جموں و کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی شامل ہیں۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور استعمال کا تعین کرتا ہے اور یہ معاہدہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اہم آبی انتظامی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>حال ہی میں جاری قانونی کارروائیاں بھارت کی جانب سے ان دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی تعمیر سے متعلق ہیں جو اس معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274090</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Jun 2025 23:54:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/2723541225f986f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="315" width="576">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/2723541225f986f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
