<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران شہید اعلیٰ عسکری و جوہری شخصیات کے تاریخی جنازے کا اہتمام کرے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274087/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران ہفتہ کے روز تہران میں ان 60 افراد کے لیے ایک ’’تاریخی‘‘ جنازے کی تقریب منعقد کرے گا، جنہیں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران شہید کیا گیا، ان میں اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنسدان بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس یادگاری تقریب کا آغاز صبح 8 بجے (مقامی وقت) تہران کے وسطی علاقے میں واقع انقلاب (ریولوشن) چوک سے ہوگا، جس کے بعد شہداء کے جنازوں کا جلوس تقریباً 11 کلومیٹر دور آزادی (فریڈم) چوک کی جانب روانہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران کی اسلامی ترقیاتی رابطہ کونسل کے سربراہ محسن محمودی نے جمعہ کو ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا ہے کہ وہاں ایک مختصر تقریب منعقد کی جائے گی جس کے بعد شہداء کے جلوس جنازہ آزادی چوک کی طرف روانہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کل کا دن اسلامی جمہوریہ ایران اور انقلاب کے لیے ایک تاریخی دن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہداء میں جنرل محمد باقری بھی شامل ہیں، جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب میں میجر جنرل کے عہدے پر فائز تھے اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد مسلح افواج کے دوسرے بڑے کمانڈر سمجھے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں ان کی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔ ان کی بیٹی ایک مقامی میڈیا ادارے میں صحافی تھیں۔ یہ تینوں افراد اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حملے میں شہید ہونے والے جوہری سائنسدان محمد مہدی تہرانچی کو بھی ان کی اہلیہ کے ہمراہ سپرد خاک کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنازے کی تقریب میں جن شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا، ان میں چار خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنگ 13 جون کو اُس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے ایران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کے مبینہ منصوبے کو روکنے کے لیے حملے کیے،ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کم از کم 30 اعلیٰ کمانڈرز شہید ہوئے، جن میں سپہ سالار حسین سلامی اور ایئرواسپیس فورس کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ بھی شامل ہیں، جو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے نگران تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاحال اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ہفتہ کو ہونے والے جنازے میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اس سے قبل ایران کی اعلیٰ قیادت کی جنازہ تقاریب میں شرکت کرتے رہے ہیں، جن میں گزشتہ سال ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی نمازِ جنازہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 627 عام شہری شہید اور قریباً 4,900 افراد زخمی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے جوابی حملوں میں 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران ہفتہ کے روز تہران میں ان 60 افراد کے لیے ایک ’’تاریخی‘‘ جنازے کی تقریب منعقد کرے گا، جنہیں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران شہید کیا گیا، ان میں اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنسدان بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>اس یادگاری تقریب کا آغاز صبح 8 بجے (مقامی وقت) تہران کے وسطی علاقے میں واقع انقلاب (ریولوشن) چوک سے ہوگا، جس کے بعد شہداء کے جنازوں کا جلوس تقریباً 11 کلومیٹر دور آزادی (فریڈم) چوک کی جانب روانہ ہوگا۔</p>
<p>تہران کی اسلامی ترقیاتی رابطہ کونسل کے سربراہ محسن محمودی نے جمعہ کو ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا ہے کہ وہاں ایک مختصر تقریب منعقد کی جائے گی جس کے بعد شہداء کے جلوس جنازہ آزادی چوک کی طرف روانہ ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کل کا دن اسلامی جمہوریہ ایران اور انقلاب کے لیے ایک تاریخی دن ہوگا۔</p>
<p>شہداء میں جنرل محمد باقری بھی شامل ہیں، جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب میں میجر جنرل کے عہدے پر فائز تھے اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد مسلح افواج کے دوسرے بڑے کمانڈر سمجھے جاتے تھے۔</p>
<p>انہیں ان کی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔ ان کی بیٹی ایک مقامی میڈیا ادارے میں صحافی تھیں۔ یہ تینوں افراد اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔</p>
<p>اسی حملے میں شہید ہونے والے جوہری سائنسدان محمد مہدی تہرانچی کو بھی ان کی اہلیہ کے ہمراہ سپرد خاک کیا جائے گا۔</p>
<p>جنازے کی تقریب میں جن شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا، ان میں چار خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>یہ جنگ 13 جون کو اُس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے ایران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کے مبینہ منصوبے کو روکنے کے لیے حملے کیے،ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔</p>
<p>مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کم از کم 30 اعلیٰ کمانڈرز شہید ہوئے، جن میں سپہ سالار حسین سلامی اور ایئرواسپیس فورس کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ بھی شامل ہیں، جو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے نگران تھے۔</p>
<p>تاحال اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ہفتہ کو ہونے والے جنازے میں شرکت کریں گے۔</p>
<p>رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اس سے قبل ایران کی اعلیٰ قیادت کی جنازہ تقاریب میں شرکت کرتے رہے ہیں، جن میں گزشتہ سال ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی نمازِ جنازہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 627 عام شہری شہید اور قریباً 4,900 افراد زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے جوابی حملوں میں 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274087</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Jun 2025 21:32:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/27211058300dd04.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="667" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/27211058300dd04.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
