<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 04:51:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Jul 2026 04:51:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں، این ڈی ایم اے کا ممکنہ نقصانات سے متعلق انتباہ جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274085/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے (این ڈی ایم اے) نے جمعرات کے روز ملک کے بیشتر علاقوں کے لیے ممکنہ نقصانات پر مبنی موسمی انتباہات جاری کیے ہیں کیونکہ آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے کئی حصوں میں شدید بارشوں اور گرج چمک کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق سندھ کے اہم اضلاع، جن میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، نوابشاہ، تھرپارکر، میرپور خاص، عمرکوٹ، بدین، خیرپور، سانگھڑ اور جامشورو شامل ہیں، میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے موسم کے باعث نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب اور پانی جمع ہونے کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کے بالائی اور وسطی علاقے، جن میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، مری، گلیات، میانوالی، گوجرانوالہ، سرگودھا اور اسلام آباد شامل ہیں، میں بھی خاطر خواہ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ شدید بارشوں کے نتیجے میں مقامی سطح پر سیلابی صورتِ حال اور آمد و رفت سمیت روزمرہ سرگرمیوں میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر خیبر پختونخوا میں بھی مون سون کی بھرپور سرگرمیوں کے امکانات کے پیش نظر ہنگامی تیاریوں کا عمل جاری ہے۔ سوات، چترال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، دیر، کوہاٹ، کرک، بنوں، پشاور اور وزیرستان سمیت کئی اضلاع میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈز) اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی بلوچستان کے بعض حصے بھی اس موسمی نظام سے متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم فوری الرٹس کا دائرہ کار تاحال تین اہم صوبوں، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا، تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای این ڈی ایم اے نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی انتظامی اداروں (پی ڈی ایم اے)، ضلع انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے کہا ہے کہ وہ پیشگی اقدامات کریں اور شدید موسم کے واقعات کے ممکنہ اثرات کم کرنے کے لیے ایمرجنسی منصوبوں کو فعال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، کمزور ڈھانچوں سے دور رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے (این ڈی ایم اے) نے جمعرات کے روز ملک کے بیشتر علاقوں کے لیے ممکنہ نقصانات پر مبنی موسمی انتباہات جاری کیے ہیں کیونکہ آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے کئی حصوں میں شدید بارشوں اور گرج چمک کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق سندھ کے اہم اضلاع، جن میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، نوابشاہ، تھرپارکر، میرپور خاص، عمرکوٹ، بدین، خیرپور، سانگھڑ اور جامشورو شامل ہیں، میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں۔</p>
<p>ایسے موسم کے باعث نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب اور پانی جمع ہونے کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>پنجاب کے بالائی اور وسطی علاقے، جن میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، مری، گلیات، میانوالی، گوجرانوالہ، سرگودھا اور اسلام آباد شامل ہیں، میں بھی خاطر خواہ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>انتظامیہ نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ شدید بارشوں کے نتیجے میں مقامی سطح پر سیلابی صورتِ حال اور آمد و رفت سمیت روزمرہ سرگرمیوں میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر خیبر پختونخوا میں بھی مون سون کی بھرپور سرگرمیوں کے امکانات کے پیش نظر ہنگامی تیاریوں کا عمل جاری ہے۔ سوات، چترال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، دیر، کوہاٹ، کرک، بنوں، پشاور اور وزیرستان سمیت کئی اضلاع میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈز) اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں موجود ہے۔</p>
<p>شمالی بلوچستان کے بعض حصے بھی اس موسمی نظام سے متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم فوری الرٹس کا دائرہ کار تاحال تین اہم صوبوں، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا، تک محدود ہے۔</p>
<p>ای این ڈی ایم اے نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی انتظامی اداروں (پی ڈی ایم اے)، ضلع انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے کہا ہے کہ وہ پیشگی اقدامات کریں اور شدید موسم کے واقعات کے ممکنہ اثرات کم کرنے کے لیے ایمرجنسی منصوبوں کو فعال کریں۔</p>
<p>عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، کمزور ڈھانچوں سے دور رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274085</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Jun 2025 18:34:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/2718180687591fb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/2718180687591fb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
