<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی وزیر احد چیمہ کی واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک کی قیادت سے اہم ملاقاتیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274080/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور عالمی بینک نے واشنگٹن ڈی سی میں اعلیٰ سطح مشاورت کے دوران اپنی ترقیاتی شراکت داری کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا، دونوں فریقین نے حال ہی میں آغاز کیے گئے 40 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) 2026–2035 پر مؤثر عملدرآمد کے لیے مشترکہ عزم ظاہر کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق یہ پیشرفت وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ کے سرکاری دورہ امریکہ کے دوران عالمی بینک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات میں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز آنا بیئر ڈے اور جنوبی ایشیا کے نائب صدر مارٹن رائزر  سے ملاقات کے دوران گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور عالمی بینک  کے درمیان مضبوط ہوتی ہوئی شراکت داری کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق یہ مضبوط تر شراکت داری نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) 2026–2035 کی تشکیل پر منتج ہوئی ہے جو ایک انقلابی دس سالہ حکمت عملی ہے اور جس کے لیے عالمی بینک کی جانب سے غیر معمولی 40 ارب ڈالر کی معاونت کا عزم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران احد خان چیمہ نے مشکل اوقات میں، بالخصوص کووڈ-19 کی وبا اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے دوران، عالمی بینک کی مؤثر معاونت پر دلی تشکر اور گہری قدردانی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ بطور پاکستان کے سب سے بڑے ترقیاتی شراکت دار، عالمی بنک نے ہماری معاشی و سماجی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی ایف کے کامیاب آغاز کے بعد احد خان چیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اب اپنی مکمل توجہ عالمی بینک کے ساتھ اشتراک سے جامع عملی فریم ورک کی تیاری پر مرکوز کررہی ہے تاکہ اس حکمت عملی کے اہداف پوری طرح حاصل کیے جاسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احد خان چیمہ نے پاکستان کی عالمی بینک کے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ  ریجن میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیا، جو نائب صدر عثمان دیون کی قیادت میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام علم و تجربے کے تبادلے اور علاقائی تعاون کے لیے قیمتی مواقع فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا عالمی بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبدالحق بجاوی سے ایک علیحدہ ملاقات میں احد خان چیمہ نے پاکستان کے اقتصادی مفادات کی مؤثر نمائندگی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ عالمی بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو اپنے حلقہ انتخاب میں شامل ممالک کے باقاعدہ دورے کرنے چاہییں تاکہ ان ممالک کی ترقیاتی ضروریات اور عالمی بینک کے ممکنہ تعاون کے مواقع کو بہتر انداز میں سمجھا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی امور ڈویژن  کے بیان کے مطابق مذاکرات کے دوران عالمی بینک کی حالیہ منظوریوں پر بھی روشنی ڈالی گئی جن میں 70 کروڑ ڈالر کا ریکوڈک مائننگ منصوبہ اور 40 کروڑ ڈالر کا رسک پارٹیسپیشن فسیلٹی شامل ہیں، جو اعتراضات کے باوجود آگے بڑھائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احد خان چیمہ نے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے بلند پایہ ترقیاتی اہداف اور انقلابی اثرات کے حصول کے لیے عالمی بینک کی ملکی ٹیم کے ساتھ قریبی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور عالمی بینک نے واشنگٹن ڈی سی میں اعلیٰ سطح مشاورت کے دوران اپنی ترقیاتی شراکت داری کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا، دونوں فریقین نے حال ہی میں آغاز کیے گئے 40 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) 2026–2035 پر مؤثر عملدرآمد کے لیے مشترکہ عزم ظاہر کیا۔</strong></p>
<p>اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق یہ پیشرفت وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ کے سرکاری دورہ امریکہ کے دوران عالمی بینک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات میں ہوئی۔</p>
<p>وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز آنا بیئر ڈے اور جنوبی ایشیا کے نائب صدر مارٹن رائزر  سے ملاقات کے دوران گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور عالمی بینک  کے درمیان مضبوط ہوتی ہوئی شراکت داری کو سراہا۔</p>
<p>بیان کے مطابق یہ مضبوط تر شراکت داری نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) 2026–2035 کی تشکیل پر منتج ہوئی ہے جو ایک انقلابی دس سالہ حکمت عملی ہے اور جس کے لیے عالمی بینک کی جانب سے غیر معمولی 40 ارب ڈالر کی معاونت کا عزم کیا گیا ہے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران احد خان چیمہ نے مشکل اوقات میں، بالخصوص کووڈ-19 کی وبا اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے دوران، عالمی بینک کی مؤثر معاونت پر دلی تشکر اور گہری قدردانی کا اظہار کیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ بطور پاکستان کے سب سے بڑے ترقیاتی شراکت دار، عالمی بنک نے ہماری معاشی و سماجی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>سی پی ایف کے کامیاب آغاز کے بعد احد خان چیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اب اپنی مکمل توجہ عالمی بینک کے ساتھ اشتراک سے جامع عملی فریم ورک کی تیاری پر مرکوز کررہی ہے تاکہ اس حکمت عملی کے اہداف پوری طرح حاصل کیے جاسکیں۔</p>
<p>احد خان چیمہ نے پاکستان کی عالمی بینک کے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ  ریجن میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیا، جو نائب صدر عثمان دیون کی قیادت میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام علم و تجربے کے تبادلے اور علاقائی تعاون کے لیے قیمتی مواقع فراہم کرے گا۔</p>
<p>دریں اثنا عالمی بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبدالحق بجاوی سے ایک علیحدہ ملاقات میں احد خان چیمہ نے پاکستان کے اقتصادی مفادات کی مؤثر نمائندگی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ عالمی بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو اپنے حلقہ انتخاب میں شامل ممالک کے باقاعدہ دورے کرنے چاہییں تاکہ ان ممالک کی ترقیاتی ضروریات اور عالمی بینک کے ممکنہ تعاون کے مواقع کو بہتر انداز میں سمجھا جاسکے۔</p>
<p>اقتصادی امور ڈویژن  کے بیان کے مطابق مذاکرات کے دوران عالمی بینک کی حالیہ منظوریوں پر بھی روشنی ڈالی گئی جن میں 70 کروڑ ڈالر کا ریکوڈک مائننگ منصوبہ اور 40 کروڑ ڈالر کا رسک پارٹیسپیشن فسیلٹی شامل ہیں، جو اعتراضات کے باوجود آگے بڑھائے گئے۔</p>
<p>احد خان چیمہ نے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے بلند پایہ ترقیاتی اہداف اور انقلابی اثرات کے حصول کے لیے عالمی بینک کی ملکی ٹیم کے ساتھ قریبی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274080</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Jun 2025 15:39:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/27153143a787a9a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/27153143a787a9a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
