<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 09:33:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 09:33:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نقصان میں چلنے والی جنکوز کی تیزرفتار نجکاری کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274044/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے چارجنگ اسٹیشنز کے جلد قیام اور نقصان میں چلنے والی پاور جنریشن کمپنیوں (جنکوز) کی تیز رفتار نجکاری کی ہدایت کی ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کے حکام نے جاری بجلی شعبے کی اصلاحات کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت دی کہ نقصان میں چلنے والی پاور جنریشن کمپنیوں کی نیلامی کا عمل میڈیا پر براہِ راست نشر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت توانائی کے حکام نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ حکومت نے پرانی اور نقصان میں چلنے والی جنکوز کے پہلے مرحلے کی نیلامی سے 9.05 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ جنکوز کی نیلامی کے دوسرے اور تیسرے مراحل تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نیلامی کے عمل کو براہِ راست نشر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ 36 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کے نرخوں پر مذاکرات سے قومی خزانے کو 3.69 کھرب روپے کی بچت متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا گیا کہ صنعتوں کو براہِ راست قومی ٹرانسمیشن گرڈ سے جوڑنے کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں تاکہ صنعتی صارفین کو بغیر وقفے کے بجلی فراہم کی جا سکے۔ اس اقدام سے پیداوار، برآمدات اور زرِ مبادلہ کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساختی اصلاحات کے تحت، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی ایل) کو دو اداروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے — انرجی انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی اور نیشنل گرڈ کمپنی — جنہیں مخصوص ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں برقی نقل و حمل کو فروغ دینے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے چارجنگ اسٹیشنز کی درخواستوں کے لیے آن لائن پورٹل فعال ہے جس پر اب تک 120 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں اور 48 اسٹیشنز عبوری طور پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ موجودہ ای وی چارجنگ اسٹیشنز کو بھی قانونی حیثیت دی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ بجلی کے شعبے میں نگرانی اور منصوبہ بندی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) قائم کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں زیادہ تر بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے انتظامی بورڈز کو بھی دوبارہ تشکیل دے کر مکمل طور پر فعال کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بڑے ٹرانسمیشن لائن منصوبوں، جن میں مٹیاری-مورو-رحیم یار خان اور غازی بروٹھا-فیصل آباد لائنز شامل ہیں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ مقامی اور بین الاقوامی اداروں نے ان منصوبوں کی مالی معاونت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ آئندہ 6 سال میں 2.4 کھرب روپے کے سرکلر قرضے کو ختم کرنے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی بچت کو فروغ دینے کے لیے، توانائی بچانے والے پنکھے خریدنے کے لیے آسان بینک قرضے فراہم کرنے کی اسکیم تیار کی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومتوں کے مشورے سے توانائی کی بچت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کے لیے روڈ میپ بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے سمارٹ میٹرز کی فوری تنصیب کا بھی حکم دیا اور اس حوالے سے رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن مکمل کر لی ہے جس سے صوبے میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ عوامی ریلیف کی فراہمی اور صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ تجدید پذیر توانائی اور کم لاگت، ماحول دوست منصوبوں پر کام بلا تاخیر شروع کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ سردیوں کے موسم میں صارفین کو بجلی کے نرخوں میں رعایت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے چارجنگ اسٹیشنز کے جلد قیام اور نقصان میں چلنے والی پاور جنریشن کمپنیوں (جنکوز) کی تیز رفتار نجکاری کی ہدایت کی ۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کے حکام نے جاری بجلی شعبے کی اصلاحات کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت دی کہ نقصان میں چلنے والی پاور جنریشن کمپنیوں کی نیلامی کا عمل میڈیا پر براہِ راست نشر کیا جائے۔</p>
<p>وزارت توانائی کے حکام نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ حکومت نے پرانی اور نقصان میں چلنے والی جنکوز کے پہلے مرحلے کی نیلامی سے 9.05 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا ہے۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ جنکوز کی نیلامی کے دوسرے اور تیسرے مراحل تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نیلامی کے عمل کو براہِ راست نشر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ 36 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کے نرخوں پر مذاکرات سے قومی خزانے کو 3.69 کھرب روپے کی بچت متوقع ہے۔</p>
<p>حکام نے بتایا گیا کہ صنعتوں کو براہِ راست قومی ٹرانسمیشن گرڈ سے جوڑنے کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں تاکہ صنعتی صارفین کو بغیر وقفے کے بجلی فراہم کی جا سکے۔ اس اقدام سے پیداوار، برآمدات اور زرِ مبادلہ کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>ساختی اصلاحات کے تحت، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی ایل) کو دو اداروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے — انرجی انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی اور نیشنل گرڈ کمپنی — جنہیں مخصوص ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں برقی نقل و حمل کو فروغ دینے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے چارجنگ اسٹیشنز کی درخواستوں کے لیے آن لائن پورٹل فعال ہے جس پر اب تک 120 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں اور 48 اسٹیشنز عبوری طور پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ موجودہ ای وی چارجنگ اسٹیشنز کو بھی قانونی حیثیت دی جاچکی ہے۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ بجلی کے شعبے میں نگرانی اور منصوبہ بندی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) قائم کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں زیادہ تر بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے انتظامی بورڈز کو بھی دوبارہ تشکیل دے کر مکمل طور پر فعال کردیا گیا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں بڑے ٹرانسمیشن لائن منصوبوں، جن میں مٹیاری-مورو-رحیم یار خان اور غازی بروٹھا-فیصل آباد لائنز شامل ہیں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ مقامی اور بین الاقوامی اداروں نے ان منصوبوں کی مالی معاونت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ آئندہ 6 سال میں 2.4 کھرب روپے کے سرکلر قرضے کو ختم کرنے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>توانائی کی بچت کو فروغ دینے کے لیے، توانائی بچانے والے پنکھے خریدنے کے لیے آسان بینک قرضے فراہم کرنے کی اسکیم تیار کی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومتوں کے مشورے سے توانائی کی بچت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کے لیے روڈ میپ بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے سمارٹ میٹرز کی فوری تنصیب کا بھی حکم دیا اور اس حوالے سے رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن مکمل کر لی ہے جس سے صوبے میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ عوامی ریلیف کی فراہمی اور صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ تجدید پذیر توانائی اور کم لاگت، ماحول دوست منصوبوں پر کام بلا تاخیر شروع کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ سردیوں کے موسم میں صارفین کو بجلی کے نرخوں میں رعایت دی گئی تھی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274044</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Jun 2025 13:47:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/26110838b256a46.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="478" width="864">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/26110838b256a46.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
