<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تیزی: تیسری سہ ماہی میں 2 ارب ٹرانزیکشنز ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274041/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو 2 ارب ٹرانزیکشنز تک پہنچ گئیں اور مجموعی ریٹیل ادائیگیوں کا 89 فیصد حصہ بنیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2025ء کی تیسری سہہ ماہی یعنی جنوری تا مارچ کے لیے نظامِ ادائیگی پر مبنی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں ادائیگیوں کے نظام کا خلاصہ پیش کیا گیا اور ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں نمایاں تبدیلیوں کو اجاگر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں لین دین کی تعداد اور مالیت میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اس سہ ماہی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی تعداد 2 ارب سے تجاوز کر گئی، جو مجموعی ریٹیل ادائیگیوں کا 89 فیصد بن چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کہ اوور دی کاؤنٹر (او ٹی سی) چینلز کے ذریعے 267 ملین ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں، جو مجموعی ریٹیل ادائیگیوں کا باقی ماندہ 11 فیصد حصہ بنتی ہیں۔ تاہم، مالیاتی لحاظ سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حصہ صرف 29 فیصد رہا، جو کہ 48 کھرب روپے بنتا ہے، جبکہ 71 فیصد (117 کھرب روپے) کی ادائیگیاں او ٹی سی ذرائع سے کی گئیں، جن میں بینک برانچز اور برانچ لیس بینکاری ایجنٹس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل ادائیگیوں کی تعداد میں 12 فیصد اضافہ ہوا، جو 2,408 ملین ٹرانزیکشنز تک پہنچ گئی، جبکہ مجموعی لین دین کی مالیت میں 8 فیصد اضافہ ہوا جو 164 کھرب روپے تک جا پہنچی۔ مزید برآں، مجموعی ریٹیل ادائیگیوں میں سے 89 فیصد لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل ایپ پر مبنی پلیٹ فارمز، جن میں موبائل بینکنگ ایپس، برانچ لیس بینکاری (بی بی) والیٹس، اور ای-منی والیٹس شامل ہیں، نے اس سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 1,686 ملین ٹرانزیکشنز انجام دیں، جن کی مالیت 27 کھرب روپے رہی۔ یہ ٹرانزیکشنز حجم میں 16 فیصد اور مالیت میں 22 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ایپس کے صارفین باآسانی فنڈز کی منتقلی اور بلوں کی ادائیگی بغیر کسی بینک برانچ یا ایجنٹ کے جا سکتے ہیں۔ بینکوں کی موبائل ایپ بینکنگ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 7 فیصد اضافے کے ساتھ 22.6 ملین ہو گئی، جبکہ برانچ لیس بینکاری اور ای منی اداروں کے موبائل والیٹس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 68.5 ملین (6 فیصد اضافہ) اور 5.3 ملین (12 فیصد اضافہ) تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل بینکنگ خدمات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ موبائل بینکنگ ایپ کے صارفین کی تعداد 7 فیصد اضافہ کے ساتھ 22.6 ملین تک پہنچ گئی، ای منی والیٹس کے صارفین 12 فیصد اضافے سے 5.3 ملین اوربرانچ لیس بینکاری  والیٹس کے صارفین 6 فیصد اضافہ کے ساتھ 68.5 ملین ہو گئے۔ اسی طرح، انٹرنیٹ بینکنگ صارفین کی تعداد 7 فیصد بڑھ کر 14.1 ملین تک جا پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای کامرس ادائیگیوں میں پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا —
حجم میں 40 فیصد اضافہ کے ساتھ ٹرانزیکشنز کی تعداد 213 ملین تک پہنچ گئی،
جبکہ مالیت میں 34 فیصد اضافہ کے ساتھ یہ رقم 258 ارب روپے تک جا پہنچی۔ای کامرس ادائیگیوں میں ڈیجیٹل والیٹس سب سے نمایاں رہے، جن کا حصہ 94 فیصد (199.1 ملین روپے) تھا جبکہ کارڈ کے ذریعے آن لائن ادائیگیاں صرف 6 فیصد (13.5 ملین روپے) تک محدود رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹور پر خریداری کے لیے 140,861 مرچنٹس نے 179,383 پوائنٹ آف سیلز (پی او ایس) مشینوں کے نیٹ ورک کے ذریعے 99 ملین ٹرانزیکشنز کیں، جن کی مالیت 550 ارب روپے رہی — جو حجم میں 12 فیصد اور مالیت میں 8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔مزید برآں، کیو آر کوڈز قبول کرنے والے مرچنٹس نے 21.7 ملین ٹرانزیکشنز کیں، جن کی مجموعی مالیت 61 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زیرِ انتظام ادائیگی کے نظام — راست (فوری ادائیگی نظام) اور ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم  — نے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، راست نے اس سہ ماہی کے دوران 371 ملین ٹرانزیکشنز انجام دیں، جن کی مجموعی مالیت 8.5 کھرب روپے رہی۔اس نظام کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 1.5 ارب ٹرانزیکشنز مکمل ہو چکی ہیں، جن کی مالیت 34 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ دوسری جانب ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم کے ذریعے بڑی مالیت کی 1.5 ملین ادائیگیاں کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 347 کھرب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل معیشت کی جانب رجحان اسٹیٹ بینک  کی حکمتِ عملی پر مبنی اقدامات کے ساتھ بینکوں، فِن ٹیک اداروں اور ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والوں کی مشترکہ کاوشوں سے بھرپور طریقے سے فروغ پا رہا ہے۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار میں وسعت کے ساتھ، اسٹیٹ بینک تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے مالی شمولیت کو فروغ دینے اور ادائیگیوں کے نظام کی مؤثریت بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو 2 ارب ٹرانزیکشنز تک پہنچ گئیں اور مجموعی ریٹیل ادائیگیوں کا 89 فیصد حصہ بنیں۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2025ء کی تیسری سہہ ماہی یعنی جنوری تا مارچ کے لیے نظامِ ادائیگی پر مبنی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں ادائیگیوں کے نظام کا خلاصہ پیش کیا گیا اور ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں نمایاں تبدیلیوں کو اجاگر کیا گیا۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں لین دین کی تعداد اور مالیت میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اس سہ ماہی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی تعداد 2 ارب سے تجاوز کر گئی، جو مجموعی ریٹیل ادائیگیوں کا 89 فیصد بن چکی ہیں۔</p>
<p>جب کہ اوور دی کاؤنٹر (او ٹی سی) چینلز کے ذریعے 267 ملین ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں، جو مجموعی ریٹیل ادائیگیوں کا باقی ماندہ 11 فیصد حصہ بنتی ہیں۔ تاہم، مالیاتی لحاظ سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حصہ صرف 29 فیصد رہا، جو کہ 48 کھرب روپے بنتا ہے، جبکہ 71 فیصد (117 کھرب روپے) کی ادائیگیاں او ٹی سی ذرائع سے کی گئیں، جن میں بینک برانچز اور برانچ لیس بینکاری ایجنٹس شامل ہیں۔</p>
<p>ریٹیل ادائیگیوں کی تعداد میں 12 فیصد اضافہ ہوا، جو 2,408 ملین ٹرانزیکشنز تک پہنچ گئی، جبکہ مجموعی لین دین کی مالیت میں 8 فیصد اضافہ ہوا جو 164 کھرب روپے تک جا پہنچی۔ مزید برآں، مجموعی ریٹیل ادائیگیوں میں سے 89 فیصد لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں۔</p>
<p>موبائل ایپ پر مبنی پلیٹ فارمز، جن میں موبائل بینکنگ ایپس، برانچ لیس بینکاری (بی بی) والیٹس، اور ای-منی والیٹس شامل ہیں، نے اس سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 1,686 ملین ٹرانزیکشنز انجام دیں، جن کی مالیت 27 کھرب روپے رہی۔ یہ ٹرانزیکشنز حجم میں 16 فیصد اور مالیت میں 22 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔</p>
<p>ان ایپس کے صارفین باآسانی فنڈز کی منتقلی اور بلوں کی ادائیگی بغیر کسی بینک برانچ یا ایجنٹ کے جا سکتے ہیں۔ بینکوں کی موبائل ایپ بینکنگ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 7 فیصد اضافے کے ساتھ 22.6 ملین ہو گئی، جبکہ برانچ لیس بینکاری اور ای منی اداروں کے موبائل والیٹس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 68.5 ملین (6 فیصد اضافہ) اور 5.3 ملین (12 فیصد اضافہ) تک پہنچ گئی۔</p>
<p>ڈیجیٹل بینکنگ خدمات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ موبائل بینکنگ ایپ کے صارفین کی تعداد 7 فیصد اضافہ کے ساتھ 22.6 ملین تک پہنچ گئی، ای منی والیٹس کے صارفین 12 فیصد اضافے سے 5.3 ملین اوربرانچ لیس بینکاری  والیٹس کے صارفین 6 فیصد اضافہ کے ساتھ 68.5 ملین ہو گئے۔ اسی طرح، انٹرنیٹ بینکنگ صارفین کی تعداد 7 فیصد بڑھ کر 14.1 ملین تک جا پہنچی۔</p>
<p>ای کامرس ادائیگیوں میں پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا —
حجم میں 40 فیصد اضافہ کے ساتھ ٹرانزیکشنز کی تعداد 213 ملین تک پہنچ گئی،
جبکہ مالیت میں 34 فیصد اضافہ کے ساتھ یہ رقم 258 ارب روپے تک جا پہنچی۔ای کامرس ادائیگیوں میں ڈیجیٹل والیٹس سب سے نمایاں رہے، جن کا حصہ 94 فیصد (199.1 ملین روپے) تھا جبکہ کارڈ کے ذریعے آن لائن ادائیگیاں صرف 6 فیصد (13.5 ملین روپے) تک محدود رہیں۔</p>
<p>اسٹور پر خریداری کے لیے 140,861 مرچنٹس نے 179,383 پوائنٹ آف سیلز (پی او ایس) مشینوں کے نیٹ ورک کے ذریعے 99 ملین ٹرانزیکشنز کیں، جن کی مالیت 550 ارب روپے رہی — جو حجم میں 12 فیصد اور مالیت میں 8 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔مزید برآں، کیو آر کوڈز قبول کرنے والے مرچنٹس نے 21.7 ملین ٹرانزیکشنز کیں، جن کی مجموعی مالیت 61 ارب روپے رہی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زیرِ انتظام ادائیگی کے نظام — راست (فوری ادائیگی نظام) اور ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم  — نے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، راست نے اس سہ ماہی کے دوران 371 ملین ٹرانزیکشنز انجام دیں، جن کی مجموعی مالیت 8.5 کھرب روپے رہی۔اس نظام کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 1.5 ارب ٹرانزیکشنز مکمل ہو چکی ہیں، جن کی مالیت 34 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ دوسری جانب ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم کے ذریعے بڑی مالیت کی 1.5 ملین ادائیگیاں کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 347 کھرب روپے رہی۔</p>
<p>ڈیجیٹل معیشت کی جانب رجحان اسٹیٹ بینک  کی حکمتِ عملی پر مبنی اقدامات کے ساتھ بینکوں، فِن ٹیک اداروں اور ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والوں کی مشترکہ کاوشوں سے بھرپور طریقے سے فروغ پا رہا ہے۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار میں وسعت کے ساتھ، اسٹیٹ بینک تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے مالی شمولیت کو فروغ دینے اور ادائیگیوں کے نظام کی مؤثریت بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274041</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Jun 2025 10:13:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/26101003416b61e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/26101003416b61e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
