<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:55:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:55:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آن لائن پیمنٹ انٹرمیڈیئریز: ٹیکس فراڈ اور گوشوارے جمع نہ کرانے پر جرمانوں میں ترمیم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274037/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترمیم شدہ فنانس بل (2025-26) میں ٹیکس فراڈ کے ارتکاب اور آن لائن مارکیٹ پلیسز سے رقوم وصول کرنے والی انٹرمیدیٹری یا کورئیر کمپنیوں کی جانب سے ماہانہ گوشوارے جمع نہ کروانے پر سزا کے نظام کو ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترمیم شدہ فنانس بل 2025-26 میں سیلز ٹیکس ایکٹ سے متعلق جرمانوں کے نظام میں کئی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات پر ترمیم شدہ فنانس بل 2025-26 میں بعض جرمانوں میں نرمی بھی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترمیم شدہ فنانس بل 2025-26 کے مطابق اگر کوئی آن لائن مارکیٹ پلیس، ادائیگی کا ثالث یا کورئیر کمپنی مقررہ وقت میں ماہانہ بیان جمع کرانے میں ناکام رہتی ہے تو پہلی بار مسلسل دو ماہ تک بیان نہ دینے کی صورت میں تین لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا جب کہ ایک ہی سال میں اس کے بعد ہر خلاف ورزی پر دس لاکھ روپے جرمانہ لاگو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی آن لائن مارکیٹ پلیس یا کورئیر کمپنی ای کامرس کے دوران غیر رجسٹرڈ افراد کو اپنی خدمات استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے، تو پہلی خلاف ورزی پر اُس ادارے پر 3 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا اور ہر اگلی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے  کے حساب سے جرمانہ لگایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی شخص جو ذیلی شق (a)، (b)، (c)، (d)، (e) اور (f) شق (37) سیکشن 2 کے تحت ٹیکس فراڈ کرتا ہے یا کرواتا ہے، تو ایسے فرد کو اسپیشل جج کی سزا پر، زیادہ سے زیادہ دس سال قید یا ایک کروڑ روپے تک جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا شخص اس ٹیکس نقصان کی رقم بھی ادا کرنے کا پابند ہوگا، جتنا نقصان سب سیکشن (11) سیکشن 37B کے تحت رپورٹ شدہ رقم میں سے اسپیشل جج کی جانب سے تصدیق شدہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ شخص ٹیکس نقصان کے برابر 100 فیصد جرمانہ اور ایکٹ کے سیکشن 34 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج بھی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی شخص جو سیکشن 2 کی شق (37) کی ذیلی شقوں (g)، (h)، (i)، (j) اور (k) کے تحت ٹیکس فراڈ کرتا ہے یا کرواتا ہے، تو اسپیشل جج کی جانب سے سزا سنائے جانے پر اُسے زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید، پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا شخص اس ٹیکس نقصان کے برابر رقم ادا کرنے کا بھی پابند ہوگا، جتنا نقصان سب سیکشن (11) سیکشن 37B کے تحت رپورٹ شدہ رقم میں سے اسپیشل جج کی جانب سے تصدیق شدہ ہو۔ اس کے علاوہ، اسے ٹیکس نقصان کے برابر 100 فیصد جرمانہ اور ایکٹ کے سیکشن 34 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج بھی ادا کرنا ہوگا، جیسا کہ ترمیم شدہ فنانس بل 2025-26 میں درج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترمیم شدہ فنانس بل (2025-26) میں ٹیکس فراڈ کے ارتکاب اور آن لائن مارکیٹ پلیسز سے رقوم وصول کرنے والی انٹرمیدیٹری یا کورئیر کمپنیوں کی جانب سے ماہانہ گوشوارے جمع نہ کروانے پر سزا کے نظام کو ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ترمیم شدہ فنانس بل 2025-26 میں سیلز ٹیکس ایکٹ سے متعلق جرمانوں کے نظام میں کئی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔</p>
<p>قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات پر ترمیم شدہ فنانس بل 2025-26 میں بعض جرمانوں میں نرمی بھی کی گئی ہے۔</p>
<p>ترمیم شدہ فنانس بل 2025-26 کے مطابق اگر کوئی آن لائن مارکیٹ پلیس، ادائیگی کا ثالث یا کورئیر کمپنی مقررہ وقت میں ماہانہ بیان جمع کرانے میں ناکام رہتی ہے تو پہلی بار مسلسل دو ماہ تک بیان نہ دینے کی صورت میں تین لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا جب کہ ایک ہی سال میں اس کے بعد ہر خلاف ورزی پر دس لاکھ روپے جرمانہ لاگو ہوگا۔</p>
<p>اگر کوئی آن لائن مارکیٹ پلیس یا کورئیر کمپنی ای کامرس کے دوران غیر رجسٹرڈ افراد کو اپنی خدمات استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے، تو پہلی خلاف ورزی پر اُس ادارے پر 3 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا اور ہر اگلی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے  کے حساب سے جرمانہ لگایا جائے گا۔</p>
<p>کوئی بھی شخص جو ذیلی شق (a)، (b)، (c)، (d)، (e) اور (f) شق (37) سیکشن 2 کے تحت ٹیکس فراڈ کرتا ہے یا کرواتا ہے، تو ایسے فرد کو اسپیشل جج کی سزا پر، زیادہ سے زیادہ دس سال قید یا ایک کروڑ روپے تک جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔</p>
<p>ایسا شخص اس ٹیکس نقصان کی رقم بھی ادا کرنے کا پابند ہوگا، جتنا نقصان سب سیکشن (11) سیکشن 37B کے تحت رپورٹ شدہ رقم میں سے اسپیشل جج کی جانب سے تصدیق شدہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ شخص ٹیکس نقصان کے برابر 100 فیصد جرمانہ اور ایکٹ کے سیکشن 34 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج بھی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔</p>
<p>کوئی بھی شخص جو سیکشن 2 کی شق (37) کی ذیلی شقوں (g)، (h)، (i)، (j) اور (k) کے تحت ٹیکس فراڈ کرتا ہے یا کرواتا ہے، تو اسپیشل جج کی جانب سے سزا سنائے جانے پر اُسے زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید، پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔</p>
<p>ایسا شخص اس ٹیکس نقصان کے برابر رقم ادا کرنے کا بھی پابند ہوگا، جتنا نقصان سب سیکشن (11) سیکشن 37B کے تحت رپورٹ شدہ رقم میں سے اسپیشل جج کی جانب سے تصدیق شدہ ہو۔ اس کے علاوہ، اسے ٹیکس نقصان کے برابر 100 فیصد جرمانہ اور ایکٹ کے سیکشن 34 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج بھی ادا کرنا ہوگا، جیسا کہ ترمیم شدہ فنانس بل 2025-26 میں درج ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274037</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Jun 2025 09:07:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/260847570f73125.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/260847570f73125.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
