<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 05:55:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 05:55:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات کا عندیہ، جوہری پروگرام کو دہائیوں پیچھے دھکیلنے کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274034/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ آئندہ ہفتے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کرے گا اور ایک ممکنہ معاہدے کا عندیہ دیا، حالانکہ انہوں نے حالیہ امریکی حملوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کو مفلوج کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ امریکی حملوں کو ایران کی جوہری صلاحیتوں کی مکمل تباہی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں نے ایران کے پروگرام کو “دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم لیک ہونے والی امریکی انٹیلی جنس رپورٹس نے اس دعوے پر شکوک ظاہر کیے ہیں جن کے مطابق ان حملوں سے تہران کا جوہری پروگرام محض چند ماہ کے لیے تاخیر کا شکار ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے معاہدے سے قبل اسرائیل نے 12 دن پر محیط جنگ کے دوران ایران کے جوہری اور عسکری مقامات پر شدید بمباری کی ہے جبکہ ایران نے بھی اپنے علاقائی حریف پر پے در پے میزائل حملے کر کے تاریخ کی سب سے شدید جھڑپ میں حصہ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے اپنے اتحادی کی حمایت میں کارروائی کرتے ہوئے ہفتے کے اختتام پر دو ایرانی جوہری تنصیبات پر بھاری بنکر بسٹر بموں سے حملے کیے جبکہ ایک تیسری تنصیب کو آبدوز سے داغے گئے گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب وہ کافی عرصے تک بم نہیں بنا سکیں گے اور یہ دعویٰ دہرایا کہ حملوں نے ایران کے پروگرام کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اعلان کردہ جنگ بندی بہت اچھے طریقے سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران دونوں اب تھکے اور مضمحل ہو چکے ہیں اور یہ بھی انکشاف کیا کہ آئندہ ہفتے ایران سے مذاکرات کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ  ہو سکتا ہے ہم کوئی معاہدہ کر لیں، میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میرا مطلب ہے، انہوں نے جنگ کی، لڑے، اب وہ اپنی دنیا میں واپس جا رہے ہیں۔ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے منگل کے روز کہا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں واپسی کے لیے تیار ہے، تاہم اس نے پرامن جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق اپنے ”جائز حقوق کے تحفظ“ پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرن نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اسے کئی برسوں تک موخر کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الجزیرہ سے گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ یہ بات طے ہے کہ ہماری جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی میڈیا نے منگل کو پینٹاگون کی انٹیلی جنس رپورٹ سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کے سینٹری فیوجز یا افزودہ یورینیم کے ذخائر مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں بعض تنصیبات کے داخلی راستے بند کر دیے گئے مگر زیرِ زمین عمارتیں تباہ نہیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے 13 جون سے شروع ہونے والی اپنی بمباری مہم کو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش قرار دیا، جس کی ایران نے ہمیشہ سختی سے تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسی شدت کے ساتھ جواب دیں گے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے ایران کے جوہری منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر ایران کا کوئی بھی فرد اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کرے گا، تو ہم اسی عزم اور اسی شدت کے ساتھ عمل کریں گے تاکہ ہر کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کا اقوامِ متحدہ کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا اعلان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی ہے  کہ ایرانی پارلیمان نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جوہری نگرانی کرنے والی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، جس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی معمولی سطح پر بھی مذمت نہ کی، اس نے اپنی ساکھ نیلامی پر لگا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ اب نگہبان کونسل کی منظوری کا محتاج ہے، جو قانون سازی کی توثیق کا مجاز ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیرِ خارجہ کا انتباہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عربی نیوز آؤٹ لیٹ العربی الجدید کو انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے سنگین اور گہرے نتائج ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا پابند ہے لیکن یہ معاہدہ ہمیں یا ہمارے پروگرام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے ساتھ رویہ اب تبدیل ہوگا، تاہم اس تبدیلی کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنگ بندی کے بعد کا ماحول&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں سے جاری پس پردہ جنگ اپنی 12 روزہ شدت میں اب تک کی سب سے تباہ کن جھڑپ میں بدل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حملوں نے جوہری اور عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں سائنس دان اور اعلیٰ فوجی افسران شہید ہوئے جبکہ رہائشی علاقوں پر بھی بمباری ہوئی، جس کے ردِ عمل میں ایران نے اسرائیل پر پے در پے میزائل حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز تہران نسبتاً پرسکون رہا۔ بیشتر دکانیں بند رہیں اور صرف چند ریستوران کھلے تھے اگرچہ جنگ کے عروج کے مقابلے میں سڑکوں پر کچھ زیادہ چہل پہل دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعید نامی 39 سالہ مقامی دکاندار نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ حالات بہتر ہوئے ہیں، جنگ بندی ہو چکی ہے اور لوگ اپنے معمول کی زندگی اور کام کی طرف لوٹ آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بعض افراد ابھی بھی بے یقینی کا شکار ہیں۔ 28 سالہ عامر، جو تہران سے فرار ہو کر بحیرہ کیسپین کے ساحل پر چلا گیا ہے، نے فون پر اے ایف پی کو بتایا کہ میں واقعی نہیں جانتا… جنگ بندی کے بارے میں، لیکن سچ کہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ حالات نارمل ہو پائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی عوام کا ملا جلا ردِعمل&lt;/strong&gt;
کچھ اسرائیلیوں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔ یوسی بن تل ابیب کے 45 سالہ انجینیئر نے کہا کہ آخر کار ہم سکون سے سو سکتے ہیں۔ ہمیں بہتر محسوس ہو رہا ہے، بچوں اور خاندان کے لیے کم پریشانی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ سکون برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جانی نقصان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 627 شہری شہید اور 4,800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ سرکاری اعداد و شمار اور امدادی اداروں کے مطابق ایران کے حملوں میں اسرائیل میں 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ آئندہ ہفتے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کرے گا اور ایک ممکنہ معاہدے کا عندیہ دیا، حالانکہ انہوں نے حالیہ امریکی حملوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کو مفلوج کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔</strong></p>
<p>اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ امریکی حملوں کو ایران کی جوہری صلاحیتوں کی مکمل تباہی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں نے ایران کے پروگرام کو “دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>تاہم لیک ہونے والی امریکی انٹیلی جنس رپورٹس نے اس دعوے پر شکوک ظاہر کیے ہیں جن کے مطابق ان حملوں سے تہران کا جوہری پروگرام محض چند ماہ کے لیے تاخیر کا شکار ہوا ہے۔</p>
<p>جنگ بندی کے معاہدے سے قبل اسرائیل نے 12 دن پر محیط جنگ کے دوران ایران کے جوہری اور عسکری مقامات پر شدید بمباری کی ہے جبکہ ایران نے بھی اپنے علاقائی حریف پر پے در پے میزائل حملے کر کے تاریخ کی سب سے شدید جھڑپ میں حصہ لیا ہے۔</p>
<p>امریکہ نے اپنے اتحادی کی حمایت میں کارروائی کرتے ہوئے ہفتے کے اختتام پر دو ایرانی جوہری تنصیبات پر بھاری بنکر بسٹر بموں سے حملے کیے جبکہ ایک تیسری تنصیب کو آبدوز سے داغے گئے گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب وہ کافی عرصے تک بم نہیں بنا سکیں گے اور یہ دعویٰ دہرایا کہ حملوں نے ایران کے پروگرام کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اعلان کردہ جنگ بندی بہت اچھے طریقے سے جاری ہے۔</p>
<p>بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران دونوں اب تھکے اور مضمحل ہو چکے ہیں اور یہ بھی انکشاف کیا کہ آئندہ ہفتے ایران سے مذاکرات کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ  ہو سکتا ہے ہم کوئی معاہدہ کر لیں، میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میرا مطلب ہے، انہوں نے جنگ کی، لڑے، اب وہ اپنی دنیا میں واپس جا رہے ہیں۔ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے منگل کے روز کہا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں واپسی کے لیے تیار ہے، تاہم اس نے پرامن جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق اپنے ”جائز حقوق کے تحفظ“ پر زور دیا۔</p>
<p><strong>ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے</strong></p>
<p>اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرن نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اسے کئی برسوں تک موخر کر دیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الجزیرہ سے گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ یہ بات طے ہے کہ ہماری جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>تاہم امریکی میڈیا نے منگل کو پینٹاگون کی انٹیلی جنس رپورٹ سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کے سینٹری فیوجز یا افزودہ یورینیم کے ذخائر مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں بعض تنصیبات کے داخلی راستے بند کر دیے گئے مگر زیرِ زمین عمارتیں تباہ نہیں ہوئیں۔</p>
<p>اسرائیل نے 13 جون سے شروع ہونے والی اپنی بمباری مہم کو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش قرار دیا، جس کی ایران نے ہمیشہ سختی سے تردید کی ہے۔</p>
<p><strong>اسی شدت کے ساتھ جواب دیں گے</strong></p>
<p>جنگ بندی کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے ایران کے جوہری منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر ایران کا کوئی بھی فرد اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کرے گا، تو ہم اسی عزم اور اسی شدت کے ساتھ عمل کریں گے تاکہ ہر کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔</p>
<p><strong>ایران کا اقوامِ متحدہ کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا اعلان</strong></p>
<p>سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی ہے  کہ ایرانی پارلیمان نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جوہری نگرانی کرنے والی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔</p>
<p>پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، جس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی معمولی سطح پر بھی مذمت نہ کی، اس نے اپنی ساکھ نیلامی پر لگا دی ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ اب نگہبان کونسل کی منظوری کا محتاج ہے، جو قانون سازی کی توثیق کا مجاز ادارہ ہے۔</p>
<p><strong>ایران کے وزیرِ خارجہ کا انتباہ</strong></p>
<p>ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عربی نیوز آؤٹ لیٹ العربی الجدید کو انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے سنگین اور گہرے نتائج ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا پابند ہے لیکن یہ معاہدہ ہمیں یا ہمارے پروگرام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے ساتھ رویہ اب تبدیل ہوگا، تاہم اس تبدیلی کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔</p>
<p><strong>جنگ بندی کے بعد کا ماحول</strong></p>
<p>ایران اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں سے جاری پس پردہ جنگ اپنی 12 روزہ شدت میں اب تک کی سب سے تباہ کن جھڑپ میں بدل گئی۔</p>
<p>اسرائیلی حملوں نے جوہری اور عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں سائنس دان اور اعلیٰ فوجی افسران شہید ہوئے جبکہ رہائشی علاقوں پر بھی بمباری ہوئی، جس کے ردِ عمل میں ایران نے اسرائیل پر پے در پے میزائل حملے کیے ہیں۔</p>
<p>بدھ کے روز تہران نسبتاً پرسکون رہا۔ بیشتر دکانیں بند رہیں اور صرف چند ریستوران کھلے تھے اگرچہ جنگ کے عروج کے مقابلے میں سڑکوں پر کچھ زیادہ چہل پہل دیکھی گئی۔</p>
<p>سعید نامی 39 سالہ مقامی دکاندار نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ حالات بہتر ہوئے ہیں، جنگ بندی ہو چکی ہے اور لوگ اپنے معمول کی زندگی اور کام کی طرف لوٹ آئے ہیں۔</p>
<p>تاہم بعض افراد ابھی بھی بے یقینی کا شکار ہیں۔ 28 سالہ عامر، جو تہران سے فرار ہو کر بحیرہ کیسپین کے ساحل پر چلا گیا ہے، نے فون پر اے ایف پی کو بتایا کہ میں واقعی نہیں جانتا… جنگ بندی کے بارے میں، لیکن سچ کہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ حالات نارمل ہو پائیں گے۔</p>
<p><strong>اسرائیلی عوام کا ملا جلا ردِعمل</strong>
کچھ اسرائیلیوں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔ یوسی بن تل ابیب کے 45 سالہ انجینیئر نے کہا کہ آخر کار ہم سکون سے سو سکتے ہیں۔ ہمیں بہتر محسوس ہو رہا ہے، بچوں اور خاندان کے لیے کم پریشانی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ سکون برقرار رہے۔</p>
<p><strong>جانی نقصان</strong></p>
<p>ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 627 شہری شہید اور 4,800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ سرکاری اعداد و شمار اور امدادی اداروں کے مطابق ایران کے حملوں میں اسرائیل میں 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274034</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Jun 2025 21:46:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/252127569e8534c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/252127569e8534c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
