<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور امریکا باہمی محصولات پر مذاکرات آئندہ ہفتے مکمل کرنے پر متفق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274026/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک نے باہمی محصولات سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے مکمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان  کے مطابق یہ پیش رفت منگل کو وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک کے درمیان امریکی باہمی محصولات سے متعلق ایک ورچوئل اجلاس کے دوران ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے جاری مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا اور آئندہ ہفتے تجارتی مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ تجارتی معاہدے کے علاوہ ایک شراکت داری قائم کی جائے گی جو باہمی مفادات پر مبنی اسٹریٹجک اور سرمایہ کاری سے متعلق امور کا احاطہ کرے گی جسے وقت کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر شراکت داری پر گفتگو ہوئی جب کہ تجارت سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے مکمل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں فریقین نے تجارتی مذاکرات کو جلد از جلد مکمل کرنے پر اعتماد کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اپریل میں صدر ٹرمپ نے ممکنہ طور پر تباہ کن تجارتی جنگ کو ہوا دی، جب انہوں نے دنیا بھر سے درآمدات پر وسیع پیمانے پر محصولات عائد کیے اور پاکستان سمیت اہم تجارتی شراکت داروں پر سخت اضافی ٹیکس لاگو کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد امریکہ کو راضی کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 29 فیصد باہمی محصولات سے ریلیف حاصل کیا جاسکے، اگرچہ یہ محصولات جولائی تک مؤخر ہیں، تاہم پاکستان نے تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے ایک تجارتی وفد واشنگٹن بھیج دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جہاں 2024 تک پاکستان کی سالانہ برآمدات 5 ارب ڈالر سے زائد رہیں جب کہ اسی مدت میں امریکہ سے درآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک نے باہمی محصولات سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے مکمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</strong></p>
<p>وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان  کے مطابق یہ پیش رفت منگل کو وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک کے درمیان امریکی باہمی محصولات سے متعلق ایک ورچوئل اجلاس کے دوران ہوئی۔</p>
<p>دونوں فریقین نے جاری مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا اور آئندہ ہفتے تجارتی مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ تجارتی معاہدے کے علاوہ ایک شراکت داری قائم کی جائے گی جو باہمی مفادات پر مبنی اسٹریٹجک اور سرمایہ کاری سے متعلق امور کا احاطہ کرے گی جسے وقت کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔</p>
<p>اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر شراکت داری پر گفتگو ہوئی جب کہ تجارت سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے مکمل کیے جائیں گے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں فریقین نے تجارتی مذاکرات کو جلد از جلد مکمل کرنے پر اعتماد کا اظہار کیا۔</p>
<p>گزشتہ اپریل میں صدر ٹرمپ نے ممکنہ طور پر تباہ کن تجارتی جنگ کو ہوا دی، جب انہوں نے دنیا بھر سے درآمدات پر وسیع پیمانے پر محصولات عائد کیے اور پاکستان سمیت اہم تجارتی شراکت داروں پر سخت اضافی ٹیکس لاگو کیے۔</p>
<p>اسلام آباد امریکہ کو راضی کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 29 فیصد باہمی محصولات سے ریلیف حاصل کیا جاسکے، اگرچہ یہ محصولات جولائی تک مؤخر ہیں، تاہم پاکستان نے تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے ایک تجارتی وفد واشنگٹن بھیج دیا ہے۔</p>
<p>امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جہاں 2024 تک پاکستان کی سالانہ برآمدات 5 ارب ڈالر سے زائد رہیں جب کہ اسی مدت میں امریکہ سے درآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر رہی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274026</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Jun 2025 16:02:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/2515413494fb44b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/2515413494fb44b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
