<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی جوہری تنصیبات کو امریکی حملے مکمل تباہ کرنے میں ناکام رہے ،انٹیلی جنس رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274014/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی انٹیلیجنس کے ابتدائی جائزے کے مطابق، امریکی فضائی حملے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل تباہ کرنے میں ناکام رہے اور اس پروگرام کو صرف چند ماہ کے لیے مؤخر کیا جا سکا۔ یہ جائزہ ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان  جنگ بندی نافذ العمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ایران اور اسرائیل دونوں نے اشارہ دیا کہ ان کے درمیان فضائی جنگ کم از کم فی الحال ختم ہوچکی ہے،یہ پیشرفت اُس وقت ہوئی جب امریکی صدر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر دونوں ممالک کو  تنبیہ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی دونوں ممالک نے 12 روزہ جنگ کے بعد شہری پابندیاں ختم کرنا شروع کیں — جس میں امریکا نے ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات پر حملہ کرکے شرکت کی — ہر فریق نے اس تنازع میں اپنی فتح کا دعویٰ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر دعویٰ کیا کہ امریکہ نے 30 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس دعوے کو خود ٹرمپ انتظامیہ کے ایک انٹیلی جنس ادارے کی ابتدائی رپورٹ نے غیر مؤثر بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع  کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر مکمل طور پر ختم نہیں کیے گئے اور اس کا جوہری پروگرام—جس کا بڑا حصہ زمین کے اندر گہرائی میں واقع ہے—شاید صرف ایک یا دو ماہ کے لیے پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی جوہری تحقیق صرف سول توانائی کی پیداوار کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے انٹیلی جنس تجزیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ، جو ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی نے تیار کی ہے، کے مطابق فضائی حملوں سے اگرچہ دو تنصیبات کے داخلی راستے بند کر دیے گئے، تاہم زیرِ زمین عمارتیں محفوظ رہیں اور انہیں کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ یہ انکشاف اس رپورٹ سے واقف ایک ذرائع نے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ سے واقف ایک نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملوں کے بعد بھی کچھ سینٹری فیوجز محفوظ حالت میں موجود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر ہفتے کے آخر میں کیے گئے حملوں سے ایران کے جوہری پروگرام کو کمزور کیا گیا ہے جو کہ صدر ٹرمپ کے اس پہلے دعوے سے مختلف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ ایران پر حملے سے جوہری تباہی کا خطرہ ختم کر دیا گیا ہے، اور انہوں نے تہران کی جانب سے اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے اپنے وجود کو لاحق دو فوری خطرات کو ختم کر دیا ہے: ایک جوہری تباہی کا خطرہ اور دوسرا 20,000 بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے تباہی کا خطرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشک‌کیاں نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ کو کامیابی سے ختم کیا ہے جسے انہوں نے ایک عظیم فتح قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ تہران امریکا کے ساتھ اختلافات حل کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا  نے بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر اچانک فضائی حملے شروع کیے، جن میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو شہید کیا گیا۔ یہ حملے اسلامی جمہوریہ ایران کو 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ جنگ کے بعد سب سے بڑا نقصان پہنچانے والے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران، جو جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش سے انکار کرتا ہے، نے جواب میں اسرائیلی فوجی تنصیبات اور شہروں پر میزائلوں کی بارش کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی انٹیلیجنس کے ابتدائی جائزے کے مطابق، امریکی فضائی حملے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل تباہ کرنے میں ناکام رہے اور اس پروگرام کو صرف چند ماہ کے لیے مؤخر کیا جا سکا۔ یہ جائزہ ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان  جنگ بندی نافذ العمل ہے۔</p>
<p>منگل کو ایران اور اسرائیل دونوں نے اشارہ دیا کہ ان کے درمیان فضائی جنگ کم از کم فی الحال ختم ہوچکی ہے،یہ پیشرفت اُس وقت ہوئی جب امریکی صدر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر دونوں ممالک کو  تنبیہ کی۔</p>
<p>جیسے ہی دونوں ممالک نے 12 روزہ جنگ کے بعد شہری پابندیاں ختم کرنا شروع کیں — جس میں امریکا نے ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات پر حملہ کرکے شرکت کی — ہر فریق نے اس تنازع میں اپنی فتح کا دعویٰ کیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر دعویٰ کیا کہ امریکہ نے 30 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔</p>
<p>تاہم اس دعوے کو خود ٹرمپ انتظامیہ کے ایک انٹیلی جنس ادارے کی ابتدائی رپورٹ نے غیر مؤثر بنا دیا ہے۔</p>
<p>ذرائع  کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر مکمل طور پر ختم نہیں کیے گئے اور اس کا جوہری پروگرام—جس کا بڑا حصہ زمین کے اندر گہرائی میں واقع ہے—شاید صرف ایک یا دو ماہ کے لیے پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی جوہری تحقیق صرف سول توانائی کی پیداوار کے لیے ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے انٹیلی جنس تجزیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔</p>
<p>رپورٹ، جو ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی نے تیار کی ہے، کے مطابق فضائی حملوں سے اگرچہ دو تنصیبات کے داخلی راستے بند کر دیے گئے، تاہم زیرِ زمین عمارتیں محفوظ رہیں اور انہیں کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ یہ انکشاف اس رپورٹ سے واقف ایک ذرائع نے کیا۔</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ سے واقف ایک نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملوں کے بعد بھی کچھ سینٹری فیوجز محفوظ حالت میں موجود رہے۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ نے منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر ہفتے کے آخر میں کیے گئے حملوں سے ایران کے جوہری پروگرام کو کمزور کیا گیا ہے جو کہ صدر ٹرمپ کے اس پہلے دعوے سے مختلف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ ایران پر حملے سے جوہری تباہی کا خطرہ ختم کر دیا گیا ہے، اور انہوں نے تہران کی جانب سے اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے اپنے وجود کو لاحق دو فوری خطرات کو ختم کر دیا ہے: ایک جوہری تباہی کا خطرہ اور دوسرا 20,000 بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے تباہی کا خطرہ۔</p>
<p>میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشک‌کیاں نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ کو کامیابی سے ختم کیا ہے جسے انہوں نے ایک عظیم فتح قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ تہران امریکا کے ساتھ اختلافات حل کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا  نے بتائی۔</p>
<p>اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر اچانک فضائی حملے شروع کیے، جن میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو شہید کیا گیا۔ یہ حملے اسلامی جمہوریہ ایران کو 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ جنگ کے بعد سب سے بڑا نقصان پہنچانے والے تھے۔</p>
<p>ایران، جو جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش سے انکار کرتا ہے، نے جواب میں اسرائیلی فوجی تنصیبات اور شہروں پر میزائلوں کی بارش کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274014</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Jun 2025 11:26:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/2511210319d7074.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/2511210319d7074.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
