<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>”گیمبلر ٹرمپ“ نے جنگ شروع کی، ختم ہم کریں گے،ایران کی دھمکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273962/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ کی جانب سے جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد اس کی مسلح افواج کے لیے جائز اہداف کی فہرست میں توسیع ہو گئی ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کی فوجی مہم میں شمولیت پر ”جُوا کھیلنے والا“ قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے اتوار کی صبح ایرانی جوہری تنصیبات پر تباہ کن بمباری کے ذریعے اسرائیلی مہم میں شامل ہونے کے بعد، ایران نے بارہا انتقامی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایران اسرائیل پر میزائل داغتا رہا ہے، لیکن اس نے اب تک امریکہ پر براہ راست حملہ نہیں کیا، نہ ہی خلیج کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز سے گزرنے والی 20 فیصد عالمی تیل رسد کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی فوجی صدر دفتر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک وڈیو بیان کے اختتام پر انگریزی میں کہا کہ مسٹر ٹرمپ، جُوا کھیلنے والے، تم یہ جنگ شروع کر سکتے ہو، لیکن ہم ہی اسے ختم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز ایران اور اسرائیل نے ایک اور فضائی و میزائل حملوں کا تبادلہ کیا، جبکہ دنیا تہران کے ردعمل کی منتظر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ  انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف صرف ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے، نہ کہ وسیع جنگ چھیڑنا۔ تاہم، ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایران کی سخت گیر مذہبی حکومت کا تختہ الٹنے کی بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ یہ سیاسی طور پر درست نہیں کہ ’ریجیم چینج‘ کا لفظ استعمال کیا جائے، لیکن اگر موجودہ ایرانی حکومت ایران کو دوبارہ عظیم نہیں بنا سکتی تو پھر تبدیلی کیوں نہ ہو؟ !!!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لے کر کہا ہے کہ امریکی حملے نے ایران کے فردو جوہری پلانٹ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو پہاڑ کے اندر واقع ہے، اور ممکنہ طور پر اسے اور اس میں نصب یورینیم افزودہ کرنے والی مشینوں کو تباہ کر دیا ہے، اگرچہ آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی تمام جوہری تنصیبات کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ سب سے بڑا نقصان زیر زمین ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید اسرائیلی حملے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حملوں کو ایران کی جانب سے خاطر خواہ مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ تقریباً 20 طیاروں نے مغربی ایران اور تہران میں فوجی اہداف پر حملے کیے۔ کرمانشاہ میں میزائل اور ریڈار کا نظام، جبکہ تہران میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل لانچر کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق، تہران کے وسطی اضلاع میں فضائی دفاعی نظام متحرک کیا گیا جبکہ پرچین کے علاقے میں اسرائیلی حملوں سے فوجی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں، تاہم ابتدائی دنوں کے بعد سے نقصان کی تصاویر جاری نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران، جو 1 کروڑ نفوس کا شہر ہے، خالی ہوتا جا رہا ہے اور شہری دیہی علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے جوابی میزائل حملوں میں اسرائیل میں 24 افراد، تمام عام شہری، ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایرانی میزائل بڑی تعداد میں اسرائیلی دفاعی نظام سے گزر گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے مطابق پیر کی صبح ایران سے داغا گیا ایک میزائل اسرائیلی دفاعی نظام نے روک لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات گئے تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے دیگر علاقوں میں سائرن بجے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محدود ردعمل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزائل حملوں کے علاوہ، ایران کی انتقامی صلاحیت پہلے کی نسبت کم ہو گئی ہے، کیونکہ اسرائیل نے لبنان میں ایران کی طاقتور حلیف حزب اللہ کو شکست دی، جس کے بعد شام میں ایران کے قریب ترین اتحادی صدر بشار الاسد بھی کمزور ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی مغرب کو نقصان پہنچانے کی سب سے مؤثر حکمت عملی خلیج سے تیل کی ترسیل کو محدود کرنا ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتیں پیر کو جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قیمتیں ابھی تک بحران کی سطح پر نہیں پہنچیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاجر اس تنازع سے نکلنے کی راہ دیکھ رہے ہیں جو سنگین خلل پیدا نہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 0.5 فیصد کم ہو کر 76.64 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، اگرچہ ابتدائی طور پر 80 ڈالر سے اوپر چلا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری درکار ہے، جو رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرر کردہ فرد کی سربراہی میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے اور امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے سے تصادم کا خطرہ ہے، جو بحرین میں مقیم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ ان کے لیے معاشی خودکشی ہو گی۔ اور ہمارے پاس اس سے نمٹنے کے لیے کئی آپشنز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران اپنے آپشنز پر غور کر رہا ہے، اور وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ کریملن ایران کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے، لیکن اسرائیل سے بھی قریبی تعلقات رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو استنبول میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران تمام ممکنہ جوابی اقدامات پر غور کرے گا اور جب تک ردعمل نہیں دیا جاتا، سفارتکاری کا راستہ نہیں کھلے گا۔ بعد ازاں روسی نیوز ایجنسی تاس نے عباس عراقچی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس اپنے مؤقف پر ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ کی جانب سے جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد اس کی مسلح افواج کے لیے جائز اہداف کی فہرست میں توسیع ہو گئی ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کی فوجی مہم میں شمولیت پر ”جُوا کھیلنے والا“ قرار دیا۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کے اتوار کی صبح ایرانی جوہری تنصیبات پر تباہ کن بمباری کے ذریعے اسرائیلی مہم میں شامل ہونے کے بعد، ایران نے بارہا انتقامی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔</p>
<p>اگرچہ ایران اسرائیل پر میزائل داغتا رہا ہے، لیکن اس نے اب تک امریکہ پر براہ راست حملہ نہیں کیا، نہ ہی خلیج کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز سے گزرنے والی 20 فیصد عالمی تیل رسد کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی فوجی صدر دفتر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک وڈیو بیان کے اختتام پر انگریزی میں کہا کہ مسٹر ٹرمپ، جُوا کھیلنے والے، تم یہ جنگ شروع کر سکتے ہو، لیکن ہم ہی اسے ختم کریں گے۔</p>
<p>پیر کے روز ایران اور اسرائیل نے ایک اور فضائی و میزائل حملوں کا تبادلہ کیا، جبکہ دنیا تہران کے ردعمل کی منتظر رہی۔</p>
<p>ٹرمپ  انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف صرف ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے، نہ کہ وسیع جنگ چھیڑنا۔ تاہم، ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایران کی سخت گیر مذہبی حکومت کا تختہ الٹنے کی بات کی۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ یہ سیاسی طور پر درست نہیں کہ ’ریجیم چینج‘ کا لفظ استعمال کیا جائے، لیکن اگر موجودہ ایرانی حکومت ایران کو دوبارہ عظیم نہیں بنا سکتی تو پھر تبدیلی کیوں نہ ہو؟ !!!“</p>
<p>ماہرین نے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لے کر کہا ہے کہ امریکی حملے نے ایران کے فردو جوہری پلانٹ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو پہاڑ کے اندر واقع ہے، اور ممکنہ طور پر اسے اور اس میں نصب یورینیم افزودہ کرنے والی مشینوں کو تباہ کر دیا ہے، اگرچہ آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی تمام جوہری تنصیبات کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ سب سے بڑا نقصان زیر زمین ہوا۔</p>
<p><strong>مزید اسرائیلی حملے</strong></p>
<p>اسرائیلی حملوں کو ایران کی جانب سے خاطر خواہ مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ تقریباً 20 طیاروں نے مغربی ایران اور تہران میں فوجی اہداف پر حملے کیے۔ کرمانشاہ میں میزائل اور ریڈار کا نظام، جبکہ تہران میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل لانچر کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق، تہران کے وسطی اضلاع میں فضائی دفاعی نظام متحرک کیا گیا جبکہ پرچین کے علاقے میں اسرائیلی حملوں سے فوجی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>ایران نے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں، تاہم ابتدائی دنوں کے بعد سے نقصان کی تصاویر جاری نہیں کی گئیں۔</p>
<p>تہران، جو 1 کروڑ نفوس کا شہر ہے، خالی ہوتا جا رہا ہے اور شہری دیہی علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>ایران کے جوابی میزائل حملوں میں اسرائیل میں 24 افراد، تمام عام شہری، ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایرانی میزائل بڑی تعداد میں اسرائیلی دفاعی نظام سے گزر گئے ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کے مطابق پیر کی صبح ایران سے داغا گیا ایک میزائل اسرائیلی دفاعی نظام نے روک لیا۔</p>
<p>رات گئے تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے دیگر علاقوں میں سائرن بجے۔</p>
<p><strong>محدود ردعمل</strong></p>
<p>میزائل حملوں کے علاوہ، ایران کی انتقامی صلاحیت پہلے کی نسبت کم ہو گئی ہے، کیونکہ اسرائیل نے لبنان میں ایران کی طاقتور حلیف حزب اللہ کو شکست دی، جس کے بعد شام میں ایران کے قریب ترین اتحادی صدر بشار الاسد بھی کمزور ہو گئے۔</p>
<p>ایران کی مغرب کو نقصان پہنچانے کی سب سے مؤثر حکمت عملی خلیج سے تیل کی ترسیل کو محدود کرنا ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتیں پیر کو جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔</p>
<p>تاہم قیمتیں ابھی تک بحران کی سطح پر نہیں پہنچیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاجر اس تنازع سے نکلنے کی راہ دیکھ رہے ہیں جو سنگین خلل پیدا نہ کرے۔</p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 0.5 فیصد کم ہو کر 76.64 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، اگرچہ ابتدائی طور پر 80 ڈالر سے اوپر چلا گیا تھا۔</p>
<p>ایران کی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری درکار ہے، جو رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرر کردہ فرد کی سربراہی میں ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے اور امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے سے تصادم کا خطرہ ہے، جو بحرین میں مقیم ہے۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ ان کے لیے معاشی خودکشی ہو گی۔ اور ہمارے پاس اس سے نمٹنے کے لیے کئی آپشنز موجود ہیں۔</p>
<p>تہران اپنے آپشنز پر غور کر رہا ہے، اور وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ کریملن ایران کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے، لیکن اسرائیل سے بھی قریبی تعلقات رکھتا ہے۔</p>
<p>اتوار کو استنبول میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران تمام ممکنہ جوابی اقدامات پر غور کرے گا اور جب تک ردعمل نہیں دیا جاتا، سفارتکاری کا راستہ نہیں کھلے گا۔ بعد ازاں روسی نیوز ایجنسی تاس نے عباس عراقچی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس اپنے مؤقف پر ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273962</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Jun 2025 15:57:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/231554222d2bb0c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/231554222d2bb0c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
