<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:47:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:47:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ میں معاشی بحالی کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل موجود نہیں، بزنس مین پینل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273956/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی چیمبر کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) نے وفاقی بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض نظریاتی خوش فہمیوں پر مبنی ایک دستاویز قرار دیا ہے جو پاکستان کو درپیش معاشی اور صنعتی مسائل کے حل کیلئے درکار مؤثر عملی حکمتِ عملی سے محروم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم پی کی قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت نے ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے اور نجی شعبے کو عملی ریلیف فراہم کرنے کا ایک اہم موقع ضائع کردیا ہے جو کہ موجودہ مالی مشکلات، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور برآمدات میں جمود جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ناگزیر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین بی ایم پی اور سابق صدرایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار نے کہا ہے کہ بجٹ صنعتی توسیع، روزگار کے مواقع پیدا کرنے یا مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بامعنی ترقی کے لیے کوئی قابلِ عمل روڈمیپ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے، بجٹ کا محور صرف ٹیکس آمدن کے اہداف پر رکھا گیا ہے جب کہ پیداوار اور مسابقت کو متاثر کرنے والے بنیادی مسائل کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معاشی بحالی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک کاروباری برادری کو فعال طور پر شامل نہ کیا جائے اور اس کی حمایت حاصل نہ کی جائے جو کہ بارہا دعوؤں کے باوجود اب بھی پالیسی سازی سے باہر محسوس کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں انجم نثار نے حکومت کی بالواسطہ ٹیکس اور قلیل مدتی مالیاتی اقدامات پر حد سے زیادہ انحصار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرزِ عمل سے معاشی ناہمواری بڑھے گی اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی متاثر ہوگی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت نے دستاویزات سازی اور مؤثر نفاذ میں ضروری اصلاحات کے بغیر سخت ٹیکس اقدامات متعارف کرائے ہیں، جس سے پہلے سے قانون کی پاسداری کرنے والے کاروبار میں ہراسانی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کاروباری اکاؤنٹس کو پیشگی اطلاع کے بغیر منجمد کرنے جیسے اقدامات سمیت ٹیکس حکام کو غیر مشروط اختیارات دینے کی شدید مخالفت کی، اور ان اقدامات کو کاروبار مخالف اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی و اعتماد سازی کے جذبے کے منافی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے 1,000 ارب روپے پاکستان کی معیشت کی ہنگامی انفرااسٹرکچر ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، خصوصاً صنعتی زونز، بندرگاہوں، لاجسٹک راہداریوں اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کے شعبے میں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک یہ فنڈز شفاف طریقے سے اور منصوبوں کی سخت ترجیحات کے ساتھ استعمال نہیں کیے جاتے، ان کا اثر نہایت محدود رہے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ طویل عرصے سے رکے ہوئے صنعتی اور ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کو بحال کرے، کیونکہ یہ سپلائی چین کی بہتری اور کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ویلیو ایڈڈ شعبوں، بالخصوص ٹیکسٹائل، ملبوسات اور لائٹ انجینئرنگ جیسے شعبوں کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا، جو کہ پاکستان کی برآمدی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں انجم نثار نے بی ایم پی پینل کا دیرینہ مطالبہ دہراتے ہوئے زیرو ریٹنگ نظام کی بحالی اور سیلز ٹیکس ریفنڈز میں موجود طریقہ کار کی رکاوٹوں کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ورکنگ کیپٹل ریفنڈ سائیکل میں پھنسا رہتا ہے جس سے برآمد کنندگان، جو پہلے ہی کم منافع اور تاخیر کا شکار شپمنٹس جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں، شدید لیکویڈیٹی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی چیمبر کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) نے وفاقی بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض نظریاتی خوش فہمیوں پر مبنی ایک دستاویز قرار دیا ہے جو پاکستان کو درپیش معاشی اور صنعتی مسائل کے حل کیلئے درکار مؤثر عملی حکمتِ عملی سے محروم ہے۔</strong></p>
<p>بی ایم پی کی قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت نے ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے اور نجی شعبے کو عملی ریلیف فراہم کرنے کا ایک اہم موقع ضائع کردیا ہے جو کہ موجودہ مالی مشکلات، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور برآمدات میں جمود جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ناگزیر تھا۔</p>
<p>چیئرمین بی ایم پی اور سابق صدرایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار نے کہا ہے کہ بجٹ صنعتی توسیع، روزگار کے مواقع پیدا کرنے یا مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بامعنی ترقی کے لیے کوئی قابلِ عمل روڈمیپ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے، بجٹ کا محور صرف ٹیکس آمدن کے اہداف پر رکھا گیا ہے جب کہ پیداوار اور مسابقت کو متاثر کرنے والے بنیادی مسائل کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معاشی بحالی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک کاروباری برادری کو فعال طور پر شامل نہ کیا جائے اور اس کی حمایت حاصل نہ کی جائے جو کہ بارہا دعوؤں کے باوجود اب بھی پالیسی سازی سے باہر محسوس کررہی ہے۔</p>
<p>میاں انجم نثار نے حکومت کی بالواسطہ ٹیکس اور قلیل مدتی مالیاتی اقدامات پر حد سے زیادہ انحصار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرزِ عمل سے معاشی ناہمواری بڑھے گی اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی متاثر ہوگی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت نے دستاویزات سازی اور مؤثر نفاذ میں ضروری اصلاحات کے بغیر سخت ٹیکس اقدامات متعارف کرائے ہیں، جس سے پہلے سے قانون کی پاسداری کرنے والے کاروبار میں ہراسانی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کاروباری اکاؤنٹس کو پیشگی اطلاع کے بغیر منجمد کرنے جیسے اقدامات سمیت ٹیکس حکام کو غیر مشروط اختیارات دینے کی شدید مخالفت کی، اور ان اقدامات کو کاروبار مخالف اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی و اعتماد سازی کے جذبے کے منافی قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے 1,000 ارب روپے پاکستان کی معیشت کی ہنگامی انفرااسٹرکچر ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، خصوصاً صنعتی زونز، بندرگاہوں، لاجسٹک راہداریوں اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کے شعبے میں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک یہ فنڈز شفاف طریقے سے اور منصوبوں کی سخت ترجیحات کے ساتھ استعمال نہیں کیے جاتے، ان کا اثر نہایت محدود رہے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ طویل عرصے سے رکے ہوئے صنعتی اور ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کو بحال کرے، کیونکہ یہ سپلائی چین کی بہتری اور کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے ویلیو ایڈڈ شعبوں، بالخصوص ٹیکسٹائل، ملبوسات اور لائٹ انجینئرنگ جیسے شعبوں کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا، جو کہ پاکستان کی برآمدی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>میاں انجم نثار نے بی ایم پی پینل کا دیرینہ مطالبہ دہراتے ہوئے زیرو ریٹنگ نظام کی بحالی اور سیلز ٹیکس ریفنڈز میں موجود طریقہ کار کی رکاوٹوں کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ورکنگ کیپٹل ریفنڈ سائیکل میں پھنسا رہتا ہے جس سے برآمد کنندگان، جو پہلے ہی کم منافع اور تاخیر کا شکار شپمنٹس جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں، شدید لیکویڈیٹی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273956</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Jun 2025 13:51:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/23134257760d108.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/23134257760d108.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
