<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:34:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:34:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی حکمت عملی پر غور، کشیدگی بڑھنے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273951/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل اور فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا، جب کہ دنیا پیر کے روز اس تشویش میں مبتلا رہی کہ تہران امریکہ کی جانب سے اس کے جوہری ٹھکانوں پر حملے کے جواب میں کیا ردعمل دے گا۔ اسی دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ ایران میں ”ریجیم چینج“ (حکومت کی تبدیلی) کی بات چھیڑ دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ اپنا بھرپور دفاع کرے گا۔ یہ بیان اس کے ایک دن بعد آیا جب امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کے خلاف سب سے بڑے مغربی فوجی اقدام میں حصہ لیا۔ اگرچہ دنیا بھر سے سفارت کاری کی بحالی اور تحمل کی اپیلیں جاری تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمرشل سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہفتہ کے روز ایران کے زیرِ زمین فردو جوہری پلانٹ پر امریکی حملے سے یہ تنصیب شدید طور پر متاثر یا تباہ ہو گئی، جس میں یورینیم افزودہ کرنے والے سینٹری فیوجز بھی شامل تھے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس تنصیب کی حقیقی صورتحال کی تصدیق تاحال ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ
ایران کی تمام جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ سب سے بڑا نقصان زمین کی تہہ میں ہوا۔ نشانہ ٹھیک بیٹھا، بیلس آئی!!!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اب امن قائم کرنا چاہیے، بصورت دیگر آئندہ حملے زیادہ شدید اور آسان ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر 75 درست نشانہ لگانے والے ہتھیار، جن میں بنکر بسٹر بم اور دو درجن سے زائد ٹوماہاک میزائل شامل تھے، داغے۔ یہ بات امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا کہ امریکی حملوں کے بعد متاثرہ مقامات پر تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ رپورٹ نہیں ہوا۔ ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے سی این این کو بتایا کہ زمین کے اندر ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانا فی الحال ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ حملے سے قبل فردو تنصیب سے زیادہ تر افزودہ یورینیم منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم رائٹرز اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران، جو کہ اپنی جوہری سرگرمیوں کو پُرامن قرار دیتا ہے، نے امریکی حملے کے جواب میں اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کی، جس سے تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران نے تاحال اپنی ان دو اہم دھمکیوں پر عمل نہیں کیا جن میں امریکہ کے اڈوں کو نشانہ بنانا یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنا شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، عالمی معیشت کو دھچکا لگے گا، اور یہ امریکی نیوی کے پانچویں بحری بیڑے سے ٹکراؤ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں پیر کے روز جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.88 ڈالر (2.44 فیصد) اضافہ ہو کر 78.89 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.87 ڈالر (2.53فیصد) بڑھ کر 75.71 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری درکار ہے، جو کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرر کردہ نمائندے کے زیرِ قیادت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل کین نے بتایا کہ امریکہ نے خطے میں اپنے فوجی اڈوں خصوصاً عراق اور شام میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے اور انہیں ”زیادہ احتیاط“ برتنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں تقریباً 40,000 فوجی اور میزائل شکن جنگی جہاز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح بتایا کہ ایران کی طرف سے ایک اور میزائل داغا گیا تھا، جسے دفاعی نظام نے کامیابی سے مار گرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے دیگر علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ ایران ماضی میں بھی ”گریٹر تل ابیب“ کو نشانہ بناتا رہا ہے، جو کہ 40 لاکھ آبادی پر مشتمل علاقہ ہے اور اسرائیل کا معاشی و فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی نیوز ایجنسیوں کے مطابق، تہران کے وسطی اضلاع میں فضائی دفاعی نظام نے ”دشمن کے اہداف“ کو نشانہ بنایا، جب کہ اسرائیلی فضائی حملوں نے پارچین کے مقام کو نشانہ بنایا جو کہ دارالحکومت تہران کے جنوب مشرق میں واقع ایک فوجی تنصیب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریجیم چینج (حکومت کی تبدیلی)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز ٹروتھ سوشل“ پلیٹ فارم پر کی گئی ایک پوسٹ میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی  کی تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ
سیاسی طور پر درست نہیں کہ ’ریجیم چینج‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے، لیکن اگر موجودہ ایرانی حکومت ایران کو دوبارہ عظیم نہیں بنا سکتی، تو پھر حکومت کی تبدیلی کیوں نہ ہو؟ !!!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی یہ پوسٹ ان کے انتظامیہ کے عہدیداروں کے بیانات کے بعد سامنے آئی، جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، اسرائیلی حکام، جنہوں نے 13 جون کو ایران پر اچانک حملے سے کشیدگی کا آغاز کیا، اب کھل کر ایران کے سخت گیر شیعہ مذہبی نظام کو ختم کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ روس کا ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا رشتہ ہے، تاہم اس کے اسرائیل کے ساتھ بھی قریبی روابط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول میں اتوار کو ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران تمام ممکنہ ردعمل پر غور کرے گا، اور جب تک مناسب جواب نہ دیا جائے، اس وقت تک سفارت کاری کی بحالی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان حملوں سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کہا کہ
مشرق وسطیٰ میں، جو پہلے ہی متعدد بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، اب تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں امریکہ کے ایران پر حملوں پر غور کیا گیا۔ روس، چین اور پاکستان نے 15 رکنی کونسل کے سامنے ایک قرارداد پیش کی جس میں مشرق وسطیٰ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ایران میں امریکی بمباری سے خطے میں حالات خطرناک موڑ اختیار کر چکے ہیں، اور ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل اور فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا، جب کہ دنیا پیر کے روز اس تشویش میں مبتلا رہی کہ تہران امریکہ کی جانب سے اس کے جوہری ٹھکانوں پر حملے کے جواب میں کیا ردعمل دے گا۔ اسی دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ ایران میں ”ریجیم چینج“ (حکومت کی تبدیلی) کی بات چھیڑ دی۔</strong></p>
<p>ایران نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ اپنا بھرپور دفاع کرے گا۔ یہ بیان اس کے ایک دن بعد آیا جب امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کے خلاف سب سے بڑے مغربی فوجی اقدام میں حصہ لیا۔ اگرچہ دنیا بھر سے سفارت کاری کی بحالی اور تحمل کی اپیلیں جاری تھیں۔</p>
<p>کمرشل سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہفتہ کے روز ایران کے زیرِ زمین فردو جوہری پلانٹ پر امریکی حملے سے یہ تنصیب شدید طور پر متاثر یا تباہ ہو گئی، جس میں یورینیم افزودہ کرنے والے سینٹری فیوجز بھی شامل تھے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس تنصیب کی حقیقی صورتحال کی تصدیق تاحال ممکن نہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ
ایران کی تمام جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ سب سے بڑا نقصان زمین کی تہہ میں ہوا۔ نشانہ ٹھیک بیٹھا، بیلس آئی!!!“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اب امن قائم کرنا چاہیے، بصورت دیگر آئندہ حملے زیادہ شدید اور آسان ہوں گے۔</p>
<p>امریکی فوج نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر 75 درست نشانہ لگانے والے ہتھیار، جن میں بنکر بسٹر بم اور دو درجن سے زائد ٹوماہاک میزائل شامل تھے، داغے۔ یہ بات امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بتائی۔</p>
<p>بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا کہ امریکی حملوں کے بعد متاثرہ مقامات پر تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ رپورٹ نہیں ہوا۔ ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے سی این این کو بتایا کہ زمین کے اندر ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانا فی الحال ممکن نہیں۔</p>
<p>ایک سینئر ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ حملے سے قبل فردو تنصیب سے زیادہ تر افزودہ یورینیم منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم رائٹرز اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p>تہران، جو کہ اپنی جوہری سرگرمیوں کو پُرامن قرار دیتا ہے، نے امریکی حملے کے جواب میں اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کی، جس سے تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>تاہم ایران نے تاحال اپنی ان دو اہم دھمکیوں پر عمل نہیں کیا جن میں امریکہ کے اڈوں کو نشانہ بنانا یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنا شامل تھا۔</p>
<p>اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، عالمی معیشت کو دھچکا لگے گا، اور یہ امریکی نیوی کے پانچویں بحری بیڑے سے ٹکراؤ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں پیر کے روز جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.88 ڈالر (2.44 فیصد) اضافہ ہو کر 78.89 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.87 ڈالر (2.53فیصد) بڑھ کر 75.71 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری درکار ہے، جو کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرر کردہ نمائندے کے زیرِ قیادت ہے۔</p>
<p>جنرل کین نے بتایا کہ امریکہ نے خطے میں اپنے فوجی اڈوں خصوصاً عراق اور شام میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے اور انہیں ”زیادہ احتیاط“ برتنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں تقریباً 40,000 فوجی اور میزائل شکن جنگی جہاز موجود ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح بتایا کہ ایران کی طرف سے ایک اور میزائل داغا گیا تھا، جسے دفاعی نظام نے کامیابی سے مار گرایا۔</p>
<p>تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے دیگر علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ ایران ماضی میں بھی ”گریٹر تل ابیب“ کو نشانہ بناتا رہا ہے، جو کہ 40 لاکھ آبادی پر مشتمل علاقہ ہے اور اسرائیل کا معاشی و فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>ایرانی نیوز ایجنسیوں کے مطابق، تہران کے وسطی اضلاع میں فضائی دفاعی نظام نے ”دشمن کے اہداف“ کو نشانہ بنایا، جب کہ اسرائیلی فضائی حملوں نے پارچین کے مقام کو نشانہ بنایا جو کہ دارالحکومت تہران کے جنوب مشرق میں واقع ایک فوجی تنصیب ہے۔</p>
<p><strong>ریجیم چینج (حکومت کی تبدیلی)</strong></p>
<p>اتوار کے روز ٹروتھ سوشل“ پلیٹ فارم پر کی گئی ایک پوسٹ میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی  کی تجویز پیش کی۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ
سیاسی طور پر درست نہیں کہ ’ریجیم چینج‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے، لیکن اگر موجودہ ایرانی حکومت ایران کو دوبارہ عظیم نہیں بنا سکتی، تو پھر حکومت کی تبدیلی کیوں نہ ہو؟ !!!“</p>
<p>ٹرمپ کی یہ پوسٹ ان کے انتظامیہ کے عہدیداروں کے بیانات کے بعد سامنے آئی، جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کر رہا۔</p>
<p>اس کے برعکس، اسرائیلی حکام، جنہوں نے 13 جون کو ایران پر اچانک حملے سے کشیدگی کا آغاز کیا، اب کھل کر ایران کے سخت گیر شیعہ مذہبی نظام کو ختم کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ روس کا ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا رشتہ ہے، تاہم اس کے اسرائیل کے ساتھ بھی قریبی روابط ہیں۔</p>
<p>استنبول میں اتوار کو ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران تمام ممکنہ ردعمل پر غور کرے گا، اور جب تک مناسب جواب نہ دیا جائے، اس وقت تک سفارت کاری کی بحالی ممکن نہیں۔</p>
<p>روس کی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان حملوں سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>وزارت نے کہا کہ
مشرق وسطیٰ میں، جو پہلے ہی متعدد بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، اب تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>اتوار کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں امریکہ کے ایران پر حملوں پر غور کیا گیا۔ روس، چین اور پاکستان نے 15 رکنی کونسل کے سامنے ایک قرارداد پیش کی جس میں مشرق وسطیٰ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ایران میں امریکی بمباری سے خطے میں حالات خطرناک موڑ اختیار کر چکے ہیں، اور ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273951</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Jun 2025 12:06:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/2311595443de6de.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/2311595443de6de.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
