<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273949/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ معمولی تنزلی کا شکار ہوا اور 0.06 فیصد قدر کھو بیٹھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ قدر میں 17 پیسے کی کمی  کے ساتھ 283.87 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1937109852838334515"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید کمزور ہوا کیونکہ اس کی قدر میں 0.74 روپے یا 0.26 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ہفتے مقامی کرنسی 283.70 روپے پر بند ہوئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر پیر کو ڈالر میں معمولی استحکام دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے محفوظ راستہ اختیار کیا، اگرچہ اب تک کی تبدیلیاں محدود رہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بازار ایران کی جانب سے امریکہ کے جوہری تنصیبات پر حملوں کے جواب کا انتظار کررہے ہیں جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی تبدیلیاں تیل کی منڈی میں دیکھنے میں آئیں جہاں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ امریکی حملوں کے بعد پہلے مارکیٹ ردعمل میں عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر نے بیشتر حریف کرنسیوں کے مقابلے میں مجموعی طور پر اضافہ دکھایا۔ جاپانی ین کے مقابلے میں یہ 0.25 فیصد بڑھ کر 146.415 پر پہنچ گیا، جبکہ سیشن کے دوران ایک ماہ کی بلند ترین سطح کو بھی چھوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 0.33 فیصد کی کمی کے ساتھ 1.1484 ڈالر پر آ گیا جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.2 فیصد کم ہو کر 0.6437 ڈالر پر آ گیا جو گزشتہ تین ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں ڈالر انڈیکس 0.12 فیصد کے اضافے کے ساتھ 99.037 پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی قدر کا ایک اہم اشاریہ ہیں، پیر کو جنوری کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جب امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری مراکز پر حملے کی تیاری نے تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 8 سینٹ بڑھ کر 77.09 ڈالر فی بیرل ہو گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت 3 سینٹ اضافے کے ساتھ 73.87 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے سیشن میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ دونوں کنٹریکٹس نے سیشن کے ابتدائی حصے میں پانچ ماہ کی نئی بلند ترین سطحیں عبور کیں، برینٹ 81.40 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 78.40 ڈالر، مگر بعد میں اپنی بڑھت کو چھوڑ کر یورپی صبح کے سیشن میں مندی کا شکار ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کی قیمتیں 13 جون سے شروع ہونے والے تنازع کے بعد تقریباً 11 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پیر کو قیمتوں میں استحکام رہا کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث تیل کی مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی خطرے کے اضافے کا جائزہ لے رہے تھے جبکہ تاحال فراہمی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ معمولی تنزلی کا شکار ہوا اور 0.06 فیصد قدر کھو بیٹھا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ قدر میں 17 پیسے کی کمی  کے ساتھ 283.87 پر بند ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1937109852838334515"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>گزشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید کمزور ہوا کیونکہ اس کی قدر میں 0.74 روپے یا 0.26 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ہفتے مقامی کرنسی 283.70 روپے پر بند ہوئی ۔</p>
<p>عالمی سطح پر پیر کو ڈالر میں معمولی استحکام دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے محفوظ راستہ اختیار کیا، اگرچہ اب تک کی تبدیلیاں محدود رہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بازار ایران کی جانب سے امریکہ کے جوہری تنصیبات پر حملوں کے جواب کا انتظار کررہے ہیں جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>بڑی تبدیلیاں تیل کی منڈی میں دیکھنے میں آئیں جہاں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ امریکی حملوں کے بعد پہلے مارکیٹ ردعمل میں عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر نے بیشتر حریف کرنسیوں کے مقابلے میں مجموعی طور پر اضافہ دکھایا۔ جاپانی ین کے مقابلے میں یہ 0.25 فیصد بڑھ کر 146.415 پر پہنچ گیا، جبکہ سیشن کے دوران ایک ماہ کی بلند ترین سطح کو بھی چھوا۔</p>
<p>یورو 0.33 فیصد کی کمی کے ساتھ 1.1484 ڈالر پر آ گیا جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.2 فیصد کم ہو کر 0.6437 ڈالر پر آ گیا جو گزشتہ تین ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں ڈالر انڈیکس 0.12 فیصد کے اضافے کے ساتھ 99.037 پر پہنچ گیا۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی قدر کا ایک اہم اشاریہ ہیں، پیر کو جنوری کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جب امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری مراکز پر حملے کی تیاری نے تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا۔</p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 8 سینٹ بڑھ کر 77.09 ڈالر فی بیرل ہو گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت 3 سینٹ اضافے کے ساتھ 73.87 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔</p>
<p>پیر کے سیشن میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ دونوں کنٹریکٹس نے سیشن کے ابتدائی حصے میں پانچ ماہ کی نئی بلند ترین سطحیں عبور کیں، برینٹ 81.40 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 78.40 ڈالر، مگر بعد میں اپنی بڑھت کو چھوڑ کر یورپی صبح کے سیشن میں مندی کا شکار ہو گئے۔</p>
<p>برینٹ کی قیمتیں 13 جون سے شروع ہونے والے تنازع کے بعد تقریباً 11 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پیر کو قیمتوں میں استحکام رہا کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث تیل کی مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی خطرے کے اضافے کا جائزہ لے رہے تھے جبکہ تاحال فراہمی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273949</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Jun 2025 17:38:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/231047281052045.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/231047281052045.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
