<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گردشی قرض کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273946/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے آخرکار اس منصوبے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جسے وہ ”پاور سیکٹر ریفارم کا سنگِ میل“ قرار دے رہی ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی نکتہ 2.4 کھرب روپے کے گردشی قرضے کے ذخیرے کو ختم کرنے کا وعدہ ہے، جو طویل عرصے سے ملکی مالیاتی بدحالی اور اقتصادی بگاڑ کا باعث رہا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ اعلان ساختی اصلاحات، طویل مدتی بہتری اور صارفین کے لیے ریلیف کا پیش خیمہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن تفصیلات ایک مختلف کہانی سناتی ہیں۔ اس نام نہاد اصلاحات کا بڑا حصہ کمرشل بینکوں سے 1.25 کھرب روپے کا قرض لینے پر مشتمل ہے، تاکہ پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) کے موجودہ قرضے ادا کیے جا سکیں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے واجب الادا سود پر مبنی بقایاجات ختم کیے جا سکیں۔ یہ نیا قرض چھ سال میں، 24 مساوی سہ ماہی اقساط میں ادا کیا جائے گا، جس کی کل ادائیگی 1.938 کھرب روپے ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب غور کریں اصل نکتے پر: حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قرض سہ ماہی کائیبور مائنس 0.9 فیصد کے نرخ پر حاصل کیا گیا ہے، جیسا کہ آئی ایم ایف سے طے پایا۔ موجودہ صورتحال کے مطابق، یہ شرح سالانہ تقریباً 10.1 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن حساب کتاب کچھ اور بتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر 1.275 کھرب روپے کا قرض چھ سال میں 1.938 کھرب روپے میں واپس کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مؤثر سالانہ شرح سود  تقریباً 17.2 فیصد ہے — جو کہ سرکاری طور پر دعویٰ کردہ شرح سے پورے سات فیصد زیادہ ہے۔ جب تک یہ قرض اس وقت حاصل نہ کیا گیا ہو جب کائیبور 18 فیصد پر تھا — یا پھر اس میں بیک لوڈڈ پیمنٹ یا خفیہ اضافی نرخ  شامل ہوں — تب تک اس دعوے اور اصل ادائیگی کے درمیان واضح ساکھ کا خلاء موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو اس فرق کی وضاحت کرنی چاہیے۔ کیا کائیبور اس معاہدے کے وقت منجمد  کر دیا گیا تھا؟ کیا اسلامی مالیاتی ڈھانچے کے نیچے کہیں سودی مرکب کی کوئی چالاکی چھپی ہوئی ہے؟ کیا ”کائیبور مائنس 0.9 فیصد“ دراصل ایک چکما ہے، جو ایک کہیں زیادہ مہنگی حقیقت کو چھپا رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ صرف قیمت کے ابہام کا معاملہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس بوجھ کو برداشت کون کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ یہ قرضہ مالیاتی بجٹ سے ادا نہیں کیا جائے گا، بلکہ بجلی کے بلوں کے ذریعے صارفین سے وصول کیا جائے گا — ڈیٹ سروس سرچارج  کے نام سے۔ یہ سرچارج  نیپرا کی مقرر کردہ ریونیو کی ضروریات کا 10 فیصد ہے اور اب اسے بغیر کسی حد کے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر سرچارج کی وصولی کم ہوئی تو اسے بڑھا دیا جائے گا۔ اگر مستقبل میں کمی کا امکان ہوا تو پیشگی بڑھا دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اصلاح نہیں — بلکہ گزشتہ ناقص حکمرانی، چوری، ریکوری کی ناکامی، اور سیاسی مصلحتوں کا مکمل بوجھ ان صارفین پر ڈالنا ہے جو بل ادا کرتے ہیں۔ چھ سال تک مسلسل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ گردشی قرضے کی ادائیگی نہیں۔ یہ اس کی ری فنانسنگ اور پیکجنگ ہے — صارفین کے قرضے کے طور پر، قانونی تحفظ کے ساتھ، بجلی کے بل میں چھپا کر، اور نیپرا کے ذریعے نافذ کر کے۔ اس منصوبے سے ان بنیادی خرابیوں کا کوئی حل نہیں نکلتا جنہوں نے گردشی قرضے کے بحران کو جنم دیا: ترسیلی نقصانات، ناقص طرزِ حکمرانی، بے ہنگم سبسڈیز، اور ڈسکوز کی بدانتظامی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ ممکن ہے کہ حکومت کے حسابات کو صاف دکھائے اور آئی ایم ایف کے پروگرام میں مطلوبہ خانوں پر ٹک لگا دے، لیکن ایک عام صارف کی نظر سے — وہی صارف جو پہلے ہی کپیسٹی چارجز، ٹیکسز اور نقصانات کا بوجھ اٹھا رہا ہے — یہ سراسر ایک ادارہ جاتی سزا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ”اصلاح“ جو نہ کارکردگی میں اضافہ کرے، نہ ویلیو چین کو بہتر بنائے، اور ان صارفین کو سزا دے جو نظام کے ساتھ دیانتداری سے چل رہے ہیں — وہ اصلاح نہیں بلکہ صرف نیا لیبل لگانا ہے: مہنگی، غیر منصفانہ، اور پسماندگی کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے آخرکار اس منصوبے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جسے وہ ”پاور سیکٹر ریفارم کا سنگِ میل“ قرار دے رہی ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی نکتہ 2.4 کھرب روپے کے گردشی قرضے کے ذخیرے کو ختم کرنے کا وعدہ ہے، جو طویل عرصے سے ملکی مالیاتی بدحالی اور اقتصادی بگاڑ کا باعث رہا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ اعلان ساختی اصلاحات، طویل مدتی بہتری اور صارفین کے لیے ریلیف کا پیش خیمہ ہے۔</strong></p>
<p>لیکن تفصیلات ایک مختلف کہانی سناتی ہیں۔ اس نام نہاد اصلاحات کا بڑا حصہ کمرشل بینکوں سے 1.25 کھرب روپے کا قرض لینے پر مشتمل ہے، تاکہ پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) کے موجودہ قرضے ادا کیے جا سکیں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے واجب الادا سود پر مبنی بقایاجات ختم کیے جا سکیں۔ یہ نیا قرض چھ سال میں، 24 مساوی سہ ماہی اقساط میں ادا کیا جائے گا، جس کی کل ادائیگی 1.938 کھرب روپے ہوگی۔</p>
<p>اب غور کریں اصل نکتے پر: حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قرض سہ ماہی کائیبور مائنس 0.9 فیصد کے نرخ پر حاصل کیا گیا ہے، جیسا کہ آئی ایم ایف سے طے پایا۔ موجودہ صورتحال کے مطابق، یہ شرح سالانہ تقریباً 10.1 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>لیکن حساب کتاب کچھ اور بتا رہا ہے۔</p>
<p>اگر 1.275 کھرب روپے کا قرض چھ سال میں 1.938 کھرب روپے میں واپس کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مؤثر سالانہ شرح سود  تقریباً 17.2 فیصد ہے — جو کہ سرکاری طور پر دعویٰ کردہ شرح سے پورے سات فیصد زیادہ ہے۔ جب تک یہ قرض اس وقت حاصل نہ کیا گیا ہو جب کائیبور 18 فیصد پر تھا — یا پھر اس میں بیک لوڈڈ پیمنٹ یا خفیہ اضافی نرخ  شامل ہوں — تب تک اس دعوے اور اصل ادائیگی کے درمیان واضح ساکھ کا خلاء موجود ہے۔</p>
<p>حکومت کو اس فرق کی وضاحت کرنی چاہیے۔ کیا کائیبور اس معاہدے کے وقت منجمد  کر دیا گیا تھا؟ کیا اسلامی مالیاتی ڈھانچے کے نیچے کہیں سودی مرکب کی کوئی چالاکی چھپی ہوئی ہے؟ کیا ”کائیبور مائنس 0.9 فیصد“ دراصل ایک چکما ہے، جو ایک کہیں زیادہ مہنگی حقیقت کو چھپا رہا ہے؟</p>
<p>زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ صرف قیمت کے ابہام کا معاملہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس بوجھ کو برداشت کون کرے گا۔</p>
<p>کیونکہ یہ قرضہ مالیاتی بجٹ سے ادا نہیں کیا جائے گا، بلکہ بجلی کے بلوں کے ذریعے صارفین سے وصول کیا جائے گا — ڈیٹ سروس سرچارج  کے نام سے۔ یہ سرچارج  نیپرا کی مقرر کردہ ریونیو کی ضروریات کا 10 فیصد ہے اور اب اسے بغیر کسی حد کے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر سرچارج کی وصولی کم ہوئی تو اسے بڑھا دیا جائے گا۔ اگر مستقبل میں کمی کا امکان ہوا تو پیشگی بڑھا دیا جائے گا۔</p>
<p>یہ اصلاح نہیں — بلکہ گزشتہ ناقص حکمرانی، چوری، ریکوری کی ناکامی، اور سیاسی مصلحتوں کا مکمل بوجھ ان صارفین پر ڈالنا ہے جو بل ادا کرتے ہیں۔ چھ سال تک مسلسل۔</p>
<p>یہ گردشی قرضے کی ادائیگی نہیں۔ یہ اس کی ری فنانسنگ اور پیکجنگ ہے — صارفین کے قرضے کے طور پر، قانونی تحفظ کے ساتھ، بجلی کے بل میں چھپا کر، اور نیپرا کے ذریعے نافذ کر کے۔ اس منصوبے سے ان بنیادی خرابیوں کا کوئی حل نہیں نکلتا جنہوں نے گردشی قرضے کے بحران کو جنم دیا: ترسیلی نقصانات، ناقص طرزِ حکمرانی، بے ہنگم سبسڈیز، اور ڈسکوز کی بدانتظامی۔</p>
<p>یہ منصوبہ ممکن ہے کہ حکومت کے حسابات کو صاف دکھائے اور آئی ایم ایف کے پروگرام میں مطلوبہ خانوں پر ٹک لگا دے، لیکن ایک عام صارف کی نظر سے — وہی صارف جو پہلے ہی کپیسٹی چارجز، ٹیکسز اور نقصانات کا بوجھ اٹھا رہا ہے — یہ سراسر ایک ادارہ جاتی سزا ہے۔</p>
<p>ایسی ”اصلاح“ جو نہ کارکردگی میں اضافہ کرے، نہ ویلیو چین کو بہتر بنائے، اور ان صارفین کو سزا دے جو نظام کے ساتھ دیانتداری سے چل رہے ہیں — وہ اصلاح نہیں بلکہ صرف نیا لیبل لگانا ہے: مہنگی، غیر منصفانہ، اور پسماندگی کا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273946</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Jun 2025 10:29:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/2310243788531e4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/2310243788531e4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
