<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، اسحاق ڈار کا او آئی سی اجلاس سے خطاب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273942/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کے روز مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 51ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتا ہے، اور اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کے حقِ  دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے حوالے سے دوہرے معیار پر تنقید کی اور کہا کہ خطے میں امن کو کسی صورت خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا واحد قابلِ عمل حل بات چیت ہے۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی امن کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خارجہ نے ایران کی خودمختاری کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے بلاجواز اور غیرقانونی اقدامات کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ہم اپنے ایرانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہری علاقوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ جارحیت ایسے وقت میں کی گئی جب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے عمل میں مصروف تھی، اس لیے اسرائیل نے آئی اے ای اے کی نگرانی میں موجود تنصیبات پر حملہ کر کے بین الاقوامی قوانین، آئی اے ای اے کے قوانین اور قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کی۔ یہ حملے نہ صرف ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں بلکہ خطے اور پوری دنیا کے عوام کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کے اس فطری حقِ دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی عسکری جارحیت کے ایک خطرناک اور مسلسل جاری رجحان کا حصہ ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان نے ایران کی درخواست پر گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کی مکمل حمایت کی تاکہ اسرائیلی جارحیت پر غور کیا جا سکے اور اقوام متحدہ کی سطح پر فوری اقدامات کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سلامتی کونسل مفلوج ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ایران سے متعلق دیگر عالمی اقدامات کی بھی حمایت کی ہے، جن میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے بیانات، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور آئی اے ای اے میں کی گئی کوششیں شامل ہیں۔ ہم ایران کے جوہری معاملے کو پرامن طریقے، سفارتی روابط اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کے روز مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 51ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتا ہے، اور اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کے حقِ  دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے حوالے سے دوہرے معیار پر تنقید کی اور کہا کہ خطے میں امن کو کسی صورت خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا واحد قابلِ عمل حل بات چیت ہے۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی امن کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔</p>
<p>وزیرِ خارجہ نے ایران کی خودمختاری کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے بلاجواز اور غیرقانونی اقدامات کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ہم اپنے ایرانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہری علاقوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ جارحیت ایسے وقت میں کی گئی جب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے عمل میں مصروف تھی، اس لیے اسرائیل نے آئی اے ای اے کی نگرانی میں موجود تنصیبات پر حملہ کر کے بین الاقوامی قوانین، آئی اے ای اے کے قوانین اور قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کی۔ یہ حملے نہ صرف ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں بلکہ خطے اور پوری دنیا کے عوام کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کے اس فطری حقِ دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی عسکری جارحیت کے ایک خطرناک اور مسلسل جاری رجحان کا حصہ ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے امن اور استحکام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان نے ایران کی درخواست پر گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کی مکمل حمایت کی تاکہ اسرائیلی جارحیت پر غور کیا جا سکے اور اقوام متحدہ کی سطح پر فوری اقدامات کیے جا سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سلامتی کونسل مفلوج ہو چکی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے ایران سے متعلق دیگر عالمی اقدامات کی بھی حمایت کی ہے، جن میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے بیانات، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور آئی اے ای اے میں کی گئی کوششیں شامل ہیں۔ ہم ایران کے جوہری معاملے کو پرامن طریقے، سفارتی روابط اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273942</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Jun 2025 09:39:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (این این آئی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/230937430dff300.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/230937430dff300.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
