<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات کا ایران اسرائیل جنگ کے طول پکڑنے پر انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273909/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایران اسرائیل جنگ کے جلد خاتمے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑ گیا تو اس کے ”سنگین نتائج“ برآمد ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل سے مالا مال متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ خلیجی خطے کی ترقی کو متاثر کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جنگ جتنی طویل ہو، اتنی ہی خطرناک ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کوئی بھی طویل محاذ آرائی یا جنگ ایک نہایت مشکل صورتحال کو جنم دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کی مہلت دی ہے، بصورت دیگر امریکی فضائی کارروائی کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، تہران کا کہنا ہے کہ جب تک حملے جاری ہیں وہ مذاکرات نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انور قرقاش نے کہا کہ کشیدگی میں کمی نہایت اہم ہے۔ ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ ان معاملات پر مذاکرات کی طرف واپسی کا راستہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ آج بھی 2003 میں امریکی قیادت میں عراق پر کئے گئے حملے کے نتائج سے نبردآزما ہے، جس نے اگرچہ صدام حسین کو اقتدار سے ہٹا دیا مگر ملک کو تقسیم، غیر مستحکم اور طویل عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ جنگ کے بڑے خطرات میں سے ایک یہ ہے کہ کہیں یہ تنازع خلیج فارس اور عرب خطے کے درمیان واقع آبنائے ہرمز کو متاثر نہ کرے، جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرقاش کا کہنا تھا کہ یہ جنگ دراصل اس علاقائی نظام کی نفی ہے، جو خلیجی ممالک تعمیر کرنا چاہتے ہیں، ایسا نظام جو علاقائی خوشحالی پر مرکوز ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ جنگ صرف متحدہ عرب امارات ہی نہیں، بلکہ پورے خطے کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایران اسرائیل جنگ کے جلد خاتمے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑ گیا تو اس کے ”سنگین نتائج“ برآمد ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>تیل سے مالا مال متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ خلیجی خطے کی ترقی کو متاثر کر رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جنگ جتنی طویل ہو، اتنی ہی خطرناک ہو جاتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کوئی بھی طویل محاذ آرائی یا جنگ ایک نہایت مشکل صورتحال کو جنم دے گی۔</p>
<p>دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کی مہلت دی ہے، بصورت دیگر امریکی فضائی کارروائی کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، تہران کا کہنا ہے کہ جب تک حملے جاری ہیں وہ مذاکرات نہیں کرے گا۔</p>
<p>انور قرقاش نے کہا کہ کشیدگی میں کمی نہایت اہم ہے۔ ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ ان معاملات پر مذاکرات کی طرف واپسی کا راستہ موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ آج بھی 2003 میں امریکی قیادت میں عراق پر کئے گئے حملے کے نتائج سے نبردآزما ہے، جس نے اگرچہ صدام حسین کو اقتدار سے ہٹا دیا مگر ملک کو تقسیم، غیر مستحکم اور طویل عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔</p>
<p>موجودہ جنگ کے بڑے خطرات میں سے ایک یہ ہے کہ کہیں یہ تنازع خلیج فارس اور عرب خطے کے درمیان واقع آبنائے ہرمز کو متاثر نہ کرے، جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔</p>
<p>قرقاش کا کہنا تھا کہ یہ جنگ دراصل اس علاقائی نظام کی نفی ہے، جو خلیجی ممالک تعمیر کرنا چاہتے ہیں، ایسا نظام جو علاقائی خوشحالی پر مرکوز ہو۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ جنگ صرف متحدہ عرب امارات ہی نہیں، بلکہ پورے خطے کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273909</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Jun 2025 18:50:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/21184117e7a1c24.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/21184117e7a1c24.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
