<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:45:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:45:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اہلِ کراچی اربابِ اختیار کی توجہ کے طلبگار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273905/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایسے وقت میں، جب اہلِ شہر خاموشی کی چادر اوڑھے سب کچھ دیکھ رہے ہیں، کراچی پستی کے ایک کے بعد دوسرے گڑھے میں دھنستا جا رہا ہے۔ کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر اور پاکستان کی اقتصادی طاقت کے طور پر جانا جاتا تھا، ایک بار پھر 2025 کے عالمی رہائش کی درجہ بندی میں دنیا کے بدترین رہائشی شہروں میں سے پانچویں نمبر پر آ گیا ہے، جسے دی اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) نے جاری کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عظیم شہر 173 ممالک کی فہرست میں 170ویں نمبر پر رہا، یعنی صرف ڈھاکہ، طرابلس اور دمشق سے قدرے بہتر ہے، اور رہائش پذیری کے اشاریے میں اسے 42.7 کا اسکور ملا، جہاں 100 کا اسکور ’ بہترین قابلِ رہائش’ ہونے کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;کراچی کا ایک مثالی شہر سے دنیا کے بدترین قابلِ رہائش شہروں میں شامل ہو جانا دراصل حکومتی نظام کی ناکامیوں، شہری سطح پر ذاتی وابستگی کا فقدان، بے ہنگم اور تیزرفتار شہری ترقی اور بڑی حد تک خود اہلِ شہر کی بے حسی کی ایک تلخ داستان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی مستقل طور پر نچلی درجہ بندی اس کے دیرینہ اور گہرے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ ہر پہلو زوال کا شکار ہے۔ کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں جسے اطمینان بخش قرار دیا جا سکے، چاہے وہ شہری سہولتیں ہوں، مقامی حکومتوں کا نظام، قانون و امن کی صورتِ حال، ماحولیات، یا پھر صحت و تعلیم کا شعبہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خستہ حال سڑکیں، محدود عوامی ٹرانسپورٹ اور غیر منظم شہری پھیلاؤ نے ٹریفک کے ہنگامے، کچی بستیوں اور بے قابو تجاوزات کو جنم دیا ہے۔ نکاسی آب اور کچرا اٹھانے کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، جو بار بار شہری سیلاب اور غیرفعال صفائی کے حالات پیدا کرتا ہے۔ پینے کے پانی کی مسلسل قلت، لوڈ شیڈنگ اور تباہ حال سیوریج نظام بیشتر محلوں کو متاثر کیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں اختیارات کی تقسیم اور باہمی ٹکراؤ، جیسے کہ کے ایم سی، صوبائی حکومت اور کنٹونمنٹ کے درمیان، انتظامی نااہلی اور ذمہ داری سے بچنے کے رجحان کو جنم دیتا ہے۔ سیاسی مفادات کی جنگیں نہ صرف طویل المدتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ سرمایہ کاری کو بھی مایوس کن حد تک روک دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 2010 کی دہائی کے بعد سے حالات میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، لیکن کراچی اب بھی اسٹریٹ کرائم، بعض علاقوں میں گینگ وار، اور پولیس کی ناقص کارکردگی جیسے سنگین مسائل سے نبردآزما ہے۔ امن و امان کی خراب صورتِ حال نہ صرف شہریوں کی زندگی کے معیار کو متاثر کرتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید فضائی اور آبی آلودگی، ساحلی کٹاؤ، صنعتی فضلے کا بے لگام اخراج اور سبز مقامات کا تیزی سے خاتمہ، کراچی کو ماحولیاتی لحاظ سے ملک کے سب سے زیادہ دباؤ کا شکار شہروں میں شامل کر چکا ہے۔ اسپتالوں پر حد سے زیادہ بوجھ، بنیادی صحت کی سہولتوں کی کمی اور تباہ حال تعلیمی ڈھانچہ رہائش کے معیار کو مزید گرا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ صرف فنڈز کی عدم دستیابی کا نہیں، بلکہ زیادہ تر معاملہ کارکردگی دکھانے کی نیت کے فقدان اور مختص کردہ فنڈز کے شفاف استعمال سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر نیت ہو تو کام ممکن ہیں، اس کی ایک اچھی مثال کراچی کا ماس ٹرانزٹ سسٹم ہے، جسے لاہور کے نظام کے مساوی بنانے کی کوشش کی گئی۔ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے جاپان کی جانب سے سافٹ لون کی پیشکش کی گئی، جبکہ چائنا-پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) کے تحت کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبے کے لیے چینی سرمایہ کاری بھی فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے وقت میں، جب کراچی گزشتہ کئی برسوں سے گرین لائن ماس ٹرانزٹ سسٹم کو فعال اور سرکلر ریلوے کو بحال  کرنے کے لیے کوشاں ہے، لاہور اپنے شہریوں کو طویل عرصے سے ایک جدید اور معیاری ماس ٹرانزٹ نظام یعنی اورنج لائن، کی سہولت فراہم کر رہا ہے، جو چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) کے تحت دیہی لاہور کو شہری علاقوں سے جوڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، بین الاضلاعی ماس ٹرانزٹ بس سسٹم بھی حکومتِ پنجاب کے تعاون سے شہریوں کو مہیا کیا گیا ہے۔ لاہور نے اپنے باسیوں کو کم از کم ایک باوقار سفری ذریعہ ضرور فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی کے شہریوں کو بھی ماس ٹرانزٹ کی سہولتیں میسر ہیں۔ لیکن شہری سہولیات کے دیگر شعبوں میں کراچی، ملک کے دیگر بڑے شہروں سے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کو ایک قابلِ رہائش شہر بنانے کے لیے کئی قابلِ عمل حل موجود ہیں — مثلاً ایک متحدہ شہری حکومت، معیاری ماس ٹرانزٹ نظام اور جدید شہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سبز اور لچک دار شہری منصوبہ بندی، پارکوں اور ساحلی علاقوں کی بحالی، مؤثر اور اسمارٹ پولیسنگ، اور کمیونٹی کی سلامتی کا جامع نظام۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر خدمات کی بہتری کے لیے عوام و نجی شعبے کی شراکت داری (پی پی پیز) کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی کو ہیٹ ویوز، سیلاب اور سمندر کی سطح بلند ہونے جیسے ماحولیاتی خطرات سے بچانے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام اور مضبوط ساحلی دفاعی نظام بھی ضروری ہے۔ یہ تمام اقدامات ایک شہری حکومت سے بنیادی توقعات میں شامل ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی ناقابلِ عمل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی سول سوسائٹی ایک پُرعزم اور متحرک سوسائٹی ہے اور اس نے صوبائی اور مقامی حکومتوں کو متعدد قابلِ عمل منصوبے فراہم کیے ہیں۔ یہاں سننے والوں کی کمی نہیں، مگرعملدرآمد  کرنے والوں کا فقدان ہے۔ شہر کے کئی خیراتی ادارے اور نجی شعبہ تعلیم اور صحت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر کے شہریوں کو ریلیف فراہم کر چکے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ عوامی و نجی شراکت داری (پی پی پیز) کے تحت شہر کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی اپنے کردار کو وسعت دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو کروڑ سے زائد آبادی اور اس کی معاشی اہمیت کے پیش نظر کراچی کی بحالی نہ صرف ایک مقامی ترجیح ہے بلکہ ایک قومی ضرورت بھی ہے تاکہ اس لاکھوں نفوس کی آبادی والے شہر کو بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایسے وقت میں، جب اہلِ شہر خاموشی کی چادر اوڑھے سب کچھ دیکھ رہے ہیں، کراچی پستی کے ایک کے بعد دوسرے گڑھے میں دھنستا جا رہا ہے۔ کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر اور پاکستان کی اقتصادی طاقت کے طور پر جانا جاتا تھا، ایک بار پھر 2025 کے عالمی رہائش کی درجہ بندی میں دنیا کے بدترین رہائشی شہروں میں سے پانچویں نمبر پر آ گیا ہے، جسے دی اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) نے جاری کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ عظیم شہر 173 ممالک کی فہرست میں 170ویں نمبر پر رہا، یعنی صرف ڈھاکہ، طرابلس اور دمشق سے قدرے بہتر ہے، اور رہائش پذیری کے اشاریے میں اسے 42.7 کا اسکور ملا، جہاں 100 کا اسکور ’ بہترین قابلِ رہائش’ ہونے کی علامت ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>کراچی کا ایک مثالی شہر سے دنیا کے بدترین قابلِ رہائش شہروں میں شامل ہو جانا دراصل حکومتی نظام کی ناکامیوں، شہری سطح پر ذاتی وابستگی کا فقدان، بے ہنگم اور تیزرفتار شہری ترقی اور بڑی حد تک خود اہلِ شہر کی بے حسی کی ایک تلخ داستان ہے۔</p>
</blockquote>
<p>کراچی کی مستقل طور پر نچلی درجہ بندی اس کے دیرینہ اور گہرے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ ہر پہلو زوال کا شکار ہے۔ کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں جسے اطمینان بخش قرار دیا جا سکے، چاہے وہ شہری سہولتیں ہوں، مقامی حکومتوں کا نظام، قانون و امن کی صورتِ حال، ماحولیات، یا پھر صحت و تعلیم کا شعبہ۔</p>
<p>خستہ حال سڑکیں، محدود عوامی ٹرانسپورٹ اور غیر منظم شہری پھیلاؤ نے ٹریفک کے ہنگامے، کچی بستیوں اور بے قابو تجاوزات کو جنم دیا ہے۔ نکاسی آب اور کچرا اٹھانے کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، جو بار بار شہری سیلاب اور غیرفعال صفائی کے حالات پیدا کرتا ہے۔ پینے کے پانی کی مسلسل قلت، لوڈ شیڈنگ اور تباہ حال سیوریج نظام بیشتر محلوں کو متاثر کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>شہر میں اختیارات کی تقسیم اور باہمی ٹکراؤ، جیسے کہ کے ایم سی، صوبائی حکومت اور کنٹونمنٹ کے درمیان، انتظامی نااہلی اور ذمہ داری سے بچنے کے رجحان کو جنم دیتا ہے۔ سیاسی مفادات کی جنگیں نہ صرف طویل المدتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ سرمایہ کاری کو بھی مایوس کن حد تک روک دیتی ہیں۔</p>
<p>اگرچہ 2010 کی دہائی کے بعد سے حالات میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، لیکن کراچی اب بھی اسٹریٹ کرائم، بعض علاقوں میں گینگ وار، اور پولیس کی ناقص کارکردگی جیسے سنگین مسائل سے نبردآزما ہے۔ امن و امان کی خراب صورتِ حال نہ صرف شہریوں کی زندگی کے معیار کو متاثر کرتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتی ہے۔</p>
<p>شدید فضائی اور آبی آلودگی، ساحلی کٹاؤ، صنعتی فضلے کا بے لگام اخراج اور سبز مقامات کا تیزی سے خاتمہ، کراچی کو ماحولیاتی لحاظ سے ملک کے سب سے زیادہ دباؤ کا شکار شہروں میں شامل کر چکا ہے۔ اسپتالوں پر حد سے زیادہ بوجھ، بنیادی صحت کی سہولتوں کی کمی اور تباہ حال تعلیمی ڈھانچہ رہائش کے معیار کو مزید گرا رہا ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ صرف فنڈز کی عدم دستیابی کا نہیں، بلکہ زیادہ تر معاملہ کارکردگی دکھانے کی نیت کے فقدان اور مختص کردہ فنڈز کے شفاف استعمال سے متعلق ہے۔</p>
<p>یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر نیت ہو تو کام ممکن ہیں، اس کی ایک اچھی مثال کراچی کا ماس ٹرانزٹ سسٹم ہے، جسے لاہور کے نظام کے مساوی بنانے کی کوشش کی گئی۔ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے جاپان کی جانب سے سافٹ لون کی پیشکش کی گئی، جبکہ چائنا-پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) کے تحت کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبے کے لیے چینی سرمایہ کاری بھی فراہم کی گئی۔</p>
<p>ایسے وقت میں، جب کراچی گزشتہ کئی برسوں سے گرین لائن ماس ٹرانزٹ سسٹم کو فعال اور سرکلر ریلوے کو بحال  کرنے کے لیے کوشاں ہے، لاہور اپنے شہریوں کو طویل عرصے سے ایک جدید اور معیاری ماس ٹرانزٹ نظام یعنی اورنج لائن، کی سہولت فراہم کر رہا ہے، جو چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) کے تحت دیہی لاہور کو شہری علاقوں سے جوڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، بین الاضلاعی ماس ٹرانزٹ بس سسٹم بھی حکومتِ پنجاب کے تعاون سے شہریوں کو مہیا کیا گیا ہے۔ لاہور نے اپنے باسیوں کو کم از کم ایک باوقار سفری ذریعہ ضرور فراہم کیا ہے۔</p>
<p>فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی کے شہریوں کو بھی ماس ٹرانزٹ کی سہولتیں میسر ہیں۔ لیکن شہری سہولیات کے دیگر شعبوں میں کراچی، ملک کے دیگر بڑے شہروں سے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔</p>
<p>کراچی کو ایک قابلِ رہائش شہر بنانے کے لیے کئی قابلِ عمل حل موجود ہیں — مثلاً ایک متحدہ شہری حکومت، معیاری ماس ٹرانزٹ نظام اور جدید شہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سبز اور لچک دار شہری منصوبہ بندی، پارکوں اور ساحلی علاقوں کی بحالی، مؤثر اور اسمارٹ پولیسنگ، اور کمیونٹی کی سلامتی کا جامع نظام۔</p>
<p>پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر خدمات کی بہتری کے لیے عوام و نجی شعبے کی شراکت داری (پی پی پیز) کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی کو ہیٹ ویوز، سیلاب اور سمندر کی سطح بلند ہونے جیسے ماحولیاتی خطرات سے بچانے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام اور مضبوط ساحلی دفاعی نظام بھی ضروری ہے۔ یہ تمام اقدامات ایک شہری حکومت سے بنیادی توقعات میں شامل ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی ناقابلِ عمل نہیں۔</p>
<p>کراچی کی سول سوسائٹی ایک پُرعزم اور متحرک سوسائٹی ہے اور اس نے صوبائی اور مقامی حکومتوں کو متعدد قابلِ عمل منصوبے فراہم کیے ہیں۔ یہاں سننے والوں کی کمی نہیں، مگرعملدرآمد  کرنے والوں کا فقدان ہے۔ شہر کے کئی خیراتی ادارے اور نجی شعبہ تعلیم اور صحت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر کے شہریوں کو ریلیف فراہم کر چکے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ عوامی و نجی شراکت داری (پی پی پیز) کے تحت شہر کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی اپنے کردار کو وسعت دیں۔</p>
<p>دو کروڑ سے زائد آبادی اور اس کی معاشی اہمیت کے پیش نظر کراچی کی بحالی نہ صرف ایک مقامی ترجیح ہے بلکہ ایک قومی ضرورت بھی ہے تاکہ اس لاکھوں نفوس کی آبادی والے شہر کو بچایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273905</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Jun 2025 17:09:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/211609528fa6108.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/211609528fa6108.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
