<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اور اسرائیل کے درمیان نئے حملوں کا تبادلہ، تہران کا جوہری مذاکرات سے انکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273899/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور اسرائیل کے درمیان ہفتے کی صبح ایک بار پھر تازہ حملوں کا تبادلہ ہوا، تہران نے واضح کردیا کہ جب تک اسرائیلی حملے نہیں رکتے جوہری مذاکرات پر بات نہیں کریں گے۔ دوسری جانب یورپی ممالک نے امن کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے اصفہان کے جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا جو ملک کے بڑے  جوہری مراکز میں سے ایک ہے تاہم کسی خطرناک مواد کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے قم شہر میں ایک عمارت پر بھی حملہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ایک 16 سالہ نوجوان شہید اور دو افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ اس نے ایران کے میزائل ذخیروں اور دیگر مقامات پر حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے ایران کی طرف سے میزائل حملوں کے بارے میں خبردار کیا جس کے بعد تل ابیب اور جنوبی اسرائیل سمیت مغربی کنارے میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تل ابیب کے آسمان پر میزائل روکے جانے کے مناظر دیکھے گئے جب کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کے جواب میں پورے میٹروپولیٹن علاقے میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس ماگن ڈیوڈ آدوم کے مطابق جنوبی اسرائیل میں بھی سائرن بجائے گئے۔ ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے پانچ بیلسٹک میزائل فائر کیے تاہم فوری طور پر کسی میزائل کے نشانے پر لگنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل میں ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمرجنسی سروس نے ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کی چھت پر آگ کی تصاویر جاری کیں جو وسطی اسرائیل میں واقع ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ آگ ایک روکے گئے میزائل کے ملبے کے باعث لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے جوہری پروگرام پر تنازعات شدت اختیار کرگئے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر اس الزام کے تحت حملے شروع کیے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے۔ ایران نے، جو اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے، ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہونے کا عام تاثر ہے، تاہم وہ نہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی بنیاد پر قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک ایران میں 639 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں فوجی قیادت کے اعلیٰ عہدیدار اور جوہری سائنسدان بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے میزائل حملوں میں اسرائیل میں 24 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز ان ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ اُن کے خیال میں ایران چند ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ چند مہینوں میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرسکتا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یہ ہونے نہیں دے سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان کی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس، تُلسی گیبرڈ، غلط ہیں جنہوں نے یہ رائے دی تھی کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے کوئی شواہد موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے بارہا تل ابیب کو نشانہ بنایا ہے جو تقریباً 40 لاکھ آبادی پر مشتمل ایک بڑا میٹروپولیٹن علاقہ ہے اور اسرائیل کا معاشی و کاروباری مرکز بھی ہے، جہاں کچھ اہم عسکری اثاثے بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اُس نے درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں میزائل بنانے کی تنصیبات، تہران میں وہ تحقیقی ادارہ شامل ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ہے اور مغربی و وسطی ایران میں قائم فوجی مراکز پر بھی حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی، امریکا سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم وہ جمعہ کو جنیوا پہنچے، جہاں یورپی وزرائے خارجہ سے ملاقات متوقع ہے — یورپ کی کوشش ہے کہ سفارتکاری کی راہ دوبارہ کھولی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور اسرائیل کے درمیان ہفتے کی صبح ایک بار پھر تازہ حملوں کا تبادلہ ہوا، تہران نے واضح کردیا کہ جب تک اسرائیلی حملے نہیں رکتے جوہری مذاکرات پر بات نہیں کریں گے۔ دوسری جانب یورپی ممالک نے امن کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔</strong></p>
<p>ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے اصفہان کے جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا جو ملک کے بڑے  جوہری مراکز میں سے ایک ہے تاہم کسی خطرناک مواد کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے قم شہر میں ایک عمارت پر بھی حملہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ایک 16 سالہ نوجوان شہید اور دو افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ اس نے ایران کے میزائل ذخیروں اور دیگر مقامات پر حملے کیے ہیں۔</p>
<p>جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے ایران کی طرف سے میزائل حملوں کے بارے میں خبردار کیا جس کے بعد تل ابیب اور جنوبی اسرائیل سمیت مغربی کنارے میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔</p>
<p>تل ابیب کے آسمان پر میزائل روکے جانے کے مناظر دیکھے گئے جب کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کے جواب میں پورے میٹروپولیٹن علاقے میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔</p>
<p>اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس ماگن ڈیوڈ آدوم کے مطابق جنوبی اسرائیل میں بھی سائرن بجائے گئے۔ ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے پانچ بیلسٹک میزائل فائر کیے تاہم فوری طور پر کسی میزائل کے نشانے پر لگنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>اسرائیل میں ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔</p>
<p>ایمرجنسی سروس نے ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کی چھت پر آگ کی تصاویر جاری کیں جو وسطی اسرائیل میں واقع ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ آگ ایک روکے گئے میزائل کے ملبے کے باعث لگی۔</p>
<p><strong>ایران کے جوہری پروگرام پر تنازعات شدت اختیار کرگئے</strong></p>
<p>اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر اس الزام کے تحت حملے شروع کیے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے۔ ایران نے، جو اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے، ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔</p>
<p>اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہونے کا عام تاثر ہے، تاہم وہ نہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور نہ ہی تردید۔</p>
<p>امریکی بنیاد پر قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک ایران میں 639 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں فوجی قیادت کے اعلیٰ عہدیدار اور جوہری سائنسدان بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے میزائل حملوں میں اسرائیل میں 24 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
<p>رائٹرز ان ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ اُن کے خیال میں ایران چند ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ چند مہینوں میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرسکتا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یہ ہونے نہیں دے سکتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان کی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس، تُلسی گیبرڈ، غلط ہیں جنہوں نے یہ رائے دی تھی کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے کوئی شواہد موجود نہیں۔</p>
<p>ایران نے بارہا تل ابیب کو نشانہ بنایا ہے جو تقریباً 40 لاکھ آبادی پر مشتمل ایک بڑا میٹروپولیٹن علاقہ ہے اور اسرائیل کا معاشی و کاروباری مرکز بھی ہے، جہاں کچھ اہم عسکری اثاثے بھی موجود ہیں۔</p>
<p>اسرائیل نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اُس نے درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں میزائل بنانے کی تنصیبات، تہران میں وہ تحقیقی ادارہ شامل ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ہے اور مغربی و وسطی ایران میں قائم فوجی مراکز پر بھی حملے کیے گئے۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی، امریکا سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاہم وہ جمعہ کو جنیوا پہنچے، جہاں یورپی وزرائے خارجہ سے ملاقات متوقع ہے — یورپ کی کوشش ہے کہ سفارتکاری کی راہ دوبارہ کھولی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273899</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Jun 2025 13:37:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/21133154617f5e5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/21133154617f5e5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
