<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر کو گرفتاری کے مجوزہ اختیارات دینے پر اوورسیز انویسٹرز چیمبر کا اظہار تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273894/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے مالی سال 2025-26 کے فنانس بل میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)  کو دی جانے والی گرفتاری کے مجوزہ اختیارات پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اس اقدام نے خاص طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں میں سرمایہ کاری کے اعتماد کو نمایاں طور پر نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی نے  وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو لکھے گئے خط میں مالی سال 2025-26 کے فنانس بل میں سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کے سیکشن 37 اے اے سے متعلق مجوزہ ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن کا مقصد ان لینڈ ریونیو افسران کو  بغیر مناسب جانچ پڑتال اور توازن کے گرفتاری اور قانونی کارروائی کے وسیع اختیارات دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبر نے ان لینڈ ریونیو افسران کو گرفتاری اور قانونی کارروائی کے وسیع اختیارات دینے کی سخت مذمت کی ہے جس میں مناسب چیک اینڈ بیلنس کا فقدان ہے، ان کا ماننا ہے کہ اس سے کاروباری اداروں کے استحصال اور ہراسانی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف ایگزیکٹو اور سیکرٹری جنرل او آئی سی سی آئی عبدالعلیم نے خط میں کہا کہ مقامی کاروباری قیادت نے بھی اس مجوزہ اقدام پر سخت منفی ردعمل ظاہر کیا ہے، تاہم اس اقدام نے ہماری 200 سے زائد ممبران کی قیادت کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے جو 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے من مانی اقدامات، جن پر کلیدی فریقین سے مکمل مشاورت یا کاروباری ماحول پر ممکنہ اثرات کی مناسب غور و فکر کیے بغیر عمل درآمد کیا جائے، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کو کاروبار دوست مقام کے طور پر منفی تاثر دینے میں اضافہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبرنے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور پارلیمنٹ کے سینئر ارکان کی بروقت مداخلت کو سراہا ہے جس کی بدولت ایسے وسیع اور ممکنہ طور پر تباہ کن تجاویز بغیر سخت نگرانی اور مناسب احتیاط کے نافذ نہیں ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر اس شق کو صرف غیر معمولی حالات کے لیے برقرار رکھنے پر غور کیا جائے تو او آئی سی سی آئی ان مخصوص حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کا منتظر ہے جو غلط استعمال کو روکنے کیلئے تجویز کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبر کے مطابق کم از کم یہ لازم ہونا چاہیے کہ کسی بھی ایسے غیر معمولی معاملے میں جہاں مبینہ ملزم کی گرفتاری ہو، ایف بی آر کے چیئرمین سے واضح پیشگی منظوری حاصل کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر نے مزید زور دیا کہ انہیں مکمل اعتماد ہے کہ حکومت کی قیادت اور متعلقہ حکام بشمول ایف بی آر اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایسے غیر ضروری اور حد سے زیادہ اقدامات پاکستان کی اس حیثیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کہ یہ ملک غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کے لیے خوش آمدید اور قابل اعتماد مقام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی نے اپنے تحفظات ایف بی آر کے چیئرمین رشید محمود لنگڑیال کو بھی پہنچائے ہیں اور مجوزہ شق پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے مالی سال 2025-26 کے فنانس بل میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)  کو دی جانے والی گرفتاری کے مجوزہ اختیارات پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اس اقدام نے خاص طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں میں سرمایہ کاری کے اعتماد کو نمایاں طور پر نقصان پہنچایا ہے۔</strong></p>
<p>او آئی سی سی آئی نے  وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو لکھے گئے خط میں مالی سال 2025-26 کے فنانس بل میں سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کے سیکشن 37 اے اے سے متعلق مجوزہ ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن کا مقصد ان لینڈ ریونیو افسران کو  بغیر مناسب جانچ پڑتال اور توازن کے گرفتاری اور قانونی کارروائی کے وسیع اختیارات دینا ہے۔</p>
<p>چیمبر نے ان لینڈ ریونیو افسران کو گرفتاری اور قانونی کارروائی کے وسیع اختیارات دینے کی سخت مذمت کی ہے جس میں مناسب چیک اینڈ بیلنس کا فقدان ہے، ان کا ماننا ہے کہ اس سے کاروباری اداروں کے استحصال اور ہراسانی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔</p>
<p>چیف ایگزیکٹو اور سیکرٹری جنرل او آئی سی سی آئی عبدالعلیم نے خط میں کہا کہ مقامی کاروباری قیادت نے بھی اس مجوزہ اقدام پر سخت منفی ردعمل ظاہر کیا ہے، تاہم اس اقدام نے ہماری 200 سے زائد ممبران کی قیادت کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے جو 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسے من مانی اقدامات، جن پر کلیدی فریقین سے مکمل مشاورت یا کاروباری ماحول پر ممکنہ اثرات کی مناسب غور و فکر کیے بغیر عمل درآمد کیا جائے، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کو کاروبار دوست مقام کے طور پر منفی تاثر دینے میں اضافہ کرتے ہیں۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبرنے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور پارلیمنٹ کے سینئر ارکان کی بروقت مداخلت کو سراہا ہے جس کی بدولت ایسے وسیع اور ممکنہ طور پر تباہ کن تجاویز بغیر سخت نگرانی اور مناسب احتیاط کے نافذ نہیں ہوسکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر اس شق کو صرف غیر معمولی حالات کے لیے برقرار رکھنے پر غور کیا جائے تو او آئی سی سی آئی ان مخصوص حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کا منتظر ہے جو غلط استعمال کو روکنے کیلئے تجویز کیے گئے ہیں۔</p>
<p>چیمبر کے مطابق کم از کم یہ لازم ہونا چاہیے کہ کسی بھی ایسے غیر معمولی معاملے میں جہاں مبینہ ملزم کی گرفتاری ہو، ایف بی آر کے چیئرمین سے واضح پیشگی منظوری حاصل کی جائے۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر نے مزید زور دیا کہ انہیں مکمل اعتماد ہے کہ حکومت کی قیادت اور متعلقہ حکام بشمول ایف بی آر اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایسے غیر ضروری اور حد سے زیادہ اقدامات پاکستان کی اس حیثیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کہ یہ ملک غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کے لیے خوش آمدید اور قابل اعتماد مقام ہے۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی نے اپنے تحفظات ایف بی آر کے چیئرمین رشید محمود لنگڑیال کو بھی پہنچائے ہیں اور مجوزہ شق پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273894</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Jun 2025 11:21:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/211118464fee5b0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="575" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/211118464fee5b0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
