<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر مذاکرات میں مشکلات درپیش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273892/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان  (ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان اس تنظیم میں مکمل ڈائیلاگ پارٹنر کے بجائے صرف سیکٹورل پارٹنر کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی مکمل شراکت داری کی راہ میں سنگاپور کی مخالفت بھی ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یہ بات وزارتِ تجارت کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو 1993 میں آسیان کی جانب سے سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنر (ایس ڈی پی ) کا درجہ دیا گیا ہے جس سے باقاعدہ تعاون کا آغاز ہوا۔ آسیان اور پاکستان کے درمیان سیکٹورل ڈائیلاگ تعلقات قائم کرنے کا پہلا باضابطہ اجلاس 1997 میں اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ابتدائی طور پر تجارت، صنعت، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تعلق مزید مضبوط اور باقاعدہ شکل اُس وقت اختیار کر گیا جب 1999 میں آسیان-پاکستان جوائنٹ سیکٹورل کوآپریشن کمیٹی (اے پی جے ایس سی سی ) قائم کی گئی جس کے اب تک 7 اجلاس ہو چکے ہیں، جب کہ آخری اجلاس ستمبر 2023 میں جکارتہ میں منعقد ہوا۔ 2010 میں ہونے والے چوتھے اجلاس کے دوران پاکستان نے آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے لیے باضابطہ طور پر مذاکرات کی تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال آسیان نے 6 ممالک — چین، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت — کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں اور یہ تمام ممالک آسیان کے مکمل ڈائیلاگ پارٹنر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 فروری 2025 کو جکارتہ میں آسیان ہیڈکوارٹر سیکریٹریٹ میں منعقد ہونے والے آسیان-پاکستان جوائنٹ سیکٹورل کوآپریشن کمیٹی کے آٹھویں اجلاس میں دونوں فریقین نے اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط اور گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں آسیان-پاکستان سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنرشپ کے تحت پریکٹیکل کوآپریشن ایریاز (PCA) 2024-2028“ کے پہلے سال کے دوران ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقین نے تجارت و سرمایہ کاری، کاروباری روابط، سائنس، ٹیکنالوجی و جدت، اطلاعات و ذرائع ابلاغ، اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے شعبوں میں نمایاں تعاون کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسیان اور پاکستان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی تعاون کے بے پناہ مواقع اب بھی موجود ہیں اور اس شراکت داری کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے قریبی اشتراکِ عمل کی ضرورت کو تسلیم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسیان نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ آئندہ آنے والے ”آسیان کمیونٹی وژن 2045“ اور اس کے تزویراتی منصوبوں کی حمایت کرے، اور “آسیان آؤٹ لک آن دی انڈو پیسیفک  میں شناخت کیے گئے چار کلیدی شعبوں میں آسیان کے ساتھ عملی تعاون میں فعال کردار ادا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسیان نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ”آسیان کنیکٹیوٹی ماسٹر پلان 2025“  اور ”آسیان انٹیگریشن اقدام“  کے ورک پلان چہارم کے نفاذ کی حمایت کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھتے ہوئے، فریقین نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع تلاش کیے، جو ”پی سی اے 2024-2028“ کی رہنمائی میں شامل ہیں، جن میں سرحد پار جرائم کا خاتمہ، امن و مفاہمت، تجارت و سرمایہ کاری، ڈیجیٹل معیشت اور سائبر سیکیورٹی، کاروباری روابط اور نیٹ ورکنگ، خوراک کا تحفظ، حلال صنعت، توانائی کا تحفظ، سیاحت، قابل تجدید توانائی، دائرہ جاتی اور سبز معیشت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، آفات سے نمٹنے کا انتظام، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، انسانی وسائل کی ترقی، میڈیا، صحت، اور عوامی سطح پر رابطے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس چیلنج پر قابو پانے اور آسیان میں اپنی رسائی کو مزید گہرا کرنے کے لیے، پاکستان نے ایک تزویراتی تبدیلی اختیار کی ہے جس کا مقصد آسیان خطے کے انفرادی رکن ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد اقتصادی اور سیاسی روابط کو فروغ دینا ہے جو بالآخر پاکستان کو فُل ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور ایک جامع آسیان-پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے امکانات کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور ملائیشیا نے 2007 میں ”ملائیشیا-پاکستان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ“  پر دستخط کیے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ قائم ہوا۔ یہ معاہدہ پاکستان کا پہلا جامع شراکت داری معاہدہ ہے، جو اشیاء، خدمات اور سرمایہ کاری کا احاطہ کرتا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک اس موجودہ ایف ٹی اے کا جائزہ لینے اور اس میں ترمیم کے عمل میں مصروف ہیں تاکہ باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور انڈونیشیا نے 2012 میں دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدہ (پی ٹی اے) پر دستخط کیے۔ دونوں ممالک نے 2005 میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کی روشنی میں اس PTA کو مزید وسعت دینے پر غور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور تھائی لینڈ نے 2015 میں آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا۔ دونوں فریقین کے درمیان 9 دور کے مذاکرات ہوئے جس کے بعد یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ حال ہی میں پاکستان نے ترجیحی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کی تجویز دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے حال ہی میں سنگاپور میں ایک تجارتی مشن قائم کیا ہے تاکہ دوطرفہ اقتصادی روابط کو مضبوط بنایا جا سکے اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ پاکستان نے سنگاپور کے ساتھ مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کے قیام کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مسودہ بھی شیئر کیا ہے۔ تاہم، سنگاپور کا مؤقف ہے کہ دونوں ممالک کو سب سے پہلے کاروباری اداروں کے درمیان روابط اور تبادلے (بی ٹو بی) کو بڑھانا چاہیے۔ پاکستان کے تجارتی مشن کا قیام ان روابط کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے گزشتہ سال منیلا میں اپنا تجارتی مشن قائم کیا تاکہ فلپائن کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں پہلی بار فلپائن کے وفود نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے نمایاں ایونٹس میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور ویتنام نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت 10 اور 11 جولائی 2025 کو ہونے والے پانچویں مشترکہ تجارتی کمیٹی  اجلاس کے دوران ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط کے امکان کو تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور کمبوڈیا نے اپنا پہلا ادارہ جاتی نظام، یعنی مشترکہ تجارتی کمیٹی  قائم کر لیا ہے جس کا افتتاحی اجلاس جنوری 2025 میں کامرس منسٹر کے دورہ پنوم پن کے دوران منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کو مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان  (ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان اس تنظیم میں مکمل ڈائیلاگ پارٹنر کے بجائے صرف سیکٹورل پارٹنر کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی مکمل شراکت داری کی راہ میں سنگاپور کی مخالفت بھی ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یہ بات وزارتِ تجارت کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔</strong></p>
<p>پاکستان کو 1993 میں آسیان کی جانب سے سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنر (ایس ڈی پی ) کا درجہ دیا گیا ہے جس سے باقاعدہ تعاون کا آغاز ہوا۔ آسیان اور پاکستان کے درمیان سیکٹورل ڈائیلاگ تعلقات قائم کرنے کا پہلا باضابطہ اجلاس 1997 میں اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ابتدائی طور پر تجارت، صنعت، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔</p>
<p>یہ تعلق مزید مضبوط اور باقاعدہ شکل اُس وقت اختیار کر گیا جب 1999 میں آسیان-پاکستان جوائنٹ سیکٹورل کوآپریشن کمیٹی (اے پی جے ایس سی سی ) قائم کی گئی جس کے اب تک 7 اجلاس ہو چکے ہیں، جب کہ آخری اجلاس ستمبر 2023 میں جکارتہ میں منعقد ہوا۔ 2010 میں ہونے والے چوتھے اجلاس کے دوران پاکستان نے آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے لیے باضابطہ طور پر مذاکرات کی تجویز پیش کی۔</p>
<p>فی الحال آسیان نے 6 ممالک — چین، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت — کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں اور یہ تمام ممالک آسیان کے مکمل ڈائیلاگ پارٹنر ہیں۔</p>
<p>6 فروری 2025 کو جکارتہ میں آسیان ہیڈکوارٹر سیکریٹریٹ میں منعقد ہونے والے آسیان-پاکستان جوائنٹ سیکٹورل کوآپریشن کمیٹی کے آٹھویں اجلاس میں دونوں فریقین نے اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط اور گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>اجلاس میں آسیان-پاکستان سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنرشپ کے تحت پریکٹیکل کوآپریشن ایریاز (PCA) 2024-2028“ کے پہلے سال کے دوران ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقین نے تجارت و سرمایہ کاری، کاروباری روابط، سائنس، ٹیکنالوجی و جدت، اطلاعات و ذرائع ابلاغ، اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے شعبوں میں نمایاں تعاون کو سراہا۔</p>
<p>آسیان اور پاکستان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی تعاون کے بے پناہ مواقع اب بھی موجود ہیں اور اس شراکت داری کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے قریبی اشتراکِ عمل کی ضرورت کو تسلیم کیا۔</p>
<p>آسیان نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ آئندہ آنے والے ”آسیان کمیونٹی وژن 2045“ اور اس کے تزویراتی منصوبوں کی حمایت کرے، اور “آسیان آؤٹ لک آن دی انڈو پیسیفک  میں شناخت کیے گئے چار کلیدی شعبوں میں آسیان کے ساتھ عملی تعاون میں فعال کردار ادا کرے۔</p>
<p>آسیان نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ”آسیان کنیکٹیوٹی ماسٹر پلان 2025“  اور ”آسیان انٹیگریشن اقدام“  کے ورک پلان چہارم کے نفاذ کی حمایت کرے۔</p>
<p>آگے بڑھتے ہوئے، فریقین نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع تلاش کیے، جو ”پی سی اے 2024-2028“ کی رہنمائی میں شامل ہیں، جن میں سرحد پار جرائم کا خاتمہ، امن و مفاہمت، تجارت و سرمایہ کاری، ڈیجیٹل معیشت اور سائبر سیکیورٹی، کاروباری روابط اور نیٹ ورکنگ، خوراک کا تحفظ، حلال صنعت، توانائی کا تحفظ، سیاحت، قابل تجدید توانائی، دائرہ جاتی اور سبز معیشت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، آفات سے نمٹنے کا انتظام، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، انسانی وسائل کی ترقی، میڈیا، صحت، اور عوامی سطح پر رابطے شامل ہیں۔</p>
<p>اس چیلنج پر قابو پانے اور آسیان میں اپنی رسائی کو مزید گہرا کرنے کے لیے، پاکستان نے ایک تزویراتی تبدیلی اختیار کی ہے جس کا مقصد آسیان خطے کے انفرادی رکن ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد اقتصادی اور سیاسی روابط کو فروغ دینا ہے جو بالآخر پاکستان کو فُل ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور ایک جامع آسیان-پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے امکانات کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اور ملائیشیا نے 2007 میں ”ملائیشیا-پاکستان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ“  پر دستخط کیے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ قائم ہوا۔ یہ معاہدہ پاکستان کا پہلا جامع شراکت داری معاہدہ ہے، جو اشیاء، خدمات اور سرمایہ کاری کا احاطہ کرتا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک اس موجودہ ایف ٹی اے کا جائزہ لینے اور اس میں ترمیم کے عمل میں مصروف ہیں تاکہ باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>پاکستان اور انڈونیشیا نے 2012 میں دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدہ (پی ٹی اے) پر دستخط کیے۔ دونوں ممالک نے 2005 میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کی روشنی میں اس PTA کو مزید وسعت دینے پر غور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور تھائی لینڈ نے 2015 میں آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا۔ دونوں فریقین کے درمیان 9 دور کے مذاکرات ہوئے جس کے بعد یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ حال ہی میں پاکستان نے ترجیحی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کی تجویز دی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے حال ہی میں سنگاپور میں ایک تجارتی مشن قائم کیا ہے تاکہ دوطرفہ اقتصادی روابط کو مضبوط بنایا جا سکے اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ پاکستان نے سنگاپور کے ساتھ مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کے قیام کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مسودہ بھی شیئر کیا ہے۔ تاہم، سنگاپور کا مؤقف ہے کہ دونوں ممالک کو سب سے پہلے کاروباری اداروں کے درمیان روابط اور تبادلے (بی ٹو بی) کو بڑھانا چاہیے۔ پاکستان کے تجارتی مشن کا قیام ان روابط کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p>پاکستان نے گزشتہ سال منیلا میں اپنا تجارتی مشن قائم کیا تاکہ فلپائن کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں پہلی بار فلپائن کے وفود نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے نمایاں ایونٹس میں شرکت کی۔</p>
<p>پاکستان اور ویتنام نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت 10 اور 11 جولائی 2025 کو ہونے والے پانچویں مشترکہ تجارتی کمیٹی  اجلاس کے دوران ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط کے امکان کو تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔</p>
<p>پاکستان اور کمبوڈیا نے اپنا پہلا ادارہ جاتی نظام، یعنی مشترکہ تجارتی کمیٹی  قائم کر لیا ہے جس کا افتتاحی اجلاس جنوری 2025 میں کامرس منسٹر کے دورہ پنوم پن کے دوران منعقد ہوا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273892</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Jun 2025 10:42:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/21102636431d019.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="277" width="400">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/21102636431d019.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
