<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ ایران سے متعلق حتمی فیصلہ 2 ہفتوں میں کرینگے، وائٹ ہاؤس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273875/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا امریکہ اسرائیل-ایران تنازع میں شامل ہوگا یا نہیں جس سے تہران پر مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے صدر ٹرمپ کا پیغام دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ اس بنیاد پر کہ آئندہ مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات موجود ہیں—چاہے وہ ہوں یا نہ ہوں—میں آئندہ دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کروں گا کہ جنگ میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن صدر نے اپنی حکمتِ عملی کے حوالے سے دنیا کو تذبذب میں ڈال رکھا ہے—کبھی وہ فوری سفارتی حل کی بات کرتے ہیں، تو کبھی یہ اشارہ دیتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے جنگ میں شامل ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی نہیں جانتا وہ آگے کیا کرنے والے ہیں۔ اس سے ایک دن پہلے انہوں نے سوشل میڈیا پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے امکان پر غور کیا اور پھر ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی دھمکیوں سے ان کے حمایتی حلقوں میں اختلاف پیدا ہوگیا ہے، جہاں ایک طرف زیادہ جارحانہ روایتی ریپبلکنز ہیں اور دوسری طرف پارٹی کے زیادہ تنہائی پسند عناصر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ دفتر واپس آنے کے بعد پانچ ماہ کے دوران، ٹرمپ نے مختلف مواقع پر مہلتیں دی ہیں — جن میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ سے متعلق اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی محصولات کے مذاکرات شامل ہیں — لیکن بعد میں یا تو ان مہلتوں کو معطل کر دیا یا انہیں التوا میں ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ میرے خیال میں ایران کے ساتھ جنگ کرنا ایک بہت ہی برا خیال ہے، لیکن کوئی بھی اس ’دو ہفتے‘ والے دعوے پر یقین نہیں کرتا۔“ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اسے پہلے بھی لاکھوں بار استعمال کیا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ وہ کچھ کر رہے ہیں جب کہ وہ حقیقت میں کچھ نہیں کر رہے۔ یہ صرف امریکہ کو کمزور اور مضحکہ خیز بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیرولین لیویٹ  نے وائٹ ہاؤس میں ایک معمول کی بریفنگ میں بتایا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ان کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاہدے میں تہران کی یورینیم کی افزودگی کو ممنوع قرار دینا ہوگا اور ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ضروری ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیویٹ نے کہا کہ صدر ہمیشہ سفارتی حل میں دلچسپی رکھتے ہیں… اگر سفارت کاری کا موقع ہو تو صدر اسے ہمیشہ قبول کریں گے، لیکن وہ طاقت کے استعمال سے بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا امریکہ اسرائیل-ایران تنازع میں شامل ہوگا یا نہیں جس سے تہران پر مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔</strong></p>
<p>وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے صدر ٹرمپ کا پیغام دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ اس بنیاد پر کہ آئندہ مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات موجود ہیں—چاہے وہ ہوں یا نہ ہوں—میں آئندہ دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کروں گا کہ جنگ میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔</p>
<p>ریپبلکن صدر نے اپنی حکمتِ عملی کے حوالے سے دنیا کو تذبذب میں ڈال رکھا ہے—کبھی وہ فوری سفارتی حل کی بات کرتے ہیں، تو کبھی یہ اشارہ دیتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے جنگ میں شامل ہوسکتا ہے۔</p>
<p>بدھ کو صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی نہیں جانتا وہ آگے کیا کرنے والے ہیں۔ اس سے ایک دن پہلے انہوں نے سوشل میڈیا پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے امکان پر غور کیا اور پھر ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>ٹرمپ کی دھمکیوں سے ان کے حمایتی حلقوں میں اختلاف پیدا ہوگیا ہے، جہاں ایک طرف زیادہ جارحانہ روایتی ریپبلکنز ہیں اور دوسری طرف پارٹی کے زیادہ تنہائی پسند عناصر موجود ہیں۔</p>
<p>تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ دفتر واپس آنے کے بعد پانچ ماہ کے دوران، ٹرمپ نے مختلف مواقع پر مہلتیں دی ہیں — جن میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ سے متعلق اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی محصولات کے مذاکرات شامل ہیں — لیکن بعد میں یا تو ان مہلتوں کو معطل کر دیا یا انہیں التوا میں ڈال دیا ہے۔</p>
<p>ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ میرے خیال میں ایران کے ساتھ جنگ کرنا ایک بہت ہی برا خیال ہے، لیکن کوئی بھی اس ’دو ہفتے‘ والے دعوے پر یقین نہیں کرتا۔“ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اسے پہلے بھی لاکھوں بار استعمال کیا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ وہ کچھ کر رہے ہیں جب کہ وہ حقیقت میں کچھ نہیں کر رہے۔ یہ صرف امریکہ کو کمزور اور مضحکہ خیز بناتا ہے۔</p>
<p>کیرولین لیویٹ  نے وائٹ ہاؤس میں ایک معمول کی بریفنگ میں بتایا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ان کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاہدے میں تہران کی یورینیم کی افزودگی کو ممنوع قرار دینا ہوگا اور ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ضروری ہوگا۔</p>
<p>لیویٹ نے کہا کہ صدر ہمیشہ سفارتی حل میں دلچسپی رکھتے ہیں… اگر سفارت کاری کا موقع ہو تو صدر اسے ہمیشہ قبول کریں گے، لیکن وہ طاقت کے استعمال سے بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273875</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Jun 2025 15:50:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/RVkT-0RAsPE/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/RVkT-0RAsPE/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=RVkT-0RAsPE"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
