<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینکوں کو عام کمپنیوں کی طرح ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، چیئرمین ایف بی آر کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273857/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو سفارش کی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے ”سیونتھ شیڈول“ (بینکنگ شیڈول) کو ختم کر کے بینکوں کو دیگر کمپنیوں کی طرح عام ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایف بی آر نے بینکوں کو خصوصی ٹیکس مراعات دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
بینکنگ شیڈول کو انکم ٹیکس قانون سے خارج کر دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راشد محمود نے سوال اٹھایا کہ
جب تمام کمپنیاں ایک ہی طرز پر ٹیکس ادا کرتی ہیں تو بینکوں سے الگ ٹیکس سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی مخصوص شعبہ حکومت پر ٹیکس قوانین مسلط نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ یہ شیڈول 2007 میں انکم ٹیکس آرڈیننس میں شامل کیا گیا تھا، جسے اب ختم کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ بینک بھی کاروباری ادارے ہیں، اس لیے ان پر مختلف ٹیکس قوانین لاگو کرنا غیر منطقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ
بینکوں کو خصوصی ٹیکس ریجیم کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ جمعرات کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں فنانس بل 26-2025 پر بحث کے دوران سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) حامد عتیق سرور کو خاص طور پر مدعو کیا گیا تاکہ وہ فنانس بل میں بینکنگ سے متعلق ترامیم کی وضاحت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ایس ای سی پی کے چیئرمین سے بینکوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال کیا، تو عاکف سعید نے بتایا کہ بینک دیگر کمپنیوں کی طرح ہی رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر ممبر نے بینکنگ شیڈول سے متعلق تمام قانونی و تکنیکی ترامیم کی تفصیل سے وضاحت کی، جس کے بعد کمیٹی نے ان ترامیم کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے فنانس بل میں موجود تضادات دور کرنے کے لیے ایف بی آر کی جانب سے بنائی گئی ”اینوملی کمیٹیوں“ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے تحفظات کے باوجود یہ کمیٹیاں قانونی خامیاں دور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس پر ایف بی آر چیئرمین نے وضاحت دی کہ اس سال حکومت آئی ایم ایف پروگرام کی پابند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے حکومت کی جانب سے ٹیکس چھوٹ کی پالیسی ترک کیے جانے کے پیش نظر ”اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیڈ) ایکٹ“ کے خاتمے کی بھی سفارش کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ٹیکس مراعات کے خاتمے کے بعد فعال اور غیر فعال ایس ای زیڈز کا مستقبل کیا ہو گا؟ اگر نئے ایس ای زیڈز کے لیے کوئی چھوٹ نہیں دی جا رہی تو یہ قانون غیر مؤثر ہو چکا ہے، اس لیے اسے منسوخ کر دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے متعدد آڈٹس سے متعلق بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔  انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ
اسلام آباد کا ایک اسکول مسلسل تین سال سے ایف بی آر کے آڈٹ کا سامنا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تین سال کی آڈٹ حد سے متعلق ایف بی آر کی تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف وضاحت طلب معاملات میں بار بار آڈٹ کی روایت ختم ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اجلاس ٹیکس نظام میں اصلاحات اور شفافیت کے لیے کئی اہم سفارشات کا حامل رہا، جن پر اگلے مرحلے میں مزید غور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو سفارش کی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے ”سیونتھ شیڈول“ (بینکنگ شیڈول) کو ختم کر کے بینکوں کو دیگر کمپنیوں کی طرح عام ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے۔</strong></p>
<p>چیئرمین ایف بی آر نے بینکوں کو خصوصی ٹیکس مراعات دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
بینکنگ شیڈول کو انکم ٹیکس قانون سے خارج کر دینا چاہیے۔</p>
<p>راشد محمود نے سوال اٹھایا کہ
جب تمام کمپنیاں ایک ہی طرز پر ٹیکس ادا کرتی ہیں تو بینکوں سے الگ ٹیکس سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی مخصوص شعبہ حکومت پر ٹیکس قوانین مسلط نہیں کر سکتا۔</p>
<p>یاد رہے کہ یہ شیڈول 2007 میں انکم ٹیکس آرڈیننس میں شامل کیا گیا تھا، جسے اب ختم کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ بینک بھی کاروباری ادارے ہیں، اس لیے ان پر مختلف ٹیکس قوانین لاگو کرنا غیر منطقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ
بینکوں کو خصوصی ٹیکس ریجیم کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے۔</p>
<p>یہ معاملہ جمعرات کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں فنانس بل 26-2025 پر بحث کے دوران سامنے آیا۔</p>
<p>اجلاس میں ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) حامد عتیق سرور کو خاص طور پر مدعو کیا گیا تاکہ وہ فنانس بل میں بینکنگ سے متعلق ترامیم کی وضاحت کر سکیں۔</p>
<p>جب سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ایس ای سی پی کے چیئرمین سے بینکوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال کیا، تو عاکف سعید نے بتایا کہ بینک دیگر کمپنیوں کی طرح ہی رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر ممبر نے بینکنگ شیڈول سے متعلق تمام قانونی و تکنیکی ترامیم کی تفصیل سے وضاحت کی، جس کے بعد کمیٹی نے ان ترامیم کی منظوری دے دی۔</p>
<p>اس دوران سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے فنانس بل میں موجود تضادات دور کرنے کے لیے ایف بی آر کی جانب سے بنائی گئی ”اینوملی کمیٹیوں“ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے تحفظات کے باوجود یہ کمیٹیاں قانونی خامیاں دور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس پر ایف بی آر چیئرمین نے وضاحت دی کہ اس سال حکومت آئی ایم ایف پروگرام کی پابند ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے حکومت کی جانب سے ٹیکس چھوٹ کی پالیسی ترک کیے جانے کے پیش نظر ”اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیڈ) ایکٹ“ کے خاتمے کی بھی سفارش کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ٹیکس مراعات کے خاتمے کے بعد فعال اور غیر فعال ایس ای زیڈز کا مستقبل کیا ہو گا؟ اگر نئے ایس ای زیڈز کے لیے کوئی چھوٹ نہیں دی جا رہی تو یہ قانون غیر مؤثر ہو چکا ہے، اس لیے اسے منسوخ کر دینا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے متعدد آڈٹس سے متعلق بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔  انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ
اسلام آباد کا ایک اسکول مسلسل تین سال سے ایف بی آر کے آڈٹ کا سامنا کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے تین سال کی آڈٹ حد سے متعلق ایف بی آر کی تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف وضاحت طلب معاملات میں بار بار آڈٹ کی روایت ختم ہونی چاہیے۔</p>
<p>یہ اجلاس ٹیکس نظام میں اصلاحات اور شفافیت کے لیے کئی اہم سفارشات کا حامل رہا، جن پر اگلے مرحلے میں مزید غور کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273857</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Jun 2025 09:23:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/200922248db0255.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/200922248db0255.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
