<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کی ملاقات، تجارت اور کرپٹو پر تبادلہ خیال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273855/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں  امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ سے ایک اہم اور طویل ملاقات کی، جو کابینہ روم میں ظہرانے سے شروع ہوئی اور اوول آفس میں دو گھنٹوں سے زائد جاری رہی۔ ملاقات میں خطے کی حالیہ صورتحال، باہمی تعاون اور عالمی سیکیورٹی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، صدر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وزیر خارجہ سینیٹر مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کے تعمیری کردار پر پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے گہری قدردانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی قیادت، دوراندیشی اور عالمی سطح پر پیچیدہ مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے پاکستان کی علاقائی امن و استحکام کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے انسداد دہشتگردی میں جاری تعاون کی تعریف کی۔ دونوں فریقوں نے دہشتگردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی، جن میں تجارت، اقتصادی ترقی، معدنیات، توانائی، مصنوعی ذہانت، کرپٹو کرنسی اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ طویل مدتی اسٹریٹجک مفاہمت اور باہمی مفاد پر مبنی تجارتی شراکت داری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر بھی دونوں رہنماؤں نے کھل کر بات چیت کی اور مسئلے کے پرامن حل پر زور دیا۔ پاکستانی فوج کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی خودمختاری پر اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، پاکستان کو خدشہ ہے کہ ایران میں عدم استحکام کی صورت میں پاک-ایران سرحد پر موجود علیحدگی پسند اور جہادی گروہ صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان کے علاقے میں سرگرم بلوچ عسکریت پسند، جن کی موجودگی سرحد کے دونوں جانب پائی جاتی ہے، کسی بھی خلا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام کو تشویش ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک خطرناک نظیر بھی قائم کرتا ہے، جس سے جنوبی ایشیا میں جوہری طاقتوں کے درمیان عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعرات کو اپنی بریفنگ میں کہا کہ ’’یہ حملے خطے کی سلامتی کے ڈھانچے کے لیے شدید خطرہ ہیں اور پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔‘‘ انہوں نے ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حملے کی شدید مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران-پاکستان سرحدی علاقے، جہاں بلوچ برادری دونوں جانب آباد ہے، پہلے ہی شورش کا شکار ہیں۔ پاکستان کے بلوچستان اور ایران کے سیستان-بلوچستان صوبے میں علیحدگی پسند سرگرمیاں جاری ہیں، جنہیں ایران مختلف اوقات میں پاکستان، خلیجی ریاستوں، امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی کا الزام دیتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو یہ بھی خدشہ ہے کہ مختلف بلوچ گروہ ایک ”گریٹر بلوچستان“ کے تصور کے گرد متحد ہو کر دونوں ملکوں کے خلاف عسکری سرگرمیوں میں شدت لا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر ایران میں بدامنی بڑھی تو ان گروہوں کے یکجا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، چین نے بھی بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ گوادر پورٹ سمیت کئی اہم منصوبے بیجنگ کی سرمایہ کاری سے منسلک ہیں، اور چینی شہری ان گروہوں کے حملوں کا ہدف بنتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، جسے دونوں اطراف کی رضامندی سے کسی موزوں وقت پر طے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلیٰ سطح ملاقات نہ صرف پاک-امریکہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں باہمی اعتماد اور حکمتِ عملی کے فروغ کی غماز بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں  امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ سے ایک اہم اور طویل ملاقات کی، جو کابینہ روم میں ظہرانے سے شروع ہوئی اور اوول آفس میں دو گھنٹوں سے زائد جاری رہی۔ ملاقات میں خطے کی حالیہ صورتحال، باہمی تعاون اور عالمی سیکیورٹی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، صدر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وزیر خارجہ سینیٹر مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی شریک تھے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کے تعمیری کردار پر پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے گہری قدردانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی قیادت، دوراندیشی اور عالمی سطح پر پیچیدہ مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت کو سراہا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے پاکستان کی علاقائی امن و استحکام کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے انسداد دہشتگردی میں جاری تعاون کی تعریف کی۔ دونوں فریقوں نے دہشتگردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>ملاقات میں باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی، جن میں تجارت، اقتصادی ترقی، معدنیات، توانائی، مصنوعی ذہانت، کرپٹو کرنسی اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ طویل مدتی اسٹریٹجک مفاہمت اور باہمی مفاد پر مبنی تجارتی شراکت داری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔</p>
<p>ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر بھی دونوں رہنماؤں نے کھل کر بات چیت کی اور مسئلے کے پرامن حل پر زور دیا۔ پاکستانی فوج کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی خودمختاری پر اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔</p>
<p>عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، پاکستان کو خدشہ ہے کہ ایران میں عدم استحکام کی صورت میں پاک-ایران سرحد پر موجود علیحدگی پسند اور جہادی گروہ صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان کے علاقے میں سرگرم بلوچ عسکریت پسند، جن کی موجودگی سرحد کے دونوں جانب پائی جاتی ہے، کسی بھی خلا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی حکام کو تشویش ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک خطرناک نظیر بھی قائم کرتا ہے، جس سے جنوبی ایشیا میں جوہری طاقتوں کے درمیان عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جمعرات کو اپنی بریفنگ میں کہا کہ ’’یہ حملے خطے کی سلامتی کے ڈھانچے کے لیے شدید خطرہ ہیں اور پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔‘‘ انہوں نے ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حملے کی شدید مذمت کی۔</p>
<p>ایران-پاکستان سرحدی علاقے، جہاں بلوچ برادری دونوں جانب آباد ہے، پہلے ہی شورش کا شکار ہیں۔ پاکستان کے بلوچستان اور ایران کے سیستان-بلوچستان صوبے میں علیحدگی پسند سرگرمیاں جاری ہیں، جنہیں ایران مختلف اوقات میں پاکستان، خلیجی ریاستوں، امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی کا الزام دیتا رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو یہ بھی خدشہ ہے کہ مختلف بلوچ گروہ ایک ”گریٹر بلوچستان“ کے تصور کے گرد متحد ہو کر دونوں ملکوں کے خلاف عسکری سرگرمیوں میں شدت لا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر ایران میں بدامنی بڑھی تو ان گروہوں کے یکجا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، چین نے بھی بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ گوادر پورٹ سمیت کئی اہم منصوبے بیجنگ کی سرمایہ کاری سے منسلک ہیں، اور چینی شہری ان گروہوں کے حملوں کا ہدف بنتے رہے ہیں۔</p>
<p>ملاقات کے اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، جسے دونوں اطراف کی رضامندی سے کسی موزوں وقت پر طے کیا جائے گا۔</p>
<p>یہ اعلیٰ سطح ملاقات نہ صرف پاک-امریکہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں باہمی اعتماد اور حکمتِ عملی کے فروغ کی غماز بھی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273855</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Jun 2025 09:07:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/2009061479da82b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/2009061479da82b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
