<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:47:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:47:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوہالہ پاور پراجیکٹ: سپورٹ لیٹر کی مدت میں توسیع پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری ہے،کے ایچ سی ایل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273853/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ(کے ایچ سی ایل) نے 2.5 ارب ڈالر مالیت کے 1124 میگاواٹ بجلی کے کوہالہ ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے سپورٹ لیٹر (ایل او ایس) میں 30 ستمبر 2027 تک توسیع کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ توسیع پاکستان کے آبی حقوق، خاص طور پر معاہدہ سندھ طاس کے تحت دریائے جہلم کے پانی کے موجودہ استعمال کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے سی ای او لیو یونگ گینگ نے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر کو لکھے گئے خط میں اس بات پر زور دیا کہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے مابین عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا معاہدہ سندھ طاس پاکستان کو مغربی دریاؤں — دریائے سندھ، جہلم اور چناب — کے پانی کے استعمال کا واضح حق دیتا ہے۔ معاہدے کی شق III (1) اور (2) پاکستان کو خاص طور پر دریائے جہلم کے پانی سے پن بجلی پیدا کرنے کا حق فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدہ طے کرتا ہے کہ اگر بھارت دریائے جہلم کے معاون دریاؤں پر کوئی اسٹوریج منصوبہ بنائے جہاں پاکستان زرعی یا پن بجلی کی غرض سے پانی استعمال کر رہا ہو، تو وہ منصوبہ پاکستان کے موجودہ استعمال کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا ذکر شق III (4) اور ضمیمہ D میں واضح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ کے مطابق، کوہالہ منصوبے کی بروقت ترقی پاکستان کے لیے نہ صرف اس پانی کے استعمال کے حق کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے بھارت کی جانب سے ممکنہ بالائی مداخلتوں کی راہ بھی روکی جا سکتی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اگر سپورٹ لیٹر اور واٹر یوز ایگریمنٹ کو جاری نہ رکھا گیا تو پاکستان کا دریائے جہلم کے پانی پر ’’موجودہ استعمال‘‘ کا مؤثر قانونی دعویٰ کمزور پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ کے سی ای او نے اس معاملے میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے ’’کشن گنگا ڈیم تنازع‘‘ کا حوالہ بھی دیا، جس میں عدالت نے بھارت کے حق میں فیصلہ دیا تھا کیونکہ پاکستان کا نیلم-جہلم منصوبہ اُس وقت مکمل یا فعال نہیں تھا، اس لیے اسے ’’موجودہ استعمال‘‘ تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس عدالتی نظیر کی روشنی میں کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوہالہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا تو پاکستان کا قانونی مؤقف دوبارہ کمزور ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی رواجی قانون، جیسے کہ 1997 کا اقوام متحدہ کا کنونشن برائے بین الاقوامی دریاؤں کے نان نیویگیشنل استعمالات، بھی ”موجودہ اور منصوبہ بند استعمالات“ کو پانی کے منصفانہ استعمال کے اصول کے تحت تحفظ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ نے اس منصوبے کی جیوپولیٹیکل اور اقتصادی اہمیت پر بھی زور دیا، کیونکہ یہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ ہے اور اسے ایک چینی ریاستی ادارہ تعمیر کر رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق، چین کی شراکت داری بھارت کی کسی ممکنہ غیرقانونی مداخلت کے خلاف ایک مؤثر رکاوٹ بن سکتی ہے، خاص طور پر جب بھارت نے حالیہ برسوں میں سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور مغربی و مشرقی دریاؤں کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی آئی بی بورڈ نے اپنی 144ویں میٹنگ (منعقدہ 18 ستمبر 2024) میں ایل او ایس کی 30 ستمبر 2027 تک توسیع کی منظوری دی تھی، اور کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ نے تمام شرائط، بشمول 5.62 ملین ڈالر کی پرفارمنس گارنٹی، بروقت پوری کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب کمپنی نے فوری طور پر اس توسیع کی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ منصوبے کی رفتار قائم رکھی جا سکے اور پاکستان کا دریائے جہلم پر پن بجلی کا ’’موجودہ استعمال‘‘ باضابطہ طور پر تسلیم ہو سکے — جو سندھ طاس معاہدے کے تحت قانونی تحفظ حاصل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے، جیسا کہ نیلم-جہلم کیس میں ناکامی سے سبق ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ نے زور دیا کہ قانونی، اسٹرٹیجک اور اقتصادی عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت کو فوری طور پر توسیعی نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کے آبی حقوق اور قومی مفادات کو محفوظ بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ(کے ایچ سی ایل) نے 2.5 ارب ڈالر مالیت کے 1124 میگاواٹ بجلی کے کوہالہ ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے سپورٹ لیٹر (ایل او ایس) میں 30 ستمبر 2027 تک توسیع کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ توسیع پاکستان کے آبی حقوق، خاص طور پر معاہدہ سندھ طاس کے تحت دریائے جہلم کے پانی کے موجودہ استعمال کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے سی ای او لیو یونگ گینگ نے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر کو لکھے گئے خط میں اس بات پر زور دیا کہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے مابین عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا معاہدہ سندھ طاس پاکستان کو مغربی دریاؤں — دریائے سندھ، جہلم اور چناب — کے پانی کے استعمال کا واضح حق دیتا ہے۔ معاہدے کی شق III (1) اور (2) پاکستان کو خاص طور پر دریائے جہلم کے پانی سے پن بجلی پیدا کرنے کا حق فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>معاہدہ طے کرتا ہے کہ اگر بھارت دریائے جہلم کے معاون دریاؤں پر کوئی اسٹوریج منصوبہ بنائے جہاں پاکستان زرعی یا پن بجلی کی غرض سے پانی استعمال کر رہا ہو، تو وہ منصوبہ پاکستان کے موجودہ استعمال کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا ذکر شق III (4) اور ضمیمہ D میں واضح ہے۔</p>
<p>کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ کے مطابق، کوہالہ منصوبے کی بروقت ترقی پاکستان کے لیے نہ صرف اس پانی کے استعمال کے حق کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے بھارت کی جانب سے ممکنہ بالائی مداخلتوں کی راہ بھی روکی جا سکتی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اگر سپورٹ لیٹر اور واٹر یوز ایگریمنٹ کو جاری نہ رکھا گیا تو پاکستان کا دریائے جہلم کے پانی پر ’’موجودہ استعمال‘‘ کا مؤثر قانونی دعویٰ کمزور پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ کے سی ای او نے اس معاملے میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے ’’کشن گنگا ڈیم تنازع‘‘ کا حوالہ بھی دیا، جس میں عدالت نے بھارت کے حق میں فیصلہ دیا تھا کیونکہ پاکستان کا نیلم-جہلم منصوبہ اُس وقت مکمل یا فعال نہیں تھا، اس لیے اسے ’’موجودہ استعمال‘‘ تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس عدالتی نظیر کی روشنی میں کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوہالہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا تو پاکستان کا قانونی مؤقف دوبارہ کمزور ہو سکتا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی رواجی قانون، جیسے کہ 1997 کا اقوام متحدہ کا کنونشن برائے بین الاقوامی دریاؤں کے نان نیویگیشنل استعمالات، بھی ”موجودہ اور منصوبہ بند استعمالات“ کو پانی کے منصفانہ استعمال کے اصول کے تحت تحفظ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ نے اس منصوبے کی جیوپولیٹیکل اور اقتصادی اہمیت پر بھی زور دیا، کیونکہ یہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ ہے اور اسے ایک چینی ریاستی ادارہ تعمیر کر رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق، چین کی شراکت داری بھارت کی کسی ممکنہ غیرقانونی مداخلت کے خلاف ایک مؤثر رکاوٹ بن سکتی ہے، خاص طور پر جب بھارت نے حالیہ برسوں میں سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور مغربی و مشرقی دریاؤں کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں کی ہیں۔</p>
<p>پی پی آئی بی بورڈ نے اپنی 144ویں میٹنگ (منعقدہ 18 ستمبر 2024) میں ایل او ایس کی 30 ستمبر 2027 تک توسیع کی منظوری دی تھی، اور کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ نے تمام شرائط، بشمول 5.62 ملین ڈالر کی پرفارمنس گارنٹی، بروقت پوری کر دی ہیں۔</p>
<p>اب کمپنی نے فوری طور پر اس توسیع کی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ منصوبے کی رفتار قائم رکھی جا سکے اور پاکستان کا دریائے جہلم پر پن بجلی کا ’’موجودہ استعمال‘‘ باضابطہ طور پر تسلیم ہو سکے — جو سندھ طاس معاہدے کے تحت قانونی تحفظ حاصل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے، جیسا کہ نیلم-جہلم کیس میں ناکامی سے سبق ملتا ہے۔</p>
<p>کوہالہ ہائیڈرو کمپنی لمیٹڈ نے زور دیا کہ قانونی، اسٹرٹیجک اور اقتصادی عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت کو فوری طور پر توسیعی نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کے آبی حقوق اور قومی مفادات کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273853</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Jun 2025 08:39:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/200838007436b90.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/200838007436b90.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
