<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:26:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:26:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سینیٹ کمیٹی نے کاربن لیوی مسترد کر دی، حکومت کا 45 ارب روپے آمدن کا تخمینہ خطرے میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273851/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو نے فنانس بل 26-2025 میں شامل پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 2.50 روپے کی مجوزہ کاربن لیوی کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا، جس سے حکومت کو 45 ارب روپے کی آمدن کی توقع تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لیوی موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ’’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنانسنگ (آر ایس ایف)‘‘ کی شرائط کا حصہ ہے، جس کے مطابق حکومت پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل پر آئندہ دو برسوں میں مرحلہ وار 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی نافذ کرے گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ 27-2026 میں اس لیوی سے متوقع آمدن 90 ارب روپے ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت اجلاس میں کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ کاربن لیوی کو مالیاتی بل کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے علیحدہ قانون سازی درکار ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے کسی جامع منصوبے کے بغیر ہی یہ لیوی تجویز کی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر شیری رحمٰن نے لیوی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کاربن لیوی اور کاربن ٹیکس میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں کاربن لیوی نہیں لگائی جاتی بلکہ کاربن ٹیکس مخصوص صنعتی شعبوں پر مخصوص مقاصد کے تحت لاگو ہوتا ہے۔ یہاں ہر قسم کی لیوی براہ راست عوام پر لگائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ظفر اقبال جھگڑا کیس میں کاربن لیوی نافذ کرنے سے روکا تھا، لہٰذا اس لیوی کا نفاذ عدالتِ عظمیٰ کی حکم عدولی تصور ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث کے بعد کمیٹی نے مجوزہ کاربن لیوی کو مسترد کر دیا۔ ایف بی آر کے چیئرمین نے بتایا کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء کمیٹی نے بجلی کے شعبے میں واجبات کی ادائیگی اور سرکلر ڈیٹ ختم کرنے سے متعلق پاور ایکٹ 1997 میں مجوزہ ترامیم پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق نیپرا کی طے شدہ ریونیو ضروریات پر 10 فیصد ڈیبٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) لاگو ہے، جسے ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مالی سالانہ خسارے کی صورت میں اسے بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا حکام نے وضاحت کی کہ اس وقت صارفین سے فی یونٹ 3.23 روپے ڈیبٹ سروس سرچارج وصول کیا جا رہا ہے اور اس حد کو ختم کرنے سے سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے لیے مطلوبہ ری فنانسنگ حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے صارفین پر بجلی کے نرخ مزید بڑھ جائیں گے اور حکومت کو بلینکٹ اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر شیری رحمٰن نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سینیٹر شبلی فراز نے سوال اٹھایا کہ اگر لیوی سے حاصل رقم سڑکوں پر خرچ کی جائے گی تو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کیا کیا جائے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کی بعض شقوں پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے، جو خود مختار اداروں کو اضافی آمدن رکھنے اور منافع پبلک اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی اجازت دیتی ہیں۔ کمیٹی نے ان شقوں کو مالی بے ضابطگیوں کا باعث قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی سفارش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو خیبرپختونخوا اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں کاروباری مراعات پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ سینما آپریٹرز کو دی گئی ٹیکس چھوٹ 2030 تک محدود کر دی گئی ہے، جبکہ سابقہ فاٹا کے کاروباری اداروں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنا 2026 تک توسیع دے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر چیئرمین نے بتایا کہ ڈیجیٹل پریزنس پروسیڈز ایکٹ’’ متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت پاکستان میں سروس فراہم کرنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، جن کی ملک میں فزیکل موجودگی نہیں، ان پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (ایس ٹی زیڈز) کے لیے ٹیکس چھوٹ کی مدت 2027 تک محدود کرنے پر آئی ایم ایف زور دے رہا تھا، تاہم حکومت نے اسے 2035 تک بڑھوا لیا ہے۔ کمیٹی نے اس تجویز کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے 70 سال سے کم عمر افراد کی 10 ملین روپے سے زائد پنشن آمدن پر ٹیکس کی تجویز کی بھی توثیق کی۔ مزید برآں، ’’فپواسا‘‘  کی جانب سے تعلیمی ماہرین کو دی جانے والی 25 فیصد ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کی سفارش بھی منظور کی گئی۔ تنظیم کے نمائندوں نے دلیل دی کہ یہ رعایت نوجوان اساتذہ کو راغب کرنے اور برین ڈرین روکنے کے لیے نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر پاکستان کی تحقیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو نے فنانس بل 26-2025 میں شامل پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 2.50 روپے کی مجوزہ کاربن لیوی کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا، جس سے حکومت کو 45 ارب روپے کی آمدن کی توقع تھی۔</strong></p>
<p>یہ لیوی موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ’’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنانسنگ (آر ایس ایف)‘‘ کی شرائط کا حصہ ہے، جس کے مطابق حکومت پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل پر آئندہ دو برسوں میں مرحلہ وار 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی نافذ کرے گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ 27-2026 میں اس لیوی سے متوقع آمدن 90 ارب روپے ہو گی۔</p>
<p>سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت اجلاس میں کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ کاربن لیوی کو مالیاتی بل کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے علیحدہ قانون سازی درکار ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے کسی جامع منصوبے کے بغیر ہی یہ لیوی تجویز کی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔</p>
<p>سینیٹر شیری رحمٰن نے لیوی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کاربن لیوی اور کاربن ٹیکس میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں کاربن لیوی نہیں لگائی جاتی بلکہ کاربن ٹیکس مخصوص صنعتی شعبوں پر مخصوص مقاصد کے تحت لاگو ہوتا ہے۔ یہاں ہر قسم کی لیوی براہ راست عوام پر لگائی جا رہی ہے۔</p>
<p>سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ظفر اقبال جھگڑا کیس میں کاربن لیوی نافذ کرنے سے روکا تھا، لہٰذا اس لیوی کا نفاذ عدالتِ عظمیٰ کی حکم عدولی تصور ہو گا۔</p>
<p>بحث کے بعد کمیٹی نے مجوزہ کاربن لیوی کو مسترد کر دیا۔ ایف بی آر کے چیئرمین نے بتایا کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا۔</p>
<p>دریں اثناء کمیٹی نے بجلی کے شعبے میں واجبات کی ادائیگی اور سرکلر ڈیٹ ختم کرنے سے متعلق پاور ایکٹ 1997 میں مجوزہ ترامیم پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق نیپرا کی طے شدہ ریونیو ضروریات پر 10 فیصد ڈیبٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) لاگو ہے، جسے ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مالی سالانہ خسارے کی صورت میں اسے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p>نیپرا حکام نے وضاحت کی کہ اس وقت صارفین سے فی یونٹ 3.23 روپے ڈیبٹ سروس سرچارج وصول کیا جا رہا ہے اور اس حد کو ختم کرنے سے سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کے لیے مطلوبہ ری فنانسنگ حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے صارفین پر بجلی کے نرخ مزید بڑھ جائیں گے اور حکومت کو بلینکٹ اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔</p>
<p>سینیٹر شیری رحمٰن نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سینیٹر شبلی فراز نے سوال اٹھایا کہ اگر لیوی سے حاصل رقم سڑکوں پر خرچ کی جائے گی تو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کیا کیا جائے گا؟</p>
<p>اجلاس میں پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کی بعض شقوں پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے، جو خود مختار اداروں کو اضافی آمدن رکھنے اور منافع پبلک اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی اجازت دیتی ہیں۔ کمیٹی نے ان شقوں کو مالی بے ضابطگیوں کا باعث قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی سفارش کی۔</p>
<p>کمیٹی کو خیبرپختونخوا اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں کاروباری مراعات پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ سینما آپریٹرز کو دی گئی ٹیکس چھوٹ 2030 تک محدود کر دی گئی ہے، جبکہ سابقہ فاٹا کے کاروباری اداروں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنا 2026 تک توسیع دے دی گئی ہے۔</p>
<p>ایف بی آر چیئرمین نے بتایا کہ ڈیجیٹل پریزنس پروسیڈز ایکٹ’’ متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت پاکستان میں سروس فراہم کرنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، جن کی ملک میں فزیکل موجودگی نہیں، ان پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (ایس ٹی زیڈز) کے لیے ٹیکس چھوٹ کی مدت 2027 تک محدود کرنے پر آئی ایم ایف زور دے رہا تھا، تاہم حکومت نے اسے 2035 تک بڑھوا لیا ہے۔ کمیٹی نے اس تجویز کی منظوری دے دی۔</p>
<p>کمیٹی نے 70 سال سے کم عمر افراد کی 10 ملین روپے سے زائد پنشن آمدن پر ٹیکس کی تجویز کی بھی توثیق کی۔ مزید برآں، ’’فپواسا‘‘  کی جانب سے تعلیمی ماہرین کو دی جانے والی 25 فیصد ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کی سفارش بھی منظور کی گئی۔ تنظیم کے نمائندوں نے دلیل دی کہ یہ رعایت نوجوان اساتذہ کو راغب کرنے اور برین ڈرین روکنے کے لیے نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر پاکستان کی تحقیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273851</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Jun 2025 08:15:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/20081527460f9cf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/20081527460f9cf.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
