<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 12:43:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 12:43:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران،اسرائیل تنازع میں امریکی مداخلت کے امکانات ، خام تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273829/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں امریکہ کی ممکنہ مداخلت سے متعلق غیر واضح اشاروں کے بعد سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 37 سینٹ یا 0.48 فیصد کی کمی سے  76.33 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ گزشتہ سیشن میں جس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، قیمتوں میں 2.7 فیصد تک کمی کے باوجود 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی جولائی کیلئے قیمت 28 سینٹ یا 0.37 فیصد کی کمی سے 74.86 ڈالر فی بیرل پر آ گئی حالانکہ گزشتہ سیشن میں قیمتیں 2.4 فیصد تک گرنے کے باوجود 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی کا معاہدہ جمعہ کو ختم ہو رہا ہے جبکہ زیادہ فعال اگست کے معاہدے کی قیمت 21 سینٹ یا 0.29 فیصد کمی کے ساتھ 73.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائمور نے آئی جی کے لیے اپنے ایک نوٹ میں لکھا کہ قیمت میں اب بھی ایک خاصی حد تک رسک پریمیم شامل ہے، کیونکہ تاجر اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا اسرائیل-ایران تنازع کا اگلا مرحلہ امریکی حملہ ہوگا یا مذاکرات کی طرف پیش رفت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائمور کے مطابق اگر جنگ چھڑتی ہے تو قیمتوں میں 5 ڈالر تک اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ اگر امن مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو قیمتوں میں تقریباً اسی حد تک کمی بھی ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں یا نہیں بھی کر سکتے کہ امریکہ اسرائیل کے ایران پر میزائل حملوں میں شامل ہو۔ یہ تنازع جمعرات کو اپنے ساتویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ براہِ راست اس تنازع میں شامل ہوتا ہے تو یہ کشیدگی کو مزید بڑھا دے گا جس سے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اوپیک کا تیسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جو روزانہ تقریباً 33 لاکھ بیرل خام تیل نکالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے اہم آبی راستے سے روزانہ تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل اور تیل سے بنی مصنوعات گزرتی ہیں اور اس حوالے سے شدید خدشہ پایا جاتا ہے کہ لڑائی کے باعث وہاں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو شرح سود کو برقرار رکھا تاہم سال کے اختتام تک دو بار شرح سود میں کمی کا عندیہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین جیروم پاول نے تاہم خبردار کیا کہ شرح سود میں کمی اعداد و شمار پر منحصرہوگی اور کہ صدر ٹرمپ کی منصوبہ بندی کردہ درآمدی ٹیکسز کی وجہ سے صارفین کی مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم شرح سود معیشت کو فروغ دے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی طلب بڑھے گی، لیکن اس سے مہنگائی میں بھی شدت آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں امریکہ کی ممکنہ مداخلت سے متعلق غیر واضح اشاروں کے بعد سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 37 سینٹ یا 0.48 فیصد کی کمی سے  76.33 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ گزشتہ سیشن میں جس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، قیمتوں میں 2.7 فیصد تک کمی کے باوجود 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی جولائی کیلئے قیمت 28 سینٹ یا 0.37 فیصد کی کمی سے 74.86 ڈالر فی بیرل پر آ گئی حالانکہ گزشتہ سیشن میں قیمتیں 2.4 فیصد تک گرنے کے باوجود 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں۔</p>
<p>جولائی کا معاہدہ جمعہ کو ختم ہو رہا ہے جبکہ زیادہ فعال اگست کے معاہدے کی قیمت 21 سینٹ یا 0.29 فیصد کمی کے ساتھ 73.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائمور نے آئی جی کے لیے اپنے ایک نوٹ میں لکھا کہ قیمت میں اب بھی ایک خاصی حد تک رسک پریمیم شامل ہے، کیونکہ تاجر اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا اسرائیل-ایران تنازع کا اگلا مرحلہ امریکی حملہ ہوگا یا مذاکرات کی طرف پیش رفت۔</p>
<p>سائمور کے مطابق اگر جنگ چھڑتی ہے تو قیمتوں میں 5 ڈالر تک اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ اگر امن مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو قیمتوں میں تقریباً اسی حد تک کمی بھی ممکن ہے۔</p>
<p>بدھ کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں یا نہیں بھی کر سکتے کہ امریکہ اسرائیل کے ایران پر میزائل حملوں میں شامل ہو۔ یہ تنازع جمعرات کو اپنے ساتویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ براہِ راست اس تنازع میں شامل ہوتا ہے تو یہ کشیدگی کو مزید بڑھا دے گا جس سے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔</p>
<p>ایران اوپیک کا تیسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جو روزانہ تقریباً 33 لاکھ بیرل خام تیل نکالتا ہے۔</p>
<p>تاہم اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے اہم آبی راستے سے روزانہ تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل اور تیل سے بنی مصنوعات گزرتی ہیں اور اس حوالے سے شدید خدشہ پایا جاتا ہے کہ لڑائی کے باعث وہاں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو شرح سود کو برقرار رکھا تاہم سال کے اختتام تک دو بار شرح سود میں کمی کا عندیہ دیا ہے۔</p>
<p>چیئرمین جیروم پاول نے تاہم خبردار کیا کہ شرح سود میں کمی اعداد و شمار پر منحصرہوگی اور کہ صدر ٹرمپ کی منصوبہ بندی کردہ درآمدی ٹیکسز کی وجہ سے صارفین کی مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>کم شرح سود معیشت کو فروغ دے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی طلب بڑھے گی، لیکن اس سے مہنگائی میں بھی شدت آسکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273829</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Jun 2025 11:22:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/19111835e853e43.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/19111835e853e43.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
