<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کا ویٹ ڈریم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273825/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی جمہوریت کے پائیدار تضادات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک بزنس مین صدر — جو جلد ہی اپنی ریئل اسٹیٹ ایمپائر اور ملین ڈالر کی کتابی ڈیلز کی طرف واپس جانے والا ہے — دنیا کو کسی دوسرے ملک کے مفاد میں جھکا سکتا ہے۔
اور صرف اپنے ہی عوام کی خواہشات کے خلاف نہیں، بلکہ اس وعدے کے ساتھ کھلی غداری کرتے ہوئے جو اُس نے ان سے کیا تھا — ”اب مزید جنگیں نہیں ہوں گی“۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ سب کچھ صرف اس لیے ممکن ہو سکا کیونکہ وہ دوسرا ملک (اسرائیل) مالی طاقت کے اس ہنر میں مہارت حاصل کر چکا ہے جو دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سب سے طاقتور لوگوں کو اقتدار میں بھی رکھتا ہے اور ان کی اطاعت بھی یقینی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اب ”بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے“  کا الٹی میٹم جاری کر دیا ہے — ایک ایسی کوشش جس کا مقصد وہ خواب حقیقت بنانا ہے جسے اسرائیلی صحافی گیڈین لیوی نے واضح اور درست طور پر ”نیتن یاہو کا گندہ خواب“ (ویٹ ڈریم) قرار دیا تھا۔
یہ اصطلاح اگرچہ فحش ہے، لیکن اس وقت کے حالات کو بیان کرنے کے لیے بالکل موزوں ہے۔ یہ حقیقت کو ننگا کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کوئی افسوسناک آخری حل نہیں — بلکہ یہ ایک دیرینہ خواہش ہے جو تل ابیب میں برسوں سے پروان چڑھ رہی تھی اور جسے واشنگٹن میں پُرجوش انداز میں فنڈ کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اب یہ خواب حقیقت بن رہا ہے — تمام اُس ہولناک تھیٹر کے ساتھ جو ایسی صورتِ حال کے ساتھ آتا ہے۔
اسرائیل تہران پر فضائی حملے کرتا ہے۔
ایران جوابی کارروائی کرتا ہے۔
امریکی بمبار طیارے دوبارہ تعینات کیے جاتے ہیں۔
تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجر گھبرا جاتے ہیں۔
شہری ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں۔
یہ سب کچھ ایک مانوس رقص کی طرح ہے کیونکہ اس کے پیچھے جو جبلّت ہے، وہ بار بار دہرائی گئی ہے — کشیدگی کو پیدا کرو، جوابی ردعمل کو ابھارو، اسے ”وجودی خطرہ“ قرار دو، اور پھر امریکہ کو اس گڑھے میں گھسیٹو۔
اب یہ صرف نیتن یاہو کا خواب نہیں رہا — یہ دونوں جماعتوں (ری پبلکن اور ڈیموکریٹس) کا خواب بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اختلافِ رائے؟
نہ کانگریس میں، نہ میڈیا میں، اور یقیناً نہ ہی ڈونر سرکلز میں بمشکل کوئی اختلاف ہے۔
الٹا، ٹرمپ کی زبان — ایران سے ”بغیر شرط ہتھیار ڈالنے“ کا مطالبہ، اسرائیل کی ”کامیابی“ کی تعریف، ”خونریز نتائج“ کی دھمکیاں — آنے والے مناظر کا لہجہ طے کر چکی ہے۔
اور ان سب کا امریکی مفاد سے کوئی تعلق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہی تو اصل بات ہے نا؟
یہ کبھی بھی امریکی مفاد کے بارے میں تھا ہی نہیں۔
یہ تو ہمیشہ اطاعت کے بارے میں تھا — کہ کس کو فنڈ ملے گا، کون حمایت پائے گا، کون دوبارہ انتخاب لڑ سکے گا اور کون نہیں، اور کس کے راز افشا نہیں ہوں گے۔
جس رفتار سے واشنگٹن نے اسرائیل کی جارحیت پر صف بندی کی — یہاں تک کہ جب تک کسی امریکی جان کو چھوا تک نہیں گیا — وہی سب کچھ بتا دیتی ہے کہ یہ دیمک کیسا اندر تک بیٹھ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیڈین لیوی کی بات اسی لیے کاٹ دار ہے، کیونکہ یہ ”دفاع“ کے بارے میں نہیں، یہ ”تسکین“ کے بارے میں ہے۔
یہ اس پالیسی جنون کے ”عروج“ کی فراہمی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے بڑھ رہا ہے۔
اور ہر ایسے خواب کی طرح، اس کو سچ کرنے کے لیے عقل کو معطل کرنا پڑتا ہے۔
نہ جواز کی ضرورت ہے، نہ اخراجات کی پروا، نہ عالمی ردعمل کی پروا — صرف یہ ضروری ہے کہ نیتن یاہو کو اُس کی جنگ ملے، اور امریکی طاقت اسے ممکن بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوری پالیسی کا ڈھانچہ خود کو سہارا دے رہا ہے — ڈونر نیٹ ورکس، لابنگ کمپنیاں، سیکیورٹی تھنک ٹینکس، کنسلٹنٹس — سب ایک لائن میں، سب فنڈ یافتہ، سب ایک ہی انجام کے لیے پرعزم۔
اب یہ اہم نہیں رہا کہ کون کس عہدے پر ہے — مشین خودکار ہو چکی ہے۔
اور یہ ہمیشہ ایک ہی سمت میں چلتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں اب کوئی یہ سوال نہیں کر رہا کہ یہ سب کیا حاصل کرے گا — صرف یہ پوچھا جا رہا ہے کہ عوامی رائے پر منفی اثر کب شروع ہو گا۔
حساب کتاب اب اسٹرٹیجک نہیں، انتخابی ہے۔
جنگ ایک اسٹیج بن چکی ہے — اور ٹرمپ، ایک شو مین کے طور پر، بخوبی جانتا ہے کہ روشنیوں کو کیسے سنبھالنا ہے۔
اسے اس بات کی پروا نہیں کہ ایرانیوں، اسرائیلیوں، فلسطینیوں، تیل کی مارکیٹ، یا شہری انفراسٹرکچر کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
جب تک ”صحیح لوگ“ تالیاں بجاتے رہیں گے، بم گرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور دنیا اس کی قیمت چکائے گی — خون سے، عدم استحکام سے، سفارتی تباہی سے۔
تہران کے ہزاروں شہری نقل مکانی کر رہے ہیں۔
خلیج میں انشورنس کی شرحیں بڑھ رہی ہیں۔
عالمی سپلائی چینز لرز رہی ہیں۔
لیکن واشنگٹن بہت آگے نکل چکا ہے کہ پیچھے ہٹ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اب ”برِنک مین شپ“  نہیں — یہ ”عیاشی“  بن چکی ہے۔
اور یہی اسے بے حد خطرناک بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا جب ٹرمپ کہتا ہے کہ وہ اسرائیل کی ”مکمل حمایت“ کرے گا، تو وہ استقلال  کا اشارہ نہیں دے رہا — وہ ”اطاعت“  کا پیغام دے رہا ہے — ایسی خارجہ پالیسی کے لیے جو اس کی اپنی بھی نہیں ہے۔
ایسی پالیسی جو اس سے پہلے کی ہے، اس کے بعد بھی رہے گی، اور اب اتنی گہرائی سے امریکی سیاست کے خون میں سرایت کر چکی ہے کہ اسے غیر ملکی کہنا بھی مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب کچھ محض ایران کے بارے میں بھی نہیں۔
نہ بیانات، نہ حملے، نہ الٹی میٹمز۔
ایران تو محض کینوس ہے۔
حقیقی موضوع ہے وہ غیر اعلانیہ اتفاقِ رائے  جو واشنگٹن میں پایا جاتا ہے — کہ کوئی قیمت زیادہ نہیں، کوئی جھوٹ بڑا نہیں، اور کوئی ردعمل شدید نہیں — جب تک وفاداری کی مشینری چلتی رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی سب کچھ اب آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے — پوری خبط میں لپٹی شان و شوکت کے ساتھ۔
اور یہی وجہ ہے کہ لیوی کا وہ فحش استعارہ دل پر جا کر لگتا ہے — کیونکہ اب یہ صرف اسرائیل کے خواب کی بات نہیں رہی، یہ امریکہ کی ملی بھگت کی کہانی ہے — اس خواب کو پالیسی میں بدلنے کی، چاہے اس میں کون جل جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور جب ٹرمپ مزید آگے بڑھنے کی دھمکی دے رہا ہے — اور واشنگٹن میں کوئی اسے روکنے والا نہیں — تو یہ صرف آغاز ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کا ردعمل شدید رہا ہے — محض علامتی جوابی کارروائی سے کہیں آگے — جس نے نہ صرف پورے خطے کو چونکا دیا ہے بلکہ اسرائیل کو بھی۔
تل ابیب اور حیفہ کے کچھ حصے اب ان تصاویر سے مشابہت رکھتے ہیں جو اسرائیل نے خود غزہ پر اپنے حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے تمام تر تھیٹر اور ڈھٹائی کے باوجود، شاید نیتن یاہو نے بھی اپنے خواب سے ابھرنے والے اتنے ہولناک انجام کا تصور نہ کیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی جمہوریت کے پائیدار تضادات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک بزنس مین صدر — جو جلد ہی اپنی ریئل اسٹیٹ ایمپائر اور ملین ڈالر کی کتابی ڈیلز کی طرف واپس جانے والا ہے — دنیا کو کسی دوسرے ملک کے مفاد میں جھکا سکتا ہے۔
اور صرف اپنے ہی عوام کی خواہشات کے خلاف نہیں، بلکہ اس وعدے کے ساتھ کھلی غداری کرتے ہوئے جو اُس نے ان سے کیا تھا — ”اب مزید جنگیں نہیں ہوں گی“۔</strong></p>
<p>اور یہ سب کچھ صرف اس لیے ممکن ہو سکا کیونکہ وہ دوسرا ملک (اسرائیل) مالی طاقت کے اس ہنر میں مہارت حاصل کر چکا ہے جو دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سب سے طاقتور لوگوں کو اقتدار میں بھی رکھتا ہے اور ان کی اطاعت بھی یقینی بناتا ہے۔</p>
<p>تو پھر حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اب ”بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے“  کا الٹی میٹم جاری کر دیا ہے — ایک ایسی کوشش جس کا مقصد وہ خواب حقیقت بنانا ہے جسے اسرائیلی صحافی گیڈین لیوی نے واضح اور درست طور پر ”نیتن یاہو کا گندہ خواب“ (ویٹ ڈریم) قرار دیا تھا۔
یہ اصطلاح اگرچہ فحش ہے، لیکن اس وقت کے حالات کو بیان کرنے کے لیے بالکل موزوں ہے۔ یہ حقیقت کو ننگا کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کوئی افسوسناک آخری حل نہیں — بلکہ یہ ایک دیرینہ خواہش ہے جو تل ابیب میں برسوں سے پروان چڑھ رہی تھی اور جسے واشنگٹن میں پُرجوش انداز میں فنڈ کیا جا رہا تھا۔</p>
<p>اور اب یہ خواب حقیقت بن رہا ہے — تمام اُس ہولناک تھیٹر کے ساتھ جو ایسی صورتِ حال کے ساتھ آتا ہے۔
اسرائیل تہران پر فضائی حملے کرتا ہے۔
ایران جوابی کارروائی کرتا ہے۔
امریکی بمبار طیارے دوبارہ تعینات کیے جاتے ہیں۔
تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔</p>
<p>تاجر گھبرا جاتے ہیں۔
شہری ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں۔
یہ سب کچھ ایک مانوس رقص کی طرح ہے کیونکہ اس کے پیچھے جو جبلّت ہے، وہ بار بار دہرائی گئی ہے — کشیدگی کو پیدا کرو، جوابی ردعمل کو ابھارو، اسے ”وجودی خطرہ“ قرار دو، اور پھر امریکہ کو اس گڑھے میں گھسیٹو۔
اب یہ صرف نیتن یاہو کا خواب نہیں رہا — یہ دونوں جماعتوں (ری پبلکن اور ڈیموکریٹس) کا خواب بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p>اختلافِ رائے؟
نہ کانگریس میں، نہ میڈیا میں، اور یقیناً نہ ہی ڈونر سرکلز میں بمشکل کوئی اختلاف ہے۔
الٹا، ٹرمپ کی زبان — ایران سے ”بغیر شرط ہتھیار ڈالنے“ کا مطالبہ، اسرائیل کی ”کامیابی“ کی تعریف، ”خونریز نتائج“ کی دھمکیاں — آنے والے مناظر کا لہجہ طے کر چکی ہے۔
اور ان سب کا امریکی مفاد سے کوئی تعلق نہیں۔</p>
<p>لیکن یہی تو اصل بات ہے نا؟
یہ کبھی بھی امریکی مفاد کے بارے میں تھا ہی نہیں۔
یہ تو ہمیشہ اطاعت کے بارے میں تھا — کہ کس کو فنڈ ملے گا، کون حمایت پائے گا، کون دوبارہ انتخاب لڑ سکے گا اور کون نہیں، اور کس کے راز افشا نہیں ہوں گے۔
جس رفتار سے واشنگٹن نے اسرائیل کی جارحیت پر صف بندی کی — یہاں تک کہ جب تک کسی امریکی جان کو چھوا تک نہیں گیا — وہی سب کچھ بتا دیتی ہے کہ یہ دیمک کیسا اندر تک بیٹھ چکی ہے۔</p>
<p>گیڈین لیوی کی بات اسی لیے کاٹ دار ہے، کیونکہ یہ ”دفاع“ کے بارے میں نہیں، یہ ”تسکین“ کے بارے میں ہے۔
یہ اس پالیسی جنون کے ”عروج“ کی فراہمی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے بڑھ رہا ہے۔
اور ہر ایسے خواب کی طرح، اس کو سچ کرنے کے لیے عقل کو معطل کرنا پڑتا ہے۔
نہ جواز کی ضرورت ہے، نہ اخراجات کی پروا، نہ عالمی ردعمل کی پروا — صرف یہ ضروری ہے کہ نیتن یاہو کو اُس کی جنگ ملے، اور امریکی طاقت اسے ممکن بنائے۔</p>
<p>اس پوری پالیسی کا ڈھانچہ خود کو سہارا دے رہا ہے — ڈونر نیٹ ورکس، لابنگ کمپنیاں، سیکیورٹی تھنک ٹینکس، کنسلٹنٹس — سب ایک لائن میں، سب فنڈ یافتہ، سب ایک ہی انجام کے لیے پرعزم۔
اب یہ اہم نہیں رہا کہ کون کس عہدے پر ہے — مشین خودکار ہو چکی ہے۔
اور یہ ہمیشہ ایک ہی سمت میں چلتی ہے۔</p>
<p>واشنگٹن میں اب کوئی یہ سوال نہیں کر رہا کہ یہ سب کیا حاصل کرے گا — صرف یہ پوچھا جا رہا ہے کہ عوامی رائے پر منفی اثر کب شروع ہو گا۔
حساب کتاب اب اسٹرٹیجک نہیں، انتخابی ہے۔
جنگ ایک اسٹیج بن چکی ہے — اور ٹرمپ، ایک شو مین کے طور پر، بخوبی جانتا ہے کہ روشنیوں کو کیسے سنبھالنا ہے۔
اسے اس بات کی پروا نہیں کہ ایرانیوں، اسرائیلیوں، فلسطینیوں، تیل کی مارکیٹ، یا شہری انفراسٹرکچر کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
جب تک ”صحیح لوگ“ تالیاں بجاتے رہیں گے، بم گرتے رہیں گے۔</p>
<p>اور دنیا اس کی قیمت چکائے گی — خون سے، عدم استحکام سے، سفارتی تباہی سے۔
تہران کے ہزاروں شہری نقل مکانی کر رہے ہیں۔
خلیج میں انشورنس کی شرحیں بڑھ رہی ہیں۔
عالمی سپلائی چینز لرز رہی ہیں۔
لیکن واشنگٹن بہت آگے نکل چکا ہے کہ پیچھے ہٹ سکے۔</p>
<p>یہ اب ”برِنک مین شپ“  نہیں — یہ ”عیاشی“  بن چکی ہے۔
اور یہی اسے بے حد خطرناک بناتا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>لہٰذا جب ٹرمپ کہتا ہے کہ وہ اسرائیل کی ”مکمل حمایت“ کرے گا، تو وہ استقلال  کا اشارہ نہیں دے رہا — وہ ”اطاعت“  کا پیغام دے رہا ہے — ایسی خارجہ پالیسی کے لیے جو اس کی اپنی بھی نہیں ہے۔
ایسی پالیسی جو اس سے پہلے کی ہے، اس کے بعد بھی رہے گی، اور اب اتنی گہرائی سے امریکی سیاست کے خون میں سرایت کر چکی ہے کہ اسے غیر ملکی کہنا بھی مشکل ہے۔</p>
</blockquote>
<p>اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب کچھ محض ایران کے بارے میں بھی نہیں۔
نہ بیانات، نہ حملے، نہ الٹی میٹمز۔
ایران تو محض کینوس ہے۔
حقیقی موضوع ہے وہ غیر اعلانیہ اتفاقِ رائے  جو واشنگٹن میں پایا جاتا ہے — کہ کوئی قیمت زیادہ نہیں، کوئی جھوٹ بڑا نہیں، اور کوئی ردعمل شدید نہیں — جب تک وفاداری کی مشینری چلتی رہے۔</p>
<p>یہی سب کچھ اب آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے — پوری خبط میں لپٹی شان و شوکت کے ساتھ۔
اور یہی وجہ ہے کہ لیوی کا وہ فحش استعارہ دل پر جا کر لگتا ہے — کیونکہ اب یہ صرف اسرائیل کے خواب کی بات نہیں رہی، یہ امریکہ کی ملی بھگت کی کہانی ہے — اس خواب کو پالیسی میں بدلنے کی، چاہے اس میں کون جل جائے۔</p>
<p>اور جب ٹرمپ مزید آگے بڑھنے کی دھمکی دے رہا ہے — اور واشنگٹن میں کوئی اسے روکنے والا نہیں — تو یہ صرف آغاز ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ایران کا ردعمل شدید رہا ہے — محض علامتی جوابی کارروائی سے کہیں آگے — جس نے نہ صرف پورے خطے کو چونکا دیا ہے بلکہ اسرائیل کو بھی۔
تل ابیب اور حیفہ کے کچھ حصے اب ان تصاویر سے مشابہت رکھتے ہیں جو اسرائیل نے خود غزہ پر اپنے حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کی تھیں۔</p>
<p>اپنے تمام تر تھیٹر اور ڈھٹائی کے باوجود، شاید نیتن یاہو نے بھی اپنے خواب سے ابھرنے والے اتنے ہولناک انجام کا تصور نہ کیا ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273825</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Jun 2025 12:10:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/19104219a103349.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/19104219a103349.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
