<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے معاملے میں ٹرمپ کو حمایتی حلقوں کی تنقید کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273820/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرجوش حامیوں — خاص طور پر ”امریکہ فرسٹ“ نظریے کے حامی ایم اے جی اے گروپ — اور قومی سلامتی کے قدامت پسندوں کے درمیان اسرائیل-ایران تنازع پر شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں، کیونکہ بعض پرانے حامی اب ٹرمپ پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے بڑھتے ہوئے کردار پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارجیا سے ریپریزنٹیٹو ماجوری ٹیلر گرین، معروف مبصر ٹکر کارلسن، اور قدامت پسند رہنما چارلی کرک — جن کے اپنے لاکھوں پیروکار ہیں — اپنے ناظرین کو یاد دلا رہے ہیں کہ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم میں بیرونی جنگوں سے دور رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ یاد دہانی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان مہلک حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور امریکہ کے ممکنہ کردار پر بحث زوروں پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا اور ان کے مقبول نشریاتی پلیٹ فارمز پر ان بااثر شخصیات کی جانب سے ٹرمپ کی پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جو صدر کے قریبی دفاعی حلقے میں دراڑ کا اشارہ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیا جا رہا ہے کہ یہ اختلافات دیگر اہم ترجیحات پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلی کرک نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ اس وقت دائیں بازو میں سب سے بڑا اختلاف خارجہ پالیسی پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ”بہت فکر مند“ ہیں کہ ایم اے جی اے کی صفوں میں یہ گہرا اختلاف ہماری رفتار اور ہماری بے پناہ کامیاب صدارت کو متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ اور فوج نے مشرق وسطیٰ میں کچھ امریکی سفارتی دفاتر سے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کی رضاکارانہ واپسی کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز، صدر ٹرمپ نے کینیڈا میں جاری جی سیون اجلاس کو اچانک چھوڑ دیا اور واشنگٹن واپس آ گئے تاکہ اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ہنگامی مشاورت کر سکیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک  پیغام بھی پوسٹ کیا“سب کو فوراً تہران سے نکل جانا چاہیے!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرجوش حامیوں — خاص طور پر ”امریکہ فرسٹ“ نظریے کے حامی ایم اے جی اے گروپ — اور قومی سلامتی کے قدامت پسندوں کے درمیان اسرائیل-ایران تنازع پر شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں، کیونکہ بعض پرانے حامی اب ٹرمپ پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے بڑھتے ہوئے کردار پر غور کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>جارجیا سے ریپریزنٹیٹو ماجوری ٹیلر گرین، معروف مبصر ٹکر کارلسن، اور قدامت پسند رہنما چارلی کرک — جن کے اپنے لاکھوں پیروکار ہیں — اپنے ناظرین کو یاد دلا رہے ہیں کہ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم میں بیرونی جنگوں سے دور رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ یاد دہانی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان مہلک حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور امریکہ کے ممکنہ کردار پر بحث زوروں پر ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا اور ان کے مقبول نشریاتی پلیٹ فارمز پر ان بااثر شخصیات کی جانب سے ٹرمپ کی پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جو صدر کے قریبی دفاعی حلقے میں دراڑ کا اشارہ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیا جا رہا ہے کہ یہ اختلافات دیگر اہم ترجیحات پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔</p>
<p>چارلی کرک نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ اس وقت دائیں بازو میں سب سے بڑا اختلاف خارجہ پالیسی پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ”بہت فکر مند“ ہیں کہ ایم اے جی اے کی صفوں میں یہ گہرا اختلاف ہماری رفتار اور ہماری بے پناہ کامیاب صدارت کو متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ اور فوج نے مشرق وسطیٰ میں کچھ امریکی سفارتی دفاتر سے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کی رضاکارانہ واپسی کا حکم دیا۔</p>
<p>پیر کے روز، صدر ٹرمپ نے کینیڈا میں جاری جی سیون اجلاس کو اچانک چھوڑ دیا اور واشنگٹن واپس آ گئے تاکہ اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ہنگامی مشاورت کر سکیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک  پیغام بھی پوسٹ کیا“سب کو فوراً تہران سے نکل جانا چاہیے!“</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273820</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Jun 2025 09:22:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مانیٹرنگ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/190920562b5404b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/190920562b5404b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
