<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیشنل ٹیرف پالیسی کا مسودہ جاری،5 سال میں ریگولیٹری و اضافی کسٹمز ڈیوٹیز ختم کرنیکا ہدف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273795/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے بدھ کو ریگولیٹری ریفارمز کانفرنس میں نیشنل ٹیرف پالیسی (2025–30) کا مسودہ پیش کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ آف انویسٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ اس کانفرنس کا مقصد ریگولیٹری اصلاحات میں سادگی، صنعتی مسابقت میں بہتری اور پاکستان کی معاشی سمت کے تعین کے لیے ایک مؤثر حکمتِ عملی پر اعلیٰ سطحی مکالمہ تھا، جس میں وفاقی وزراء، سفارتکاروں اور نجی شعبے کے اہم نمائندے شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے تجارت رانا احسان افضل نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 ایک ایسا مستحکم، شفاف اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے والا ٹیرف نظام تشکیل دینے کے لیے مرتب کی گئی ہے جو کاروباری برادری کو اعتماد اور پیشگی منصوبہ بندی کی سہولت دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا احسان افضل نے پاکستان کے ٹیرف نظام کو معقول بنانے، کاروباری عمل کو آسان بنانے اور برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے پختہ عزم کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ خام مال تک ڈیوٹی فری رسائی کی سہولت، اضافی کسٹمز ڈیوٹی  اور ریگولیٹری ڈیوٹی کے مرحلہ وار خاتمے اور ابھرتی ہوئی و گرین انڈسٹریز کی حمایت کے ذریعے یہ پالیسی جدت، روزگار کے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ٹیرف پالیسی 2025–30 میں جامع اصلاحاتی اہداف طے کیے گئے ہیں، جن کے تحت آئندہ چار سال میں اضافی کسٹمز ڈیوٹیز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا جبکہ پانچ سال کے اندر ریگولیٹری ڈیوٹیز اور ففتھ شیڈول کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ٹیرف ڈھانچے کو آسان بنانے کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کی چار سلیبز (0٪، 5٪، 10٪، 15٪) پر مشتمل نیا اور سادہ نظام متعارف کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ٹیکسٹائل، انجنیئرنگ، فارماسیوٹیکل اور آئی ٹی سمیت اہم شعبوں کو فائدہ پہنچانا ہے، ساتھ ہی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور مجموعی طور پر پیداواری لاگت میں کمی لانا بھی اس کا مرکزی ہدف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا افضل نے بتایا کہ اس پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز تقریباً 7 ہزار ٹیرف لائنز پر شرح میں کمی سے ہوگا جو زیادہ تر خام مال اور درمیانی مصنوعات پر مرکوز ہے جس سے تجارت اور صنعت کو تقریباً 200 ارب روپے کے فوائد حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات پاکستان کی صنعتوں کو ترقی کرنے، عالمی مقابلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور اعلیٰ قدر والے برآمدات کی طرف منتقل ہونے کے قابل بنائیں گی۔ان تبدیلیوں کے ذریعے ہم نہ صرف مضبوط جی ڈی پی کی نمو کی توقع رکھتے ہیں بلکہ روزگار کے مواقع میں اضافہ، صنعتی پیداواری صلاحیت میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار ہارون اختر، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ، سینئر حکام، سفارتکاروں اور نجی شعبے کے اہم رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے بدھ کو ریگولیٹری ریفارمز کانفرنس میں نیشنل ٹیرف پالیسی (2025–30) کا مسودہ پیش کردیا۔</strong></p>
<p>بورڈ آف انویسٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ اس کانفرنس کا مقصد ریگولیٹری اصلاحات میں سادگی، صنعتی مسابقت میں بہتری اور پاکستان کی معاشی سمت کے تعین کے لیے ایک مؤثر حکمتِ عملی پر اعلیٰ سطحی مکالمہ تھا، جس میں وفاقی وزراء، سفارتکاروں اور نجی شعبے کے اہم نمائندے شریک ہوئے۔</p>
<p>وزارتِ تجارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے تجارت رانا احسان افضل نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 ایک ایسا مستحکم، شفاف اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے والا ٹیرف نظام تشکیل دینے کے لیے مرتب کی گئی ہے جو کاروباری برادری کو اعتماد اور پیشگی منصوبہ بندی کی سہولت دے گا۔</p>
<p>رانا احسان افضل نے پاکستان کے ٹیرف نظام کو معقول بنانے، کاروباری عمل کو آسان بنانے اور برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے پختہ عزم کو اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ خام مال تک ڈیوٹی فری رسائی کی سہولت، اضافی کسٹمز ڈیوٹی  اور ریگولیٹری ڈیوٹی کے مرحلہ وار خاتمے اور ابھرتی ہوئی و گرین انڈسٹریز کی حمایت کے ذریعے یہ پالیسی جدت، روزگار کے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار کرے گی۔</p>
<p>نیشنل ٹیرف پالیسی 2025–30 میں جامع اصلاحاتی اہداف طے کیے گئے ہیں، جن کے تحت آئندہ چار سال میں اضافی کسٹمز ڈیوٹیز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا جبکہ پانچ سال کے اندر ریگولیٹری ڈیوٹیز اور ففتھ شیڈول کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ٹیرف ڈھانچے کو آسان بنانے کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کی چار سلیبز (0٪، 5٪، 10٪، 15٪) پر مشتمل نیا اور سادہ نظام متعارف کرایا جائے گا۔</p>
<p>وزارت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ٹیکسٹائل، انجنیئرنگ، فارماسیوٹیکل اور آئی ٹی سمیت اہم شعبوں کو فائدہ پہنچانا ہے، ساتھ ہی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور مجموعی طور پر پیداواری لاگت میں کمی لانا بھی اس کا مرکزی ہدف ہے۔</p>
<p>رانا افضل نے بتایا کہ اس پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز تقریباً 7 ہزار ٹیرف لائنز پر شرح میں کمی سے ہوگا جو زیادہ تر خام مال اور درمیانی مصنوعات پر مرکوز ہے جس سے تجارت اور صنعت کو تقریباً 200 ارب روپے کے فوائد حاصل ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات پاکستان کی صنعتوں کو ترقی کرنے، عالمی مقابلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور اعلیٰ قدر والے برآمدات کی طرف منتقل ہونے کے قابل بنائیں گی۔ان تبدیلیوں کے ذریعے ہم نہ صرف مضبوط جی ڈی پی کی نمو کی توقع رکھتے ہیں بلکہ روزگار کے مواقع میں اضافہ، صنعتی پیداواری صلاحیت میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>کانفرنس میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار ہارون اختر، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ، سینئر حکام، سفارتکاروں اور نجی شعبے کے اہم رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273795</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Jun 2025 14:48:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/181440362a159ee.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/181440362a159ee.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
