<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا اسرائیل کیخلاف ہائپر سونک میزائل استعمال کرنے کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273793/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران  نے اسرائیل پر بدھ کی صبح ہائپر سونک میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کارروائی اُس وقت کی گئی جب چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کی بمباری مہم میں براہِ راست شریک نہیں، تاہم انہوں نے ایران کو سخت تنبیہ کی ہے کہ جیسے جیسے تنازع  بڑھ رہا ہے اُن کے صبر کی حد ختم ہوتی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی جنگی طیاروں نے بدھ کی صبح فجر سے قبل ایرانی دارالحکومت کو نشانہ بنایا۔ قبل ازیں فوج نے شہریوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت ایک ضلع خالی کرنے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس نے تہران میں اسلحہ سازی کے مراکز اور سینٹری فیوجز بنانے کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران نے تل ابیب کے رہائشیوں کو ممکنہ حملے کے لیے خبردار کیا جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کے ہائپرسونک فتح-1 میزائل مسلسل شہر کی پناہ گاہوں کو لرزا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ فخر سے بھرپور آپریشن وعدہ صادق سوم کی 11ویں لہر فتح-1 میزائلوں کے ذریعے انجام دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائپرسانک میزائل ایسی رفتار سے سفر کرتے ہیں جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے، اور یہ پرواز کے دوران راستہ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ریڈار پر پکڑنا اور دفاعی نظام کے ذریعے روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اسرائیل پر حملے کے لیے بڑی تعداد میں ڈرون بھیجے جن میں سے دو کو اسرائیلی فوج نے فضا میں ہی تباہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی طاقتیں کشیدگی میں کمی کی راہ تلاش کر رہی ہیں تاکہ یہ تنازع پورے خطے کو لپیٹ میں لینے والی جنگ میں نہ بدل جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کی شب ایرانی ہم منصب اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو میں مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے سفارتی حل پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا میں جی 7 اجلاس کے دوران جب رکن ممالک نے مشترکہ طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا، تو ٹرمپ کی اچانک واپسی نے امریکی مداخلت کے امکانات پر قیاس آرائیاں مزید تیز کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو واشنگٹن واپسی پر صدر ٹرمپ نے ایران سے غیرمشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا باآسانی ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ہم جانتے ہیں کہ نام نہاد ’سپریم لیڈر کہاں چھپا ہوا ہے۔ وہ ایک آسان ہدف ہے لیکن وہاں محفوظ ہے — ہم فی الحال اسے ہٹانے  کا ارادہ نہیں رکھتے، کم از کم ابھی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی جو ایک گھنٹہ 20 منٹ جاری رہا، تاہم اجلاس کے بعد فوری طور پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وہ بارہا مشرق وسطیٰ کی  جنگ سے دور رہنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے جنگی بحری جہاز یو ایس ایس نیمٹز اور متعدد امریکی فوجی طیارے خطے کی طرف روانہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر نے ابھی کسی عسکری مداخلت سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران  نے اسرائیل پر بدھ کی صبح ہائپر سونک میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کارروائی اُس وقت کی گئی جب چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔</strong></p>
<p>امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کی بمباری مہم میں براہِ راست شریک نہیں، تاہم انہوں نے ایران کو سخت تنبیہ کی ہے کہ جیسے جیسے تنازع  بڑھ رہا ہے اُن کے صبر کی حد ختم ہوتی جارہی ہے۔</p>
<p>اسرائیلی جنگی طیاروں نے بدھ کی صبح فجر سے قبل ایرانی دارالحکومت کو نشانہ بنایا۔ قبل ازیں فوج نے شہریوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت ایک ضلع خالی کرنے کی ہدایت کی تھی۔</p>
<p>بعدازاں اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس نے تہران میں اسلحہ سازی کے مراکز اور سینٹری فیوجز بنانے کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>ادھر ایران نے تل ابیب کے رہائشیوں کو ممکنہ حملے کے لیے خبردار کیا جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کے ہائپرسونک فتح-1 میزائل مسلسل شہر کی پناہ گاہوں کو لرزا رہے ہیں۔</p>
<p>سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ فخر سے بھرپور آپریشن وعدہ صادق سوم کی 11ویں لہر فتح-1 میزائلوں کے ذریعے انجام دی گئی۔</p>
<p>ہائپرسانک میزائل ایسی رفتار سے سفر کرتے ہیں جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے، اور یہ پرواز کے دوران راستہ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ریڈار پر پکڑنا اور دفاعی نظام کے ذریعے روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ایران نے اسرائیل پر حملے کے لیے بڑی تعداد میں ڈرون بھیجے جن میں سے دو کو اسرائیلی فوج نے فضا میں ہی تباہ کردیا۔</p>
<p>عالمی طاقتیں کشیدگی میں کمی کی راہ تلاش کر رہی ہیں تاکہ یہ تنازع پورے خطے کو لپیٹ میں لینے والی جنگ میں نہ بدل جائے۔</p>
<p>منگل کی شب ایرانی ہم منصب اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو میں مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے سفارتی حل پر زور دیا۔</p>
<p>کینیڈا میں جی 7 اجلاس کے دوران جب رکن ممالک نے مشترکہ طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا، تو ٹرمپ کی اچانک واپسی نے امریکی مداخلت کے امکانات پر قیاس آرائیاں مزید تیز کر دیں۔</p>
<p>منگل کو واشنگٹن واپسی پر صدر ٹرمپ نے ایران سے غیرمشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا باآسانی ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرسکتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ہم جانتے ہیں کہ نام نہاد ’سپریم لیڈر کہاں چھپا ہوا ہے۔ وہ ایک آسان ہدف ہے لیکن وہاں محفوظ ہے — ہم فی الحال اسے ہٹانے  کا ارادہ نہیں رکھتے، کم از کم ابھی نہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی جو ایک گھنٹہ 20 منٹ جاری رہا، تاہم اجلاس کے بعد فوری طور پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اگرچہ وہ بارہا مشرق وسطیٰ کی  جنگ سے دور رہنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے جنگی بحری جہاز یو ایس ایس نیمٹز اور متعدد امریکی فوجی طیارے خطے کی طرف روانہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔</p>
<p>امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر نے ابھی کسی عسکری مداخلت سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273793</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Jun 2025 13:53:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/18135102a011a9c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/18135102a011a9c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
