<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 06:17:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 06:17:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے 5 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273789/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیبیا کے ساحل سے متصل طرابلس کے علاقے الشاب بندرگاہ کے قریب کشتی ڈوبنے کے واقعے میں کم از کم 5 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ مہاجرت(آئی او ایم ) کے مطابق  لیبیا کے ساحل کے قریب دو کشتیوں کے حادثات کے بعد کم از کم 60 پناہ گزینوں کے لاپتہ اور سمندر میں ڈوبنے کا خدشہ ہے جب کہ 6 افراد ان حادثات میں زندہ بچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے ادارے کے ریجنل ڈائریکٹر اوتھمان بیلبیسی نے کہا ہے کہ ان واقعات میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ ادارے کی ٹیمیں لوگوں کی تلاش اور انہیں بچانے کے لیے کوشاں ہیں جب کہ زندہ بچ جانے والے لوگوں کو ساحل پر ہنگامی طبی مدد فراہم کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر مدد فراہم کرے اور حادثے میں بچ جانے والے مسافروں کو محفوظ اور قابل بھروسہ طور سے اپنے علاقوں میں واپسی کی ضمانت دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق 12 جون کو لیبیا میں طرابلس کی بندرگاہ الشاب کے قریب ایک کشتی الٹنے سے 21 افراد لاپتہ ہو گئے تھے جبکہ پانچ افراد کو بچا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاپتہ ہونے والوں میں چھ اریٹریا، پانچ پاکستان، چار مصر اور دو سوڈان سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ چار افراد کی شناخت نہیں ہوسکی۔ اریٹریا کے متاثرین میں تین خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی او ایم نے مزید بتایا کہ دوسرا افسوسناک واقعہ 13 جون کو طبروق سے تقریباً 35 کلومیٹر مغرب میں پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں بچ جانے والے واحد شخص نے بتایا کہ کشتی پر سوار دیگر 39 افراد سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔ گزشتہ چند روز میں تین لاشیں بہہ کر ساحل پر آئی ہیں جن کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کم از کم 743 افراد افریقہ سے کشتیوں کے ذریعے بحیرہ روم کا ساحل عبور کرنے کی کوششوں میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 538 ہلاکتیں وسطی بحیرہ روم کے راستے پر ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دنیا میں مہاجرت کا خطرناک ترین راستہ سمجھا جاتا ہے جسے اسمگلر بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہاں حادثات کی صورت میں لوگوں کو تحفظ مہیا کرنے کی گنجائش محدو ہوتی ہے جبکہ امدادی کاموں میں رکاوٹیں بڑھتی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 12 اپریل کو مشرقی لیبیا کے شہر سرت کے قریب حراوہ کے ساحل کے نزدیک کشتی الٹنے کے واقعے میں 4  پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہبازشریف نے انسانی اسمگلنگ کے خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف بھرپور کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے اُن نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گے جو تشویشناک آزادی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لیبیا کے ساحل سے متصل طرابلس کے علاقے الشاب بندرگاہ کے قریب کشتی ڈوبنے کے واقعے میں کم از کم 5 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے۔</strong></p>
<p>عالمی ادارہ مہاجرت(آئی او ایم ) کے مطابق  لیبیا کے ساحل کے قریب دو کشتیوں کے حادثات کے بعد کم از کم 60 پناہ گزینوں کے لاپتہ اور سمندر میں ڈوبنے کا خدشہ ہے جب کہ 6 افراد ان حادثات میں زندہ بچ گئے۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے ادارے کے ریجنل ڈائریکٹر اوتھمان بیلبیسی نے کہا ہے کہ ان واقعات میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ ادارے کی ٹیمیں لوگوں کی تلاش اور انہیں بچانے کے لیے کوشاں ہیں جب کہ زندہ بچ جانے والے لوگوں کو ساحل پر ہنگامی طبی مدد فراہم کی جارہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر مدد فراہم کرے اور حادثے میں بچ جانے والے مسافروں کو محفوظ اور قابل بھروسہ طور سے اپنے علاقوں میں واپسی کی ضمانت دے۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق 12 جون کو لیبیا میں طرابلس کی بندرگاہ الشاب کے قریب ایک کشتی الٹنے سے 21 افراد لاپتہ ہو گئے تھے جبکہ پانچ افراد کو بچا لیا گیا۔</p>
<p>لاپتہ ہونے والوں میں چھ اریٹریا، پانچ پاکستان، چار مصر اور دو سوڈان سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ چار افراد کی شناخت نہیں ہوسکی۔ اریٹریا کے متاثرین میں تین خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔</p>
<p>آئی او ایم نے مزید بتایا کہ دوسرا افسوسناک واقعہ 13 جون کو طبروق سے تقریباً 35 کلومیٹر مغرب میں پیش آیا۔</p>
<p>اس میں بچ جانے والے واحد شخص نے بتایا کہ کشتی پر سوار دیگر 39 افراد سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔ گزشتہ چند روز میں تین لاشیں بہہ کر ساحل پر آئی ہیں جن کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p>رواں سال کم از کم 743 افراد افریقہ سے کشتیوں کے ذریعے بحیرہ روم کا ساحل عبور کرنے کی کوششوں میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 538 ہلاکتیں وسطی بحیرہ روم کے راستے پر ہوئیں۔</p>
<p>یہ دنیا میں مہاجرت کا خطرناک ترین راستہ سمجھا جاتا ہے جسے اسمگلر بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہاں حادثات کی صورت میں لوگوں کو تحفظ مہیا کرنے کی گنجائش محدو ہوتی ہے جبکہ امدادی کاموں میں رکاوٹیں بڑھتی جا رہی ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ 12 اپریل کو مشرقی لیبیا کے شہر سرت کے قریب حراوہ کے ساحل کے نزدیک کشتی الٹنے کے واقعے میں 4  پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔</p>
<p>وزیراعظم شہبازشریف نے انسانی اسمگلنگ کے خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف بھرپور کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے اُن نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گے جو تشویشناک آزادی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273789</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Jun 2025 11:54:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/1811522421a60ab.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/1811522421a60ab.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
