<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: انتظامیہ سے پائلٹس کی ٹریننگ، فلائٹ آپریشن آفیسر کی تفصیلات طلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273777/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے ہوابازی کے نگران ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے گزشتہ ہفتے پیش آنے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایئر انڈیا سے پائلٹس کی ٹریننگ اور تباہ ہونے والے طیارے کے فلائٹ آپریشن آفیسر کے ریکارڈز طلب کرلیے ہیں۔ اس حادثے میں کم از کم 271 افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی سی اے نے تمام فلائنگ اسکولز کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی تربیتی تقاضوں  کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ یہ ہدایات رائٹرز کو حاصل ہونے والے خفیہ میموز میں درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگران ادارے کا کہنا ہے کہ یہ معلومات ایک ”ریگولیٹری جائزے“ کا حصہ ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں ایئر انڈیا پر کیے گئے آڈٹس کے بعد ادارے نے کیا عملی اقدامات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی سی اے نے ہدایت کی ہے کہ تمام تفصیلات پیر تک فراہم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایئر انڈیا نے ان ہدایات پر عمل کیا ہے یا نہیں۔ ایئر لائن اور ڈی جی سی اے دونوں نے رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کا شکار ہونے والا بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر لندن جا رہا تھا اور اس پر 242 افراد سوار تھے۔ طیارہ جمعرات کو احمد آباد سے پرواز کے چند لمحے بعد ہی کنٹرول کھو بیٹھا اور قریبی عمارت سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے میں موجود تمام مسافر، سوائے ایک کے، ہلاک ہو گئے جبکہ ہوسٹل کے اندر موجود تقریباً 30 افراد بھی حادثے میں مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے کے کمانڈر پائلٹ سمت سبھروال تھے، جنہیں بھارتی حکومت کے مطابق 8,200 گھنٹے پرواز کا تجربہ حاصل تھا اور وہ ایئر انڈیا کے انسٹرکٹر پائلٹ بھی تھے۔ ان کے ساتھ معاون پائلٹ کلیو کونڈر تھے، جن کے پاس 1,100 گھنٹے کا تجربہ تھا۔
سمت سبھروال کی تدفین منگل کے روز ممبئی میں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میمو میں مطلوبہ دستاویزات کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی گئی، تاہم عمومی طور پر حادثات کی تحقیقات میں عملے کی تربیت، اہلیت، پروازوں کا ریکارڈ، طبی رپورٹس اور ان کے خلاف ماضی میں کیے گئے کسی بھی تادیبی اقدام کا جائزہ لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میمو میں ایئر انڈیا کی آپریشنز سے متعلق کوئی خاص تشویش ظاہر نہیں کی گئی اور بعض معلوماتی تقاضے تو ایسے ہیں جو کسی بھی بڑے حادثے کے بعد معمول کے مطابق طلب کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسپیچر زمینی سطح پر کام کرنے والے ڈی جی سی اے سے سند یافتہ ایئر لائن ملازمین ہوتے ہیں جن کی ذمہ داریوں میں پرواز کی منصوبہ بندی، موسم اور فضائی حدود کا جائزہ اور پائلٹس سے ہم آہنگی شامل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پائلٹس کی تربیت سے متعلق معلومات کی درخواست ڈی جی سی اے کی طرف سے کی گئی ہے مگر اس حادثے کی تحقیقات ایوی ایشن منسٹری کے ماتحت ”ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو“ انجام دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر انڈیا کے چیئرمین این چندر شیکرن نے پیر کے روز عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ایئر لائن کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ایک محرک بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی سی اے نے ایک علیحدہ میمو (16 جون کو جاری) کے ذریعے ملک بھر کے فلائنگ اسکولز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اضافی حفاظتی اور عملی اقدامات کو سختی سے اپنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ انسٹرکٹرز کو تربیت، طیاروں کی دیکھ بھال، لائسنسنگ سے متعلق ضوابط کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانا ہوگا اور قریبی ایئرپورٹس کے ساتھ پرواز کے منصوبے پہلے سے مربوط کرنے ہوں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی سی اے کے شعبہ ”ڈائریکٹوریٹ آف فلائنگ ٹریننگ“ کی جانب سے جاری میمو میں کہا گیا کہ ان ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ آڈٹس یا نگرانی کے دوران لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بوئنگ کمرشل ایئرپلینز کی سربراہ اسٹیفنی پوپ نے پیر کو دہلی کے نزدیک ایئر انڈیا کے صدر دفتر کا دورہ کیا اور چیئرمین چندر شیکرن سے حادثے سے متعلق گفتگو کی، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حادثہ ایئر انڈیا کے لیے ایک نئی آزمائش بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹاٹا گروپ، جس نے 2022 میں ایئر انڈیا کو خریدا تھا، اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بوئنگ بھی مسلسل حفاظتی اور پیداواری بحرانوں کے بعد عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوششوں میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو موصولہ 13 جون کے ایک میمو کے مطابق، حکومت کے زیر انتظام تمام ہوائی اڈوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 30 جون کو ایک مکمل ہنگامی مشق کا انعقاد کریں، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی تیاری کو جانچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے ہوابازی کے نگران ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے گزشتہ ہفتے پیش آنے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں ایئر انڈیا سے پائلٹس کی ٹریننگ اور تباہ ہونے والے طیارے کے فلائٹ آپریشن آفیسر کے ریکارڈز طلب کرلیے ہیں۔ اس حادثے میں کم از کم 271 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</strong></p>
<p>ڈی جی سی اے نے تمام فلائنگ اسکولز کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی تربیتی تقاضوں  کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ یہ ہدایات رائٹرز کو حاصل ہونے والے خفیہ میموز میں درج ہیں۔</p>
<p>نگران ادارے کا کہنا ہے کہ یہ معلومات ایک ”ریگولیٹری جائزے“ کا حصہ ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں ایئر انڈیا پر کیے گئے آڈٹس کے بعد ادارے نے کیا عملی اقدامات کیے۔</p>
<p>ڈی جی سی اے نے ہدایت کی ہے کہ تمام تفصیلات پیر تک فراہم کی جائیں۔</p>
<p>تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایئر انڈیا نے ان ہدایات پر عمل کیا ہے یا نہیں۔ ایئر لائن اور ڈی جی سی اے دونوں نے رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>حادثے کا شکار ہونے والا بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر لندن جا رہا تھا اور اس پر 242 افراد سوار تھے۔ طیارہ جمعرات کو احمد آباد سے پرواز کے چند لمحے بعد ہی کنٹرول کھو بیٹھا اور قریبی عمارت سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔</p>
<p>طیارے میں موجود تمام مسافر، سوائے ایک کے، ہلاک ہو گئے جبکہ ہوسٹل کے اندر موجود تقریباً 30 افراد بھی حادثے میں مارے گئے۔</p>
<p>طیارے کے کمانڈر پائلٹ سمت سبھروال تھے، جنہیں بھارتی حکومت کے مطابق 8,200 گھنٹے پرواز کا تجربہ حاصل تھا اور وہ ایئر انڈیا کے انسٹرکٹر پائلٹ بھی تھے۔ ان کے ساتھ معاون پائلٹ کلیو کونڈر تھے، جن کے پاس 1,100 گھنٹے کا تجربہ تھا۔
سمت سبھروال کی تدفین منگل کے روز ممبئی میں ہوئی۔</p>
<p>میمو میں مطلوبہ دستاویزات کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی گئی، تاہم عمومی طور پر حادثات کی تحقیقات میں عملے کی تربیت، اہلیت، پروازوں کا ریکارڈ، طبی رپورٹس اور ان کے خلاف ماضی میں کیے گئے کسی بھی تادیبی اقدام کا جائزہ لیا جاتا ہے۔</p>
<p>میمو میں ایئر انڈیا کی آپریشنز سے متعلق کوئی خاص تشویش ظاہر نہیں کی گئی اور بعض معلوماتی تقاضے تو ایسے ہیں جو کسی بھی بڑے حادثے کے بعد معمول کے مطابق طلب کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>ڈسپیچر زمینی سطح پر کام کرنے والے ڈی جی سی اے سے سند یافتہ ایئر لائن ملازمین ہوتے ہیں جن کی ذمہ داریوں میں پرواز کی منصوبہ بندی، موسم اور فضائی حدود کا جائزہ اور پائلٹس سے ہم آہنگی شامل ہوتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ پائلٹس کی تربیت سے متعلق معلومات کی درخواست ڈی جی سی اے کی طرف سے کی گئی ہے مگر اس حادثے کی تحقیقات ایوی ایشن منسٹری کے ماتحت ”ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو“ انجام دے رہا ہے۔</p>
<p>ایئر انڈیا کے چیئرمین این چندر شیکرن نے پیر کے روز عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ایئر لائن کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ایک محرک بننا چاہیے۔</p>
<p>ڈی جی سی اے نے ایک علیحدہ میمو (16 جون کو جاری) کے ذریعے ملک بھر کے فلائنگ اسکولز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اضافی حفاظتی اور عملی اقدامات کو سختی سے اپنائیں۔</p>
<p>ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ انسٹرکٹرز کو تربیت، طیاروں کی دیکھ بھال، لائسنسنگ سے متعلق ضوابط کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانا ہوگا اور قریبی ایئرپورٹس کے ساتھ پرواز کے منصوبے پہلے سے مربوط کرنے ہوں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔</p>
<p>ڈی جی سی اے کے شعبہ ”ڈائریکٹوریٹ آف فلائنگ ٹریننگ“ کی جانب سے جاری میمو میں کہا گیا کہ ان ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ آڈٹس یا نگرانی کے دوران لیا جائے گا۔</p>
<p>ادھر بوئنگ کمرشل ایئرپلینز کی سربراہ اسٹیفنی پوپ نے پیر کو دہلی کے نزدیک ایئر انڈیا کے صدر دفتر کا دورہ کیا اور چیئرمین چندر شیکرن سے حادثے سے متعلق گفتگو کی، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔</p>
<p>یہ حادثہ ایئر انڈیا کے لیے ایک نئی آزمائش بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹاٹا گروپ، جس نے 2022 میں ایئر انڈیا کو خریدا تھا، اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>ادھر بوئنگ بھی مسلسل حفاظتی اور پیداواری بحرانوں کے بعد عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوششوں میں ہے۔</p>
<p>رائٹرز کو موصولہ 13 جون کے ایک میمو کے مطابق، حکومت کے زیر انتظام تمام ہوائی اڈوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 30 جون کو ایک مکمل ہنگامی مشق کا انعقاد کریں، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی تیاری کو جانچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273777</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Jun 2025 19:20:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/17191938e16fd9e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/17191938e16fd9e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
