<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کا ٹرمپ پر ایران، اسرائیل تنازع پر تیل چھڑکنے کا الزام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273776/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے تہران کے شہریوں کو ”فوری طور پر انخلا“ کی وارننگ جاری کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط دشمنی اور پس پردہ طویل سرد جنگ کے بعد اسرائیل نے گزشتہ ہفتے ایران کے مختلف اہداف پر اچانک فضائی حملے شروع کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے — جس کی تردید تہران بارہا کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اچانک شدت آنے سے بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات اٹھے ہیں۔ اسرائیلی حملوں کے بعد جاری جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں جس پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک غیر معمولی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سب کو فوراً تہران سے انخلا کر لینا چاہیے!۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گُو جیاکُن نے کہا کہ آگ بھڑکانے، تیل چھڑکنے، دھمکیاں دینے اور دباؤ ڈالنے سے صورتحال حل  نہیں ہوگی تاہم یہ تنازع کو مزید شدید اور وسیع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ چین تمام متعلقہ فریقین، خصوصاً اُن ممالک سے جو اسرائیل پر خصوصی اثر رکھتے ہیں، مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، فوری اقدامات کریں تاکہ کشیدگی کم ہو سکے اور اس تنازع کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر منگل کے روز اسرائیل میں موجود چینی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے، ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید حملوں کا تبادلہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت خانے نے وی چیٹ پر جاری بیان میں کہا کہ اسرائیل میں موجود چینی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ذاتی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے زمینی سرحدی راستوں سے جلد از جلد ملک چھوڑ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت خانے نے مزید کہا کہ شہریوں کو اردن کی سمت روانگی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت خانے نے خبردار کیا کہ تنازع مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ بہت سا سول انفرااسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور سیکورٹی کی صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے تہران کے شہریوں کو ”فوری طور پر انخلا“ کی وارننگ جاری کی۔</strong></p>
<p>ایران اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط دشمنی اور پس پردہ طویل سرد جنگ کے بعد اسرائیل نے گزشتہ ہفتے ایران کے مختلف اہداف پر اچانک فضائی حملے شروع کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے — جس کی تردید تہران بارہا کر چکا ہے۔</p>
<p>ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اچانک شدت آنے سے بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات اٹھے ہیں۔ اسرائیلی حملوں کے بعد جاری جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں جس پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک غیر معمولی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سب کو فوراً تہران سے انخلا کر لینا چاہیے!۔</p>
<p>اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گُو جیاکُن نے کہا کہ آگ بھڑکانے، تیل چھڑکنے، دھمکیاں دینے اور دباؤ ڈالنے سے صورتحال حل  نہیں ہوگی تاہم یہ تنازع کو مزید شدید اور وسیع کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ چین تمام متعلقہ فریقین، خصوصاً اُن ممالک سے جو اسرائیل پر خصوصی اثر رکھتے ہیں، مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، فوری اقدامات کریں تاکہ کشیدگی کم ہو سکے اور اس تنازع کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔</p>
<p>ادھر منگل کے روز اسرائیل میں موجود چینی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے، ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید حملوں کا تبادلہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>سفارت خانے نے وی چیٹ پر جاری بیان میں کہا کہ اسرائیل میں موجود چینی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ذاتی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے زمینی سرحدی راستوں سے جلد از جلد ملک چھوڑ دیں۔</p>
<p>سفارت خانے نے مزید کہا کہ شہریوں کو اردن کی سمت روانگی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔</p>
<p>سفارت خانے نے خبردار کیا کہ تنازع مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ بہت سا سول انفرااسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور سیکورٹی کی صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273776</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Jun 2025 17:14:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/17171019b97c675.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="423" width="752">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/17171019b97c675.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
