<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمد کنندگان کا ویلیو ایڈڈ انڈسٹری بچانے کیلئے ایف ٹی آر ختم اور ای ایف ایس بحال کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273773/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی 11 ارب ڈالر مالیت کی یونائیٹڈ ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹ انڈسٹری،  جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ فراہم کرتی ہے، نے وزیر اعظم شہباز شریف سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ صنعت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ بجٹ اقدامات اس نازک وقت میں برآمدی شعبے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر جی ایم ای اے) نے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے)، اسپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایس جی ایم ای اے)، پاکستان لیذر گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایل جی ایم ای اے)، سرجیکل انسٹرومنٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ایس آئی ایم اے پی)، پی جی ایم ای اے، پی سی ایس یو ایم ای اے اور سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) سمیت دیگر برآمدی تنظیموں کے تعاون سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں وزیر اعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فائنل ٹیکس ریجیم (ایف ٹی آر) کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اپیل کی حمایت معروف صنعت کاروں نے کی، جن میں پی آر جی ایم ای اے کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ایاز الدین، سابق چیئرمین سہیل اے شیخ، ایس سی سی آئی کے صدر اکرام الحق، پی ایس جی ایم ای اے کے چیئرمین خواجہ مسعود اختر (جن کی کمپنی کے بنائے گئے فٹبالز فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوتے ہیں)، ایس آئی ایم پی کے چیئرمین ذیشان طارق، پی ایل جی ایم ای اے کے چیئرمین سید احتشام مظہر، پی ایچ ایم اے کے چیئرمین عبد الحمید، پی جی ایم ای اے کے چیئرمین انس راحیل برلاس، پی سی ایس یو ایم ای اے کے چیئرمین محمد جمال بھٹہ، مجید بھٹہ، انصار عزیز پوری، شیخ لقمان امین اور دیگر ممتاز برآمد کنندگان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت کی ”ایکسپورٹ لیڈ گروتھ“ کی پالیسی کے دعوے کے برعکس زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے ”ایکسپورٹ“ کا لفظ صرف ایک مرتبہ استعمال کیا، وہ بھی منفی انداز میں، جب انہوں نے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے تحت درآمدی یارن پر ڈیوٹی لگائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی تنظیموں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ بجٹ کی منظوری سے قبل فوری طور پر تمام بڑی برآمدی تنظیموں اور سیالکوٹ چیمبر کے ساتھ ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کا سب سے قابلِ اعتماد زرمبادلہ کمانے والا شعبہ ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی تنظیموں نے واضح کیا کہ وہ کسی سبسڈی، رعایت یا خصوصی سلوک کا مطالبہ نہیں کر رہیں، بلکہ صرف عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے لیے مساوی مواقع کی خواہش مند ہیں۔ مگر موجودہ پالیسیوں نے کاروبار کی لاگت کو بہت بڑھا دیا ہے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو شدید متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی خریدار پاکستان میں طویل المدتی پالیسی استحکام اور ای ایف ایس کے واضح فریم ورک کی تلاش میں ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب چین سے منتقل ہونے والے کاروبار کے لیے پاکستان ایک اسٹریٹجک مقام رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان نے کہا کہ ایف ٹی آر کے خاتمے اور ای ایف ایس کے بگاڑ نے انڈسٹری میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایف ٹی آر ایک سادہ اور قابلِ پیشگوئی ٹیکس نظام تھا، جسے اب پیچیدہ طریقہ کار، آڈٹ اور ریفنڈ مسائل سے بدل دیا گیا ہے، جو خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان (ایس ایم ایز) کو نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ای ایف ایس کو غیر ضروری شرائط سے محدود کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اہم خام مال تک رسائی مشکل ہو گئی ہے اور پاکستان کی برآمدی مسابقت کمزور ہو گئی ہے۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان روایتی کپاس سے آگے بڑھے اور ویلیو ایڈڈ اپیرل برآمدات میں جدت پر مبنی، متنوع حکمت عملی اپنائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی 11 ارب ڈالر مالیت کی یونائیٹڈ ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹ انڈسٹری،  جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ فراہم کرتی ہے، نے وزیر اعظم شہباز شریف سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ صنعت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ بجٹ اقدامات اس نازک وقت میں برآمدی شعبے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر جی ایم ای اے) نے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے)، اسپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایس جی ایم ای اے)، پاکستان لیذر گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایل جی ایم ای اے)، سرجیکل انسٹرومنٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ایس آئی ایم اے پی)، پی جی ایم ای اے، پی سی ایس یو ایم ای اے اور سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) سمیت دیگر برآمدی تنظیموں کے تعاون سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں وزیر اعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فائنل ٹیکس ریجیم (ایف ٹی آر) کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے۔</p>
<p>اس اپیل کی حمایت معروف صنعت کاروں نے کی، جن میں پی آر جی ایم ای اے کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ایاز الدین، سابق چیئرمین سہیل اے شیخ، ایس سی سی آئی کے صدر اکرام الحق، پی ایس جی ایم ای اے کے چیئرمین خواجہ مسعود اختر (جن کی کمپنی کے بنائے گئے فٹبالز فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہوتے ہیں)، ایس آئی ایم پی کے چیئرمین ذیشان طارق، پی ایل جی ایم ای اے کے چیئرمین سید احتشام مظہر، پی ایچ ایم اے کے چیئرمین عبد الحمید، پی جی ایم ای اے کے چیئرمین انس راحیل برلاس، پی سی ایس یو ایم ای اے کے چیئرمین محمد جمال بھٹہ، مجید بھٹہ، انصار عزیز پوری، شیخ لقمان امین اور دیگر ممتاز برآمد کنندگان شامل ہیں۔</p>
<p>تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت کی ”ایکسپورٹ لیڈ گروتھ“ کی پالیسی کے دعوے کے برعکس زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے ”ایکسپورٹ“ کا لفظ صرف ایک مرتبہ استعمال کیا، وہ بھی منفی انداز میں، جب انہوں نے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے تحت درآمدی یارن پر ڈیوٹی لگائی۔</p>
<p>برآمدی تنظیموں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ بجٹ کی منظوری سے قبل فوری طور پر تمام بڑی برآمدی تنظیموں اور سیالکوٹ چیمبر کے ساتھ ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کا سب سے قابلِ اعتماد زرمبادلہ کمانے والا شعبہ ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو جائے گا۔</p>
<p>برآمدی تنظیموں نے واضح کیا کہ وہ کسی سبسڈی، رعایت یا خصوصی سلوک کا مطالبہ نہیں کر رہیں، بلکہ صرف عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے لیے مساوی مواقع کی خواہش مند ہیں۔ مگر موجودہ پالیسیوں نے کاروبار کی لاگت کو بہت بڑھا دیا ہے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو شدید متاثر کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی خریدار پاکستان میں طویل المدتی پالیسی استحکام اور ای ایف ایس کے واضح فریم ورک کی تلاش میں ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب چین سے منتقل ہونے والے کاروبار کے لیے پاکستان ایک اسٹریٹجک مقام رکھتا ہے۔</p>
<p>برآمد کنندگان نے کہا کہ ایف ٹی آر کے خاتمے اور ای ایف ایس کے بگاڑ نے انڈسٹری میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایف ٹی آر ایک سادہ اور قابلِ پیشگوئی ٹیکس نظام تھا، جسے اب پیچیدہ طریقہ کار، آڈٹ اور ریفنڈ مسائل سے بدل دیا گیا ہے، جو خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان (ایس ایم ایز) کو نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ای ایف ایس کو غیر ضروری شرائط سے محدود کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اہم خام مال تک رسائی مشکل ہو گئی ہے اور پاکستان کی برآمدی مسابقت کمزور ہو گئی ہے۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان روایتی کپاس سے آگے بڑھے اور ویلیو ایڈڈ اپیرل برآمدات میں جدت پر مبنی، متنوع حکمت عملی اپنائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273773</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Jun 2025 16:05:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/17160007066a2f6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/17160007066a2f6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
